باب

1 میں چودہ سال کےبعد برنباس کے ساتھ پھر یروشلیم کو گیا ،میں نے ططس کو بھی ہمراہ لیا۔ 2 میں اِس لئے گیا کیونکہ خدا نے مجھ پر واضح کیا کہ مجھے جانا چاہیے، میں نے اُن کے سامنے وہی خوش خبری رکھی جو غیر قوموں کے درمیان میں سنائی(میں نے پوشیدگی میں اُن سے بات کی جو خاص نمائندے سمجھے جاتے تھے)میں نے اِس لئے کہا کہ یقین کر سکوں کہ میری دوڑ دھوپ بے کار نہ ہو۔ 3 یہاں تک کہ ططس جو میرے ساتھ تھا جو یونانی ہے اُس کو بھی ختنہ کے لئے مجبور نہ کیا گیا ۔ 4 جھوٹے بھائیوں جو چپکے سے ہماری آزادی میں جاسوس بن کر آئے جو مسیح میں ملی۔اُن کی خواہش ہے کہ وہ ہمیں غلام بنائیں۔ 5 ہم نے اُن کی تابع داری نہیں کی یہاں تک کہ ایک پل کےلئے بھی نہیں تاکہ سچائی کی خوش خبری تم میں قائم رہ سکے۔ 6 وہ جو اہم لگتے تھے وہ جو بھی لگتے تھے مجھے اُس سے کوئی سروکار نہیں،خدا کسی کی طرفداری نہیں کرتا میں کہت اہوں کے جو اہم لگے ہیں میں نے اس سے کچھ نہیں سیکھا۔ 7 اِ س کے بجائے اُنہوں نے دیکھا کہ مجھے غیر قوموں (جن کا ختنہ نہ ہوا) میں خوش خبری سنُانے کا کام سپرد کیا گیا جیسے پطرس کو ختنہ یافتہ لوگوں میں خوش خبری پھیلانے کا کام سپرد کیا گیا۔ 8 جس خد انے پطرس کے اندر ختنہ یا فتہ لوگوں کے لئے رسالت رکھی،اُسی نے میرے اندر غیر قوموں کے لئے۔ 9 جب یعقوب ، کیفا اور یوحنّا نے جن کو کلیسیا کے معمار تصور کیا جاتا تھا، اُنہوں نے مجھ پر ہونے والے فضل کو سمجھا تو اُنہوں نے میرے اور برنباس کے ساتھ رفاقت رکھی، اُنہوں نے اِس لئے کیا کہ ہمیں غیر قوموں کے پاس جانا چاہیے اور اُنہیں ختنہ یافتہ لوگوں کے پاس جانا چاہیے۔ 10 انہوں نے درخواست کی کہ غریبوں کو بھی یاد رکھیں، میں بھی اِس کام کو کرنے کا خواہش مند تھا۔ 11 جب کیفا انطاکیہ میں آیا، تو میں نے اُس کے منہ پر اُس کی مخالفت کی، کیونکہ وہ درست نہ تھا۔ 12 یعقوب کی طرف سے آنے والے چند شخصوں سے پہلے کیفا غیر قوم لوگوں کے ساتھ کھاتا تھا مگر جب یہ اشخاص آئے تو اُس نے اُن سے کنارہ کر لیا اور غیر اقوام سے دور رہنے لگا، وہ اِن آدمیوں سے ڈرتا تھا جو ختنہ کو ضروری سمجھتے تھے۔ 13 باقی یہودی بھی اِس میں ریاکاری ُس کے ساتھ تھے یہاں تک کہ برنباس بھی اِس ریاکاری کا حصہ بنا۔ 14 جب میں نے دیکھا کہ وہ خوش خبری کی پیروی نہیں کر رہے، تو میں نے اُن سب کے سامنے کیفا سے کہا، "اگرتم یہودی ہو مگر یویانیوں کے طریقہ سے زندگی گزارتے ہو بجائے اِس کے یہودیوں کی طرح گزارو، تو تم کیسے غیراقوام کو یہودیوں کی طرح زندگی گزارنے کو کہہ سکتے ہو؟" 15 ہم خود پیدائشی یہودی ہیں اور غیر قوم گناہ گاروں میں سے نہیں؛ 16 ہم یہ جانتے ہیں کہ شریعت کے کاموں کے وسیلہ سے کوئی راست باز نہیں بن سکتا بلکہ مسیح یسوع پر ایمان لانے سے۔ ہم بھی یسوع مسیح پر ایمان لائے،تاکہ ہم بھی مسیح یسوع پرایمان لانے کے وسیلہ سے راست باز ٹھہریں، شریعت کے اعمال کے وسیلہ سے نہیں، کیونکہ شریعت کے کاموں کی وجہ سے کوئی آدمی راست باز نہ ٹھہرے گا۔ 17 اگر ہم مسیح میں راستباز ٹھہرائے گئے ہیں اور ہم خود کو گناہ گار بھی پائیں، تو کیا یسوع گناہ کو بڑھاوا دیتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ 18 اِس لئے اگر جو کچھ میں نے شریعت پرعمل کرتے ہوئے گرا دیا ،اُسے پھر تعمیر کروں تو میں شریعت کا توڑنے والا ہوا۔ 19 میں شریعت کے ذریعے سے شریعت کے لئے مر گیا تا کہ خدا میں زندہ رہوں۔ 20 میں مسیح کے ساتھ مصلوب ہوا ہوں۔ اب میں زندہ نہ رہا بلکہ مسیح مجھ میں زندہ ہے۔ اب جو میں جسم میں زندگی گزارتا ہوں خدا کے بیٹے پر ایمان لانے کے وسیلہ سے گزارتا ہوں۔ 21 میں خدا کے فضل کو فضول نہیں سمجھتا کیونکہ اگر میں شریعت کے وسیلہ راست باز ہوتا تومسیح کامرنا عبث ہوتا۔جو مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جس نے اپنا آپ مجھے دے دیا۔