1 اِفتاح اَور اِفتاح جِلعادی بڑا دلیر بَہادُر مَرد تھا۔ وہ ایک کسبی عورت کا بیٹا تھا۔ اَور اُس کا باپ جِلعاد تھا۔ 2 اَور جِلعاد کی بیوی سے اُس کے لئے بیٹے ہُوئے۔ اَور جب اُس کی بیوی کے بیٹے بڑے ہُوئے۔ تو اُنہوں نے اِفتاح کو نِکا ل دِیا۔ اَور اُس سے کہا۔ کہ تیری مِیرَاث ہمارے باپ کے گھر میں نہیں۔ کیونکہ تو دُوسری عورت کا بیٹا ہَے۔ 3 تب اِفتاح اپنے بھائیوں کے سامنے سے بھاگا۔ اَور طوب کے علاقہ میں جا رہا۔ تو اُس کے پاس لفنگے لوگ جمع ہُوئے۔ اَور وہ اُس کے ساتھ باہر نِکلتے تھے۔ 4 اَور کُچھ مُدّت کے بعد ایسا ہُوا۔ کہ بنی عمّون نے اِسرائیل سے لڑائی کی۔ 5 اَورجب بنی عمّون اِسرائیل سے لڑتے تھے۔ تو جِلعاد کے بزُرگ لوگ گئے۔ کہ اِفتاح کو طوب کے علاقہ سے لے آئیں۔ 6 اَور اُنہوں نے اِفتاح سے کہا۔ کہ تُو آ اَور ہمارا سردار بن۔ کہ ہم بنی عمّون سے لڑائی کریں۔ 7 تب اِفتاح نے جِلعاد کے بزُرگوں سے کہا۔ کیا تُم نے مُجھ سے عداوت نہیں کی۔ اَور میرے باپ کے گھر سے مُجھے نہیں نِکا لا؟ لہٰذا اَب تُم اپنی مُصِیبت میں میرے پاس کیوں آئے ہو؟ 8 تب جِلعاد کے بزُرگوں نے اِفتاح سے کہا۔ کہ اِس وقت ہم تیرے پاس اِس لئے آئے ہَیں۔ تاکہ تُو ہمارے ساتھ چلے۔ اَور بنی عمّون سے لڑائی کرے۔ اَور ہمارا اَور جِلعاد کے تمام باشِندوں کا سردار ہو۔ 9 تب اِفتاح نے جِلعاد کے بزُرگوں سے کہا۔ اگر بنی عمّون کے ساتھ لڑائی کرنے کے لئے تُم مُجھے واپس لے جاتے ہو۔ اَور اگر خُداوند اُنہیں میرے قابُو میں کر دے۔ تو کیا مَیں تُمہارا سردار ہُوں گا؟ 10 تو جِلعاد کے بزُرگوں نے اِفتاح سے کہا۔ کہ خُداوند ہمارے درمیان سُننے والا ہو۔ اگر ہم نہ کریں۔ جیسا کہ تُو کہتا ہے۔ 11 تب اِفتاح جِلعاد کے بزُرگوں کے ساتھ گیا۔ اَور لوگوں نے اُسے اپنا سردار اَورحاکِم مُقرّر کیا۔ اَور اِفتاح نے اپنی سب باتیں خُداوند کے آگے مصِفَاہ میں کہیں۔ 12 اَور اِفتاح نے بنی عمّون کے بادشاہ کے پاس ایلچی بھیجے اَور کہا کہ تُجھے مُجھ سے کیا رنجِش ہے کہ تُو میرے مُلک میں میرے ساتھ لڑائی کرنے آیا ہے؟ 13 تو بنی عمّون کے بادشاہ نے اِفتاح کے ایلچیوں سے کہا۔ اِس لئے کہ جس وقت بنی اِسرائیل مِصر سے نِکل آئے۔ اُنہوں نے میرا مُلک ارنُون سے یبّوق تک اَور یردن تک لے لِیا۔ چُنانچہ اَب تُو وہ مُلک سلامتی سے مُجھے پھیردے۔ 14 تب اِفتاح نے پِھر اُن ایلچیوں کو بنی عمّون کے بادشاہ کے پاس بھیجا اَور اُس سے کہا۔ 15 اِفتاح یُوں کہتاہَے کہ اِسرائیل نے موآب کا مُلک اَور بنی عمّون کا مُلک نہیں لِیا۔ 16 کیونکہ جس وقت وہ مِصر سے نِکلے۔ تو وہ بِیابان میں بحرِ قلُزم کی طرف گئے اَور قادس میں پُہنچے۔ 17 تب اِسرائیل نے ادوم کے بادشاہ کے پاس ایلچی بھیجے اَور کہا۔ کہ ہمیں اپنے مُلک میں سے گُزر جانے دے۔ مگر ادوم کے بادشاہ نے نہ مانا۔ تب اُنہوں نے موآب کے بادشاہ کے پاس بھی پیغام بھیجا۔ اَور اُس نے بھی نہ مانا۔ تو اِسرائیل قادس ہی میں رہا۔ 18 تب وہ بِیابان میں چلے۔ اَور وہ موآب کے مُلک اَور ادوم کے مُلک کے گِرد پِھرے۔ اَور موآب کے مُلک کو مشرق کی طرف سے آئے۔ اَور ارنُون کے کِنارے پر خَیمے کھڑے کِئے۔ اَور وہ موآب کی سَرحد میں داخِل نہ ہُوئے کیونکہ ارنُون ہی موآب کی سَرحد ہَے۔ 19 پِھر اِسرائیل نے اَموریوں کے بادشاہ سِیحون کے پاس جو حسبون میں رہتا تھا۔ ایلچی بھیجے۔ اَور اُس سے کہا۔ کہ ہمیں اپنے مُلک میں سے گُزر جانے دے۔ کہ ہم اپنی جگہ کو جائیں۔ 20 مگر سِیحون نے اِسرائیل کا اِعتبار نہ کِیا۔ اَور اپنی حد میں سے اُنہیں گُزرنے نہ دِیا۔ اَور سِیحون نے اپنے سب لوگ جمع کِئے اَور یہص میں ڈیرے لگائے۔ اَور اِسرائیل سے لڑائی کی۔ 21 تو خُداوند اِسرائیل کے خُدا نے سِیحون اَور اُس کے تمام لوگوںکو اِسرائیل کے ہاتھوں میں دے دِیا۔ تو اُنہوں نے اُنہیں مارا۔ اَور اِسرائیل اُس مُلک کے رہنے والے اَموریوں کے تمام مُلک کے مالِک ہوگئے۔ 22 اَور اُنہوں نے اَموریوں کی تمام سَرحدوں پر ارنُون سے لے کے یبّوق تک اَور بِیابان سے یردن تک قبضہ کرلِیا۔ 23 چُنانچہ اَب جو خُداوند اِسرائیل کے خُدا نے اَموریوں کو اپنی قوم اِسرائیل کے آگے سے نِکا ل دِیا۔ تو کیا تُو اُن کی مِیرَاث لے لے گا؟ 24 کیا تیرا مَعبُود کموش جو مِلکیّت تُجھے دیتاہے۔ وہ تُو نہیں لیتا؟ پس کیا ہم وہ سب کُچھ جو خُداوند ہمارے خُدا نے ہمارے سامنے سے خالی کردِیا مِیرَاث نہیں لیں گے؟ 25 کیا تُو موآب کے بادشاہ بالاق بِن صِفور سے بہتر ہے۔ کیا اُس نے کبھی بنی اِسرائیل کے ساتھ جھگڑا کِیا۔ یا کبھی اُن کے خلاف لڑائی کی؟ 26 اَور جس وقت کہ بنی اِسرائیل حسبون میں اَور اُس کے قصبوں میں اَور عروعیر میں اَور اُس کے قصبوں میں اَور تمام شہروں میں جو ارنُون کے نزدِیک ہیں۔ تین سَوبرس تک رہے ہَیں۔ تو تُم نے اِتنی مُدّت میں اُنہیں کیوں واپس نہ لے لِیا؟ 27 مَیں نے تُجھ سے کوئی بَدی نہیں کی۔ مگر تُو مُجھ سے بَدی کرتاہے۔ کہ میرے ساتھ لڑنے آتا ہے۔ تو خُداوند جو بدلہ دینے والا ہے۔ آج کے دِن بنی اِسرائیل اَور بنی عمّون کے درمیان اِنصاف کرے۔ 28 اَور بنی عمّون کے بادشاہ نے اِن باتوں کو جو اِفتاح نے اُسے کہلا بھیجیں، نہ سُنا۔ 29 اَور رُوحِ خُداوند کا نُزُول اِفتاح پر ہُوا۔ تو وہ جِلعاد اَور مَنسّی سے گُزر کر جِلعاد کے مِصفَاہ میں پُہنچا۔ اَور جِلعاد کے مِصفَاہ سے بنی عمّون کی طرف گیا۔ 30 اَور اِفتاح نے خُداوند کی مَنّت مانی اَور کہا۔ کہ اگر تُو بنی عمّون کو میرے ہاتھ میں دے دے۔ 31 تو جب مَیں بنی عمّون کے پاس سے سلامتی کے ساتھ پِھرُوں گا۔ تو میرے گھر کے دروازے میں سے جو کوئی مُجھے مِلنے کو باہر نِکلے گا۔ وہ خُداوند کا ہوگا۔ مَیں اُسے سوختنی قُربانی گُزرانوں گا۔ 32 چُنانچہ اِفتاح بنی عمّون کی طرف پار اُترا۔ کہ اُن سے لڑائی کرے۔ تو خُداوند نے اُنہیں اُس کے ہاتھوں میں حوالہ کر دِیا۔ 33 تو اُس نے اُنہیں عروعیر سے لے کر مِنیّت کی حد تک جو بیس شہر ہَیں اَور ابیل کرامیم تک بہ شِدّت مارا۔ تو بنی عمّون بنی اِسرائیل کے سامنے مغلُوب ہوئے۔ 34 اَور اِفتاح مِصفَاہ میں اپنے گھر کو واپس آیا۔ تو دیکھو اُس کی بیٹی خنجریوں کے ساتھ ناچتی ہوئی اُس کے مِلنے کو باہر نکلی۔ اَور وہ اُس کی اِکلوتی تھی۔ اُس کے سِوا اُس کی کوئی اور بیٹی یا بیٹا نہ تھا۔ 35 تو جب اُس نے اُسے دیکھا۔ تو اپنے کپڑے پھاڑے۔ اَور بولا۔ ہائے ہائے میری بیٹی! تُو نے مُجھے بُہت پست کِیا۔ اَور تُو اُن میں سے ہَے۔ جو مُجھے دُکھ دیتے ہیں۔ کیونکہ مَیں نے خُداوند کے لئے مَنّت مانی۔ اَور اُس کے توڑنے کے لئے کوئی طریقہ نہیں۔ 36 تو وہ اُس سے کہنے لگی۔ کہ اَے میرے باپ! اگر تُو نے خُداوند کے لئے مَنّت مانی ہے۔ تو جو کُچھ تیرے مُنہ سے نِکلا۔ تُو اُس کے مُطابِق میرے ساتھ عمل میں لا۔ کیونکہ خُداوند نے تیرے دُشمنوں بنی عمّون سے تیرا اِنتقام لِیا ہے۔ 37 اَور اُس نے اپنے باپ سے کہا۔ کہ تُو میرے لئے یہ کر۔ کہ دو مہینے کی مُہلت مُجھے دے۔ تاکہ مَیں جاؤں اَور کوہِستان میں پِھرُوں۔ اَور اپنی سہیلیوں کے ساتھ اپنے کُنوارپن پر روؤں۔ 38 تواُس نے کہا جا ۔ اَور اُس نے اُسے دو مہینوں کے لئے بھیج دیا۔ تب وہ مع اپنی سہیلیوں کے گئی۔ اَور کوہِستان میں اپنے کُنوارپن پر روتی رہی۔ 39 اَور ایسا ہُوا کہ دو مہینوں کے گُزرنے کے بعد وہ اپنے باپ کے پاس واپس آئی۔ تو اُس نے جو مَنّت مانی تھی اُس پر پُوری کی۔ اَور وہ مَرد سے ناواقِف رہی۔ چُنانچہ بنی اِسرائیل کے درمیان یہ رسم ہوئی۔ 40 کہ سال بسال اِسرائیل کی بیٹیاں جاتیں اَور ہر برس میں چار دِن اِفتاح جِلعادی کی بیٹی پر نَوحہ کرتی تھیں۔