1 سمسون کا طریق َ انتقام اَور کُچھ دِنوں کے بعد گیہُوں کاٹنے کے موسم میں ایسا ہُوا۔ کہ سمِسون اپنی بیوی کو دیکھنے آیا۔ اَور ایک بکری کا بچّہ اُس کے واسطے لایا اَور کہا۔ کہ مَیں اپنی بیوی کے پاس اُس کی کوٹھڑی میں جاؤںگا۔ لیکن اُس کے باپ نے اُسے اندر نہ جانے دِیا ۔ اَور اُس کے باپ نے کہا۔ 2 مَیں نے تو خیال کِیا کہ تو اُس سے ضرُور نفرت کرتاہوگا۔ اِس لئے مَیں نے اُسے تیرے شہہ بالا کی بیوی کردِیا۔ لیکن اُس کی چھوٹی بہن ہَے جو اُس سے زیادہ خُوبصُورت ہے۔ چُنانچہ اُس کے عوِض میں تُو اُسے لے لے۔ 3 سمِسون نے اُن سے کہا۔ کہ اِس وقت تو مَیں فِلستیوں کی طرف سے بے اِلزام ٹھہرا۔ کیونکہ مَیں اُن کے ساتھ بَدی کِیا چاہتاہُوں۔ 4 اَور سمِسون گیا۔ اَور اُس نے تین سَو لُومڑیاں پکڑیں اَور مشعلیں لیں۔ اَور دو دو لُومڑیوں کی دُمیں مِلا کے اُن کے بِیچ میں مشعل باندھی۔ 5 اَور مشعلوں کو روشن کِیا۔ اَور لُومڑیوں کو فِلستیوں کے کھڑے گیہُوں میں چھوڑ دِیا۔ اَور پُولیوں کے اَنباروں اَور کھڑے گیہُوں اَور تاکستانوں اَور زیتُون کے درختوں کو جَلادِیا۔ 6 اَور فِلستیوں نے کہا۔ کہ یہ کِس نے کِیا؟ تو اُن سے کہا گیا۔ کہ تمِنتی کے داماد سمِسون نے۔ کیونکہ اُس نے اُس کی بیوی اُس کے شہہ بالا کو دے دی۔ تب فلِسطِین کے رہنے والے جمع ہُوئے۔ اَور اُنہوں نے اُس عورت کو اَور اُس کے باپ کو آگ سے جَلادِیا۔ 7 اَور سمِسون نے اُن سے کہا۔ اگرچہ تُم نے ایسا کِیا ہے تو بھی مَیں تُم سے بدلہ لُوں گا۔ اَور تب بس کرُوں گا۔ 8 اَور اُنہیں بڑی خُون ریزی کے ساتھ مار مار کر اُن کا کچُومر نِکا ل دِیا۔ اَور وہاں سے اُتر کے ایتام کی چٹان کی غار میں جارہا۔ 9 تب فِلستیوں نے چڑھائی کی۔ اَور یہُوداہ کے درمیان ڈیرے لگائے۔ اَور لحِی میں پھیل گئے۔ 10 تب یہوداہ کے آدمیوں نے اُن سے کہا۔ تُم ہم پر کیوں چڑھ آئے ہو؟ اُنہوں نے کہا۔ ہم سمِسون کو باندھنے کو چڑھ آئے ہیں۔ اَور جیسا اُس نے ہم سے کِیا۔ ویسا ہی ہم اُس کے ساتھ کریں گے۔ 11 تب یہوداہ میں سے تین ہزار مَرد نیچے اُترے۔ اَور ایتام کی چٹان کی غار میں آئے۔ اَور اُنہوں نے سمِسون سے کہا۔ کیا تو نہیں جانتا تھا کہ فِلستی ہم پر حُکمران ہَیں چُنانچہ تُو نے ہم سے ایسا کیوں کِیا؟ تو اُس نے اُن سے کہا۔ کہ جیسا اُنہوں نے میرے ساتھ کِیا۔ مَیں نے اُن سے ویسا ہی کِیا۔ 12 اُنہوں نے اُس سے کہا۔ کہ ہم آئے ہَیں۔ تاکہ تُجھے باندھیں اَور فِلستیوں کے ہاتھ میں حوالہ کر دیں۔ توسمِسون نے اُن سے کہا۔ کہ مُجھ سے قَسم کھاؤ۔ کہ تُم خُود مُجھے مار نہ ڈالو گے۔ 13 اُنہوں نے اُس سے کہا۔ نہیں۔ لیکن ہم تُجھے باندھیں گے اَور اُن کے ہاتھ میں حوالہ کریں گے۔ اَور ہم تُجھے قتل نہیں کریں گے۔ تب اُنہوں نے اُسے دو نئے رسّوں سے باندھا۔ اَورایتام کی چٹان سے اُسے اُوپر لائے۔ 14 جب وہ لِحی میں آپُہنچا۔ تو فِلستی اُسے دیکھ کر للکارے۔ تب رُوحِ خُداوند کا اُس پرنُزُول ہُوا۔ اَور دیکھو۔ وہ رسّے جِن سے اُس کے بازُو بندھے تھے۔ ایسے ہوگئے۔ جیسے سَن جو آگ سے جَل جائے۔ اَور اُس کے ہاتھوں پر کے بندھن کُھل گئے۔ 15 اَور اُس نے ایک گدھے کے جبڑے کی تازی ہَڈّی پائی۔ اور اپنا ہاتھ بڑھا کے اُسے لِیا۔ اَور اُس سے اُس نے ایک ہزار آدمی مارے۔ 16 اَور سمِسون بولا۔گدھے کے جبڑے کی ہَڈّی سے مَیں نے ڈھیر کے ڈھیرلگا لِیا گدھے کے جبڑے کی ہَڈّی سے ہزار مَردوں کو مَیں نے فنا کِیا۔ 17 اَور جب یہ کلام کہہ چُکا۔ تو جبڑے کی ہَڈّی اپنے ہاتھ سے پھینک دی۔ اَور اُس جگہ کا نام رامت لحِی رکھّا۔ 18 پِھر وہ بُہت پِیاسا ہُوا۔ اَور خُداوند کے پاس چِلّایا۔ اَور کہا۔ کہ تُو نے اپنے بندے کے ہاتھ سے ایسی بڑی مُخلِصی بخشی۔ اَور اَب مَیں پیاس سے مَرتاہُوں۔ اَور نامختُونوں کے ہاتھ میں پڑُوں گا۔ 19 تو خُدا نے اُس گڑھے کو جو لِحی میں ہے چاک کردِیا۔ اَور اُس میں سے پانی نِکلا۔ تو اُس نے پِیا اَور اُس کی جان میں جان آئی اَور وہ تازہ دم ہُوا۔ اُس جگہ کا نام عین ہقورے رکھّا گیا۔ وہ لِحی میں آج کے دِن تک موجُود ہے۔ 20 اَور وہ فِلستیوں کے دِنوں میں بنی اِسرائیل کا بیس برس تک قاضِی رہا۔