1 الیِشع کے اَور مُعجزے اَور انبِیازادوں نے الیِشع سے کہا۔ کہ یہ جگہ جہاں ہم تیرے حضُور میں رہتے ہیں۔ ہمارے لئے تنگ ہے۔ 2 ہمیں اِجازت دے۔ کہ ہم یردن کو جائیں۔ اَور وہاں سے ہر ایک آدمی ایک ایک لکڑی لے۔ اَور وہاں ہم ایک جگہ اپنے رہنے کے لئے بنائیں۔ وہ بولا۔ جاؤ۔ 3 اُن میں سے ایک نے کہا۔ مہربانی کرکے تُو بھی اپنے خادِموں کے ساتھ چل۔ اُس نے کہا۔ مَیں چلُوں گا ۔ 4 اَور وہ اُن کے ساتھ روانہ ہُوا سو وہ یُردن پر پہُنچے۔ اَور لکڑیاں کاٹِیں۔ 5 اَور جب اُن میں سے ایک لکڑی کاٹ رہاتھا۔ تو اُس کے کُلہاڑے کا لوہا پانی میں گرِ گیا۔ اَور وہ چلِاّیا اَور کہا۔ ہائے۔ اَے میرے آقا! یہ تومانگا ہُوا تھا ۔ 6 مَردِ خُدا بولا وہ کہاں گِرا۔ تو اُس نے اُسے وہ جگہ دِکھائی۔ تب اُس نے ایک لکڑی کاٹی اَور وہاں پھینکی۔ تو لوہا تَیر پڑا۔ 7 تب اُس نے اُس سے کہا۔ اُسے پکڑ لے۔ تو اُس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے پکڑ لِیا۔ 8 اَور اَرام کا بادشاہ اِسرائیل سے لڑائی کرتا تھا۔ تو اُس نے اپنے درباریوں سے مشورت کی۔ کہ ہمارا ڈیرہ فلاں فلاں جگہ ہوگا ۔ 9 تو مَردِ خُدا نے اِسرائیل کے بادشاہ کو کہلا بھیجا۔ خبر دار۔ کہ فلاں جگہ سے پار مت ہو۔ کیونکہ ارامی وہاں ڈیرے میں بیٹھے ہُوئے ہیں۔ 10 سو شاہ اِسرائیل نے اُس جگہ پر جس کی بابت مَردِ خُدا نے اُس سے کہا تھا اَور خبر دار کِیا تھا۔ آدمی بھیجے۔ اَور وہاں سے اپنے کو بچایا اَور یہ فَقط ایک یا دو بار ہی نہیں۔ 11 سو اِس سبب سے اَرام کے بادشاہ کا دِل بے چین ہوگیا۔اور اُس نے اپنے مُلازِموں کو بُلا کر کہا۔ کیا تُم مُجھے نہیں بتاؤ گے۔ کہ ہم میں سے کون شاہ اِسرائیل کے ساتھ ہے؟ 12 اُس کے مُلازِموں میں سے ایک نے کہا۔ اَے میرے آقا بادشاہ! کوئی نہیں۔ مگر الیشع نبی جو اِسرائیل میں ہے۔ وہ ہر اُس بات کی جو تُو اپنے سونے کے کمرے میں کہتاہے۔ اِسرائیل کے بادشاہ کو خبر دیتا ہے۔ 13 بادشاہ نے کہا جاؤاَور دیکھو۔ وہ کِس جگہ میں ہے تاکہ مَیں اُسے گِرفتارکراؤ ں؟ تو اُنہوں نے اُسے خبر دی اَور کہا۔ دیکھو وہ دوتین میں ہے۔ 14 تب اُس نے اُس کی طرف گھوڑے اَور رتھ اَور بڑا لشکر بھیجا۔ تو اُنہوں نے رات کو آ کر شہر کو گھیر لِیا۔ 15 اَور صُبح سویرے مَردِ خُدا کا خادِم اُٹھا اَور باہر نِکلا۔ تو دیکھا کہ لشکر اَور گھوڑے اَور رتھ شہر کو گھیرے ہُوئے ہیں۔ اَور اُس کے خادِم نے اُس سے کہا۔ ہائے۔ اَے میرے آقا ہم کیا کریں گے؟ 16 اُس نے کہا مت ڈر۔کیونکہ وہ جو ہمارے ساتھ ہیں۔ اُن سے جو اُن کے ساتھ ہیں زِیادہ ہیں۔ 17 اَور الیِشع نے دُعا کی اَور کہا۔ اَے خُداوند! اُس کی آنکھیں کھول تاکہ وہ دیکھے۔ تب خُداوند نے اُس کی آنکھیں کھولیں اَور اُس نے دیکھا۔ تو دیکھو الیِشع کے گِرد پہاڑ گھوڑوں اَور آتشی رتھو ں سے بھرا ہے۔ 18 اَور جب وہ اُس کی طرف آئے الیِشع نے خُداوند سے دُعا مانگی اَور کہا۔ اُس گروہ پر اندھا پن آپڑے۔ تو جیسا کہ الیِشع نے کہا ویسا ہی خُداوند نے اُن پر اندھا پن بھیجا۔ 19 تب الیشع نے اُن سے کہا۔ کہ یہ وہ راہ نہیں اَور نہ یہ وہ شہر ہے۔ میرے پیچھے آؤ۔ تو مَیں تُمہیں اُس آدمی کے پاس لے جاؤں گا جس کی تُم تلاش کرتے ہو۔ سو وہ اُنہیں سامریہ میں لے گیا۔ 20 جب وہ سامریہ میں داخِل ہوئے۔ تو الیِشع نے کہا۔ اَے خُداوند! اُن کی آنکھیں کھول تاکہ وہ دیکھیں۔ تو خُداوند نے اُن کی آنکھیں کھولیں تو اُنہوں نے دیکھا۔ اَور دیکھو۔ وہ سامریہ کے بِیچ میں تھے۔ 21 جب شاہ ِاِسرائیل نے اُنہیں دیکھا تو الیِشع سے کہا۔ اَے باپ! کیا مَیں اُنہیں مار ڈالُوں؟ 22 اُس نے کہا۔ مت مار۔ کیا تُو نے اُنہیں اپنی تلوار اَور اپنی کمان سے اسیر کِیا۔ کہ اُنہیں مارڈالے گا؟ بلکہ تُو اُن کے آگے روٹی اَور پانی رکھّ۔ تاکہ وہ کھائیں اَور پِیئیں۔ پِھر اپنے آقاکے پاس چلے جائیں۔ 23 تب اُس نے اُن کے لئے بڑی ضِیافت تیّار کی۔ اَور اُنہوں نے کھایا اَور پِیا۔ پِھر اُس نے اُنہیں رُخصت کِیا اَور وہ اپنے آقا کے پاس گئے۔ اَور بعداَزاں اَرامی گروہ اِسرائیل کی سَر زمین میں نہ آئے۔ 24 اَور اُس کے بعد ایسا ہُوا۔ کہ اَرام کے بادشاہ بن ہدد نے اپنی تمام فوج جمع کرکے چڑھائی کی اَور سامریہ کا مُحاصرہ کِیا ۔ 25 تو سامریہ میں سخت کال پڑا۔ اَوروہ اُس کا مُحاصرہ کئے رہے۔ یہاں تک کہ گدھے کا سر چاندی کے اَسّی ٹکُڑوں کو۔ اَور کبُوتروں کی بیٹ کا ایک چوتھائی پیمانہ چاندی کے پانچ ٹکُڑوں کو بِکا ۔ 26 اَور جس وقت شاہِ اِسرائیل دِیوار پر سے گُزرا۔ ایک عورت نے چِلّا کر اُس سے کہا۔اَے میرے آقا بادشاہ ! میری فریاد سُن۔ 27 بادشاہ نے اُس سے کہا ۔ اگر خُداوند تیری مدد نہ کرے تو مَیں کہاں سے تیری مدد کُروں؟ کیا کَھلیان سے یا انگور کے کولُھو سے؟ 28 پِھر بادشاہ نے اُس سے کہا۔ تُجھے کیا ہُوا؟ اُس نے کہا۔ کہ اِس عورت نے مُجھے کہا۔ کہ اپنا بیٹا لاتا کہ ہم اُسے آج کھائیں اَور کَل ہم میرے بیٹے کو کھائیں گے۔ 29 سو ہم نے میرے بیٹے کو پکایا اَور اُسے کھایا۔ اَور دوسرے دِن مَیں نے اُس سے کہا۔ کہ اپنا بیٹا لا۔ تاکہ ہم اُسے کھائیں۔ پر اُس نے اپنے بیٹے کو چھُپالِیا۔ 30 جب بادشاہ نے عورت کی یہ بات سُنی۔ تو اپنے کپڑے پھاڑے۔ اَور دِیوار پر گُزر گیا۔ تو لوگوں نے دیکھا۔ کہ اُس کے بدن پر کپڑوں کے نیچے ٹاٹ ہے۔ 31 اَور اُس نے کہا۔ کہ خُدا میرے ساتھ ایسا کرے۔ اَور اِس سے زِیادہ کرے۔ اگر آج الیِشع بِن سافط کا سر تن پر رہے۔ 32 اَور الیِشع اپنے گھر میں بیٹھا تھا۔ اَور بُزرگ اُس کے ساتھ بیٹھے تھے۔ تو بادشاہ نے اپنے سامنے سے ایک آدمی بھیجا۔ مگر پیشتر اِس کے کہ وہ قاصِد اُس کے پاس پہُنچے۔ اُس نے بزُرگوں سے کہا۔ کیا تُم نے دیکھا؟ کہ اِس قاتِل زاد نے بھیجا ہَے کہ میرا سرکاٹے۔ پس دیکھو۔جب وہ قاصِد آئے تو تُم دروازہ بند کرو۔ اَور اُسے اندر آنے نہ دو۔ کیا اُس کے پیچھے اُس کے آقاکے پاؤں کی آواز نہیں؟ 33 اَور جب وہ یہ بات کہہ ہی رہا تھا۔ تو دیکھو۔ بادشاہ اُس کے پاس آگیا۔ اَور اُس نے کہا۔ کہ یہ بلا خُداوند کی طرف سے ہے۔ تو آگے کو مَیں خُداوند کا کیا اِنتظار کرُوں؟