1 سامریہ کی مُعجزانہ رِہائی تب الیِشع نے کہا خُداوند کا کلام سُنو۔ خُداوند یُوں فرماتا ہے۔ کہ کَل کے روز اِسی گھڑی سامریہ کے پھاٹک پر میدہ کا ایک پیمانہ ایک مثِقال کو اَور جَو کے دو پیمانے ایک مثِقال کو بِکیں گے۔ 2 تو اُس سِپّہ سالار نے جس کے ہاتھ پر بادشاہ سہارا کرتا تھا۔ مَردِ خُدا کو جَواب دیا۔ اگرچہ خُداوند آسمان میں کھڑکی کھولے۔ تو کیا یہ مُمکن ہے؟ الیِشع بولا تُواپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ پر اُس میں سے کھائے گا نہیں۔ 3 اَور پھاٹک کے دروازے کے پاس چار کوڑھی تھے۔ اُن میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں کہ مَر جائیں۔ 4 اگر ہم کہیں کہ ہم شہر کے اندر جائیں گے۔ تو شہر میں کال ہے۔ تو ہم وہاں مَرجائیں گے۔ اَور اگر ہم یہاں ہی ٹھہریں تو بھی مَر جائیں گے اَب آؤ۔ ہم اَرام کے لشکر گاہ کو چلیں۔ اگر وہ ہمیں چھوڑ دِیں تو ہم زِندہ رہیں گے۔ اَور اگر مار ڈالیں تو مَر جائیں گے۔ 5 پس وہ شام کے وقت اُٹھے اَور اَرام کی لشکر گاہ کو روانہ ہُوئے جب وہ اَرامیوںکی لشکر گاہ کی حد پر پہُنچے۔ تو وہاں کوئی نہ تھا۔ 6 کیونکہ خُداوند نے رتھوں کی آواز اورگھوڑوں کی آواز اَور بڑے لشکر کی آواز اَرامیوں کی فوج کو سُنائی۔ تو اُن میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھی سے کہا۔ دیکھو کہ اِسرائیل کے بادشاہ نے ہمارے خلاف حتیّوں کے بادشاہوں اَور مصِریوں کے بادشاہوں کو اُجرت دے کر بُلایا ہے تاکہ وہ ہم پر آپڑیں۔ 7 تب وہ اُٹھے اَور شام کے وقت بھاگے۔ اَور اُنہوں نے اپنے خَیموں اَور اپنے گھوڑوں اَور اپنے گدھوں کو چھوڑا۔ اَور لشکر گاہ اپنی حالت میں رہی۔ اَور اُنہوں نے اپنی جانیں بچائیں۔ 8 سو جب یہ کوڑھی لشکر گاہ کی حد پر آئے۔ تو ایک خَیمے کے اندر گئے۔ اَور کھایا اَور پِیا۔ اَور وہاں سے چاندی اَور سونا اَور کپڑے لئے۔ اَور جاکر اُنہیں ایک جگہ چھُپایا۔ پِھر وہ لَوٹ کر دُوسرے خَیمے کے اندر گئے۔ اَور وہاں سے بھی لِیا۔ اَور جا کر چھُپایا۔ 9 تب اُنہوں نے ایک دُوسرے سے کہا۔ ہم اچھّا نہیں کرتے۔ کیونکہ ہمارا یہ دِن خُوشخبری دینے کا دِن ہَے۔ اَور ہم چُپ ہیں۔ اگر ہم دِیر کریں۔ جب تک کہ صُبح کی روشنی ہو۔ تو ہم مُجرم ٹھہریں گے۔ پس آؤ ہم چلیں اَور بادشاہ کے گھر میں خبر کریں۔ 10 تو وہ آئے اَور شہر کے دربان کو پُکارا اَور اُسے یہ کہہ کر خبردی۔کہ ہم اَرامیوں کی لشکر گاہ میں گئے۔ تو وہاں کوئی نہ تھا۔ اَور نہ اِنسان کی آواز تھی۔ مگر گھوڑے بندھے ہُوئے اَور گدھے بندھے ہُوئے اَور خَیمے جُوں کے تُوں تھے۔ 11 تو دربانوں نے پُکار کر بادشاہ کے محلّ میں خبر دی۔ 12 تو بادشاہ رات ہی کو اُٹھا۔ اَور اپنے مُلازِموں سے کہا مَیں تُمہیں بتاتا ہُوں۔ کہ اَرامیوں نے یہ ہمارے ساتھ کیا کِیا ہَے؟ وہ جانتے ہیں کہ ہم بُھوکے ہیں۔ تو وہ لشکر گاہ سے نِکل گئے ہیں۔ تاکہ میدان میں گھات لگائیں۔ یہ کہہ کر کہ جس وقت وہ شہر سے باہر نِکلیں۔ تو ہم اُنہیں زِندہ پکڑ لیں اَور شہر میں داخِل ہوں۔ 13 تب اُس کے مُلازِموں میں سے ایک نے اُسے جَواب میں کہا۔ کہ ذرا کوئی اِن بچے ہُوئے گھوڑوں میںسے جو شہر میں باقی ہیں پانچ گھوڑے لے۔ وہ تو اِسرائیل کی ساری جماعت کی مانند ہیں۔ جو باقی رہ گئی ہَے۔ بلکہ وہ اُس ساری اِسرائیلی جماعت کی مانند ہیں جو فنا ہو چُکی۔ اَور ہم اُنہیں بھیج کر دیکھیں۔ 14 سو اُنہوں نے دو رتھ گھوڑوں سمیت لیے۔ اَور بادشاہ نے اُنہیں اَرامیوں کے لشکر کے پیچھے بھیجا۔ کہ جا کر دیکھیں۔ 15 اَور وہ اُن کے پیچھے یردن تک گئے۔ تو دیکھو۔ ساری راہ کپڑوں اَور برتنوں سے بھری تھی جو اَرامیوں نے جلدی میں پھینک دِیئے تھے۔ تب قاصِد واپس آئے اَور بادشاہ کو خبردی۔ 16 تب لوگوں نے نِکل کر اَرامیوں کی لشکر گاہ کو لُوٹا۔ تو میدہ کا ایک پیمانہ ایک مثِقال کو اور جَو کے دو پیمانے ایک مثِقال کو ہوگئے۔ جیسا کہ خُداوند نے فرمایا تھا۔ 17 اَور بادشاہ نے اُس سِپّہ سالار کو جس کے ہاتھ پر وہ سہارا لیتا تھا پھاٹک پر مُقرّر کِیا۔ تو لوگوں نے پھاٹک میں اُسے لتاڑڈالا۔ تو وہ مَر گیا۔ جیسا کہ مرد ِخُدا نے کہا تھا جب بادشاہ آیا تھا۔ 18 کیونکہ جب مَردِ خُدا نے بادشاہ سے کلام کرکے کہا۔ کہ کَل کے روز اِسی گھڑی کے قریب سامریہ کے پھاٹک پر دو پیمانے جَو کے ایک مثِقال کو اَور ایک پیمانہ میدہ ایک مثِقال کو ہوگا۔ 19 تو اُس سِپہّ سالار نے جَواب دِیا تھا۔ اگرچہ خُداوند آسمان میں کھڑکی کھولے۔ کیا ایسا ہونا مُمکن ہے؟ تو اُس نے کہا۔ کہ تُو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ پر اُس میں سے نہ کھائے گا۔ 20 سو اِسی طرح اُس پر واقع ہُوا۔ کہ لوگوں نے پھاٹک میں اُسے لتاڑڈالا اَور وہ مَر گیا