1 سمسون اور دَلیلہ پِھر سمِسون غزّہ کو گیا۔ وہاں اُس نے ایک کسبی عورت دیکھی۔ تو اُس کے پاس اندر گیا۔ 2 اَور غزّہ کے لوگوں سے کہا گیا۔ کہ سمِسون یہاں پر ہَے تو اُنہوں نے اُسے گھیر لِیا۔ اَور شہر کے دروازہ پر گھات میں رہے اَور تمام رات خاموش رہے۔ اَور اُنہوں نے کہا۔ کہ صُبح کی روشنی ہوتے ہی ہم اُسے قتل کردیں گے۔ 3 اَور سمِسون آدھی رات تک سویا۔ اَور آدھی رات کو اُٹھا۔ اَور شہر کے پھاٹک کے کواڑوں کو اُن کے بازوُﺅں اَور بنیڈوں سمیت اُکھاڑ لِیا۔ اَور اپنے کندھے پر اُٹھا کر اُس پہاڑ کی چوٹی پر جو حبِرون کے سامنے ہے، چڑھ گیا۔ 4 بعد اِس کے ایسا ہُوا۔ کہ وہ وادی سورق میں ایک عورت پر عاشِق ہُوا۔ جس کا نام دَلیلہ تھا۔ 5 اَور فِلستیوں کے سردار اُس عورت کے پاس چڑھ آئے۔ اَور اُس سے کہا۔ کہ تُو اُسے پُھسلا اَور معلُوم کر۔ کہ اُس کی ایسی بڑی قُوّت کِس چیز سے ہَے۔ اَورکِس طرح ہم اُس پر غالِب آئیں۔ کہ اُسے باندھیں اَور اُسے عاجِز کریں۔ تو ہم میں سے ہر ایک تُجھے گیارہ سَو مِثقال چاندی دے گا۔ 6 تب دَلیلہ نے سمِسون سے کہا۔ مُجھے بتا۔ کہ تیری بڑی قُوّت کِس چیز سے ہَے۔ اَور کِس چیز سے تُجھے باندھیں کہ تُو عاجِز ہو جائے؟ 7 سمِسون نے اُس سے کہا۔ اگر مُجھے سات تازہ بیدوں سے جو نہ سُکھائی گئی ہوں، باندھیں تو مَیں کمزور اَور مَعمُولی مَرد کی طرح ہوجاؤں گا۔ 8 تب فِلستیوں کے سردار سات بید جو سُکھائے نہیں گئے تھے۔ اُس عورت کے پاس لائے۔ تو اُس عورت نے اُن سے اُسے باندھا۔ 9 اَور گھات لگانے والے اُس کے نزدِیک کوٹھڑی میں بیٹھے تھے۔ تب وہ بولی۔ اَے سمِسون! فِلستی تُجھ پرچڑھ آئے ہَیں۔ اَور اُس نے اُن بیدوں کویُوں توڑا۔ جیسے سَن کا تار جِسے آگ چُھو جائے۔ چُنانچہ معلُوم نہ ہُوا۔ کہ اُس کی قُوّت کِس چیز سے ہَے۔ 10 تب دَلیلہ نے اُس سے کہا۔ تُو نے مُجھے دھوکا دِیا۔ اَور مُجھ سے جُھوٹ بولا۔ اَب تُو مُجھے بتا کہ کِس چیز سے تُو باندھا جائے۔ 11 تو اُس نے اُس سے کہا۔ اگر تُو مُجھے نئے رسّوں سے جو ہرگز اِستعمال نہیں ہُوئے ، باندھے۔ تو مَیں کمزور اَور مَعمُولی مَردوں کی طرح ہوجاؤں گا۔ 12 تو دَلیلہ نے نئے رسّے لئے اَور اُن سے اُسے باندھا۔ اَور اُس سے کہا۔ اَے سمِسون! فِلستی تُجھ پر چڑھ آئے ہَیں۔ اَور گھات لگانے والے کوٹھڑی میں بیٹھے تھے۔ تو اُس نے رسّوں کواپنے بازوُؤں پر سے ایسے توڑا۔ جیسے دھاگا توڑا جاتا ہَے۔ 13 تو دَلیلہ نے سمِسون سے کہا۔ اَب تک تو تُومُجھے دھوکا دیتا اَور مُجھ سے جُھوٹ بولتا رہا ہے۔ مُجھے بتا کہ کِس چیز سے تُو باندھا جائے؟ تو اُس نے کہا۔ اگر تُو میرے سر کی سات لٹیں تانے کے ساتھ بُنے۔ اَور مُجھے کُھونٹی سے باندھے۔ تو مَیں کمزور اَور مَعمُولی مَرد کی طرح ہوجاؤںگا۔ 14 تو اُس نے اُس کے سر کی سات لٹیں تانے کے ساتھ بُنیں اَور اُسے کُھونٹی سے باندھا۔ اَور کہا۔ اَے سمِسون! فِلستی تُجھ پر چڑھ آئے تب وہ نیند سے جاگا۔ اَور کُھونٹی کو تانے کے ساتھ لے کر چلا گیا۔ 15 تب اُس نے اُس سے کہا۔ تُو کِس طرح کہہ سکتا ہَے۔ کہ مَیں تُجھے پیار کرتا ہُوں۔ حالانکہ تیرا دِل میرے ساتھ نہیں۔ اَور تُو نے تینوں دفعہ مُجھے دھوکا ہی دِیا۔ اَور مُجھے نہ بتایا۔ کہ تیری ایسی بڑی قُوّت کِس چیز سے ہَے؟ 16 اَور ایسا ہُوا۔ کہ جب وہ ہر روز اپنی باتوں سے اُسے دِق کرتی اَور بے چین کرتی رہی۔ تو اُس کی جان مَوت تک تنگ آئی۔ 17 تو اُس نے سب کُچھ جو اُس کے دِل میں تھا بتایا اَور کہا کہ میرے سر پر کبھی اُسترہ نہیں لگا۔ کیونکہ مَیں اپنی ماں کے پیٹ ہی سے خُدا کا نَذیر ہُوں۔ لہٰذا اگر میرا سر مُونڈا جائے۔ تو میری قُوّت مُجھ سے جاتی رہے گی۔ اَور مَیں کمزور اَور مَعمُولی مَردوں کی طرح ہوجاؤں گا۔ 18 اَور دَلیلہ نے دیکھا کہ جو کُچھ اُس کے دِل میں تھا اُس نے ظاہر کردِیا۔ تو اُس نے پیغام بھیج کر فِلستیوں کے سرداروں کو بُلایا۔ اَور کہا۔ کہ ایک دفعہ اَور آؤ۔ کیونکہ اُس نے سب کُچھ جو اُس کے دِل میں تھا، مُجھ پر ظاہر کر دِیا ہَے تو فِلستیوں کے سردار اُس کے پاس آئے۔ اَور روپے اپنے ہاتھوں میں لائے۔ 19 تو اُس عورت نے اُسے اپنے گھُٹنوں پر سُلایا۔ اَور ایک مَرد کو بُلایا۔ اَور اُس کے سر پر کی سات لٹیں مُونڈ دیں۔ اَور اِس طرح وہ پست ہُوا۔ اَور اُس کی قُوّت اُس سے جاتی رہی۔ 20 اَور اُس نے اُس سے کہا۔ اَے سمِسون! فِلستی تُجھ پر چڑھ آئے۔ تب وہ نیند سے جاگا۔ اَور اُس نے کہا۔ کہ جیساپہلے مَیں نے ہر دفعہ کِیا۔ مَیں باہر جاؤں گا۔ اَور اپنے آپ کو آزاد کرلُوں گا۔ اَور اُس نے نہ جانا کہ خُداوند میرے پاس سے چَلا گیا ہَے۔ 21 تب فِلستیوں نے اُسے پکڑا۔ اَور فی الفَور اُس کی آنکھیں نِکا ل ڈالِیں اَور اُسے لے کر غزّہ کو نیچے اُترے۔ اَور اُسے پِیتل کی دو زنجیروں سے باندھا۔ اَور وہ قید خانہ میں چَکّی پِیستا تھا۔ 22 اَور بعد اِس کے کہ اُس کا سر مُونڈا گیا۔ اُس کے سر کے بال پِھر اُگنے لگے۔ 23 اَور فِلستیوں کے سردار جمع ہُوئے۔ تاکہ اپنے مَعبُود دَجون کے لئے خُوشی سے بڑی قُربانی گُزرانیں۔ کیونکہ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے مَعبُود نے ہمارے دُشمن سمِسون کو ہمارے ہاتھوں میں دے دِیا ہے۔ 24 اَور جب لوگوں نے اُسے دیکھا۔ تو اُنہوں نے اپنے مَعبُود کی بزُرگی کی۔ کیونکہ اُنہوں نے کہا۔ کہ اُس نے ہمارے دُشمن کو ہمارے ہاتھ میں دے دِیا۔ جس نے ہمارا مُلک خراب کردِیا۔ اَور ہم میں سے بُہتوں کو قتل کِیا۔ 25 اَور جب اُن کے دِل خُوش ہُوئے تو اُنہوں نے کہا۔ کہ سمِسون کو یہاں لاؤ۔ تاکہ ہمارے سامنے کھیل کرے۔ تو اُنہوں نے سمِسون کو قید خانے سے بُلایا۔ اَور اُس نے اُن کے آگے کھیل کِیا۔ اَور اُنہوں نے اُسے ستُونوں کے بِیچ کھڑا کِیا۔ 26 تب سمِسون نے اُس لڑکے کو جو اُس کا ہاتھ پکڑے ہُوئے تھا، کہا۔ مُجھے اُن ستُونوں کو چُھونے دے جِن پر مندر کھڑا ہے تاکہ اُن پر ٹیک لگاؤں۔ 27 اَور وہ مندر آدمیوں اَور عورتوں سے بھرا تھا۔ اَور فِلستیوں کے سارے سردار وَہیں تھے۔ اَور چھت کے اُوپر قریباً تین ہزار مَرد وزَن تھے۔ جو سمِسون کو کھیل کرتے دیکھتے تھے۔ 28 تب سمِسون نے خُداوند سے دُعا مانگی اَور کہا۔ اَے خُدا۔ اَے خُداوند! مُجھے یاد کر۔ اَے میرے خُدا! فَقط اِس دفعہ پِھر مُجھے قُوّت دے۔ کہ مَیں فِلستیوں سے اپنی دونوں آنکھوں کے لئے یکبارگی بدلہ لُوں۔ 29 اَور سمِسون نے دونوں درمیانی ستُونوں کو جِن پر مندر قائم تھا۔ اَور جن پر وہ ٹیک لگائے تھا۔ ایک کو دہنے ہاتھ سے اَور دُوسرے کو بائیں ہاتھ سے پکڑا۔ 30 اَور سمِسون بولا۔ کہ میری جان فِلستیوں کے ساتھ جائے۔ اَور اُس نے زور سے اُنہیں ہِلایا۔ تو مندر سرداروں اَور سب لوگوں پر جو وہاں تھے، گِر پڑا۔ اَور وہ لوگ جِنہیں اُس نے اپنی مَوت کے وقت مارا۔ اُن سے زیادہ تھے۔ جِنہیں اُس نے اپنی زِندگی میں قتل کِیاتھا۔ 31 تب اُس کے بھائی اَور اُس کے گھرانے کے لوگ آئے اَور اُسے اُٹھا کر اُوپر لے گئے۔ اَور صُرعہ اَور استال کے مابین اُس کے باپ منوحہ کی قبر میں اُسے گاڑا۔ اَور وہ اِسرائیل میں بیس برس تک قاضِی رہا۔