1 حزقیاہ کی بیماری اُن دِنوں میں حزقیاہ مَوت کے مرض سے بیمار ہُوا۔ تو آموص کا بیٹایسعیاہ نبی اُس کے پاس آیا اَور کہا۔ خُداوند یُوں فرماتاہے کہ اپنے گھر کی بابت وصیّت کر۔ کیونکہ تُو مَر جائے گا اَورزِ ندہ نہیں رہے گا ۔ 2 تب حزقیاہ نے اپنا مُنہ دِیوار کی طرف پھیرا۔ اَور خُداوند سے دُعا مانگ کرکہا۔ 3 اَے خُداوند! یاد کر۔ کہ َمَیں کِس طرح تیرے سامنے راستی سے اَور کامِل دِل سے چلتا رہا ہُوں۔ اَور کیسے مَیں نے تیرے آگے نیکی کی۔ اَور حزقیاہ بڑی شِدّ ت سے رویا۔ 4 اَور یسعیاہ ابھی صحن کے درمیان سے باہر نہ نِکلا تھا۔ کہ خُداوند اُس سے ہم کلام ہُوااَور کہا ۔ 5 واپس جا اَور میرے لوگوں کے سردار حزقیاہ سے کہہ۔ کہ خُداوند تیرے باپ داؤد کا خُدا یُوں فرماتا ہے۔ کہ مَیں نے تیری دُعا سُنی۔ اَور مَیں نے تیرے آنسُوؤں کو دیکھا دِیکھ مَیں تُجھے شِفا بخشُوں گا۔ اَور تیسرے دِن تُو خُداوند کے گھر میں جائے گا۔ 6 اَور مَیں تیرے دِنوں پر پندرہ برس بڑھاوُں گا۔ اَور تُجھے اَور اِس شہر کو اسُور کے بادشاہ کے ہاتھوں سے چُھڑاوُں گا۔ اَور اپنی خاطِر اَور اپنے بندے داؤد کی خاطِر اِس شہر کی حمایت کرُوںگا۔ 7 تب یسعیاہ نے کہا۔ کہ انجیر کی ٹِکیا لو۔ اَور اُس کے پھوڑے پر رکھّو تو وہ زِندہ رہے گا۔ 8 اَور حزقیاہ نےیسعیاہ سے کہا۔ کیا نِشان ہے؟ کہ خُداوند مُجھے شِفا بخشے گا۔ اَور مَیں تیسرے دِن خُد اکے گھر میں جاوُں گا ۔ 9 یسعیاہ نے کہا۔ کہ خُداوند کے حضُور سے تیرے لئے یہ نِشان اِس بات کا ہے کہ خُداوند اپنے قول کو جو اُس نے کہا پُورا کرے گا۔ کیا سایہ دس درجے آگے کو بڑھ جائے یا دس درجے پیچھے کو ہٹ جائے؟ 10 حزقیاہ نے کہا۔ کہ سایہ کا دس درجے آگے کو جانا آسان ہے۔ سو یُوں نہیں بلکہ سایہ دس درجے پیچھے کو ہٹ جائے ۔ 11 تب یسعیاہ نبی خُداوند کے پاس چِلاّیا۔ تو اُس نے سایہ کو جوآخزکی دُھوپ گھڑی میں نیچے اُتر گیا تھا دس درجے پیچھے ہٹادِیا۔ 12 اسیری کی بابت پیشین گوئی اُس وقت برودک بلہ دان بلہ دان نے شاہِ بابل نے حزقیاہ کو خط اَور تحفے بھیجے کیونکہ اُس نے سُنا تھا کہ حزقیاہ بیمار ہے۔ 13 سو حزقیاہ نے اُن کی باتیں سُنیں۔ اَور اُس نے اُنہیں نفیس چیزوں کا سارا گھر اَور چاندی اَور سونا اَور مصالح اَور خُوشبُودار تیل اَور اپنے برتنوں کا گھر اَور سب کُچھ جو اُس کے خزانوں میں تھا دکھایا۔ اَور حزقیاہ کے گھر میں اَور اُس کی تمام سَلطنَت میں کوئی چیز نہ تھی۔ جو اُس نے اُنہیں نہ دکھائی۔ 14 تب یسعیاہ نبی حزقیاہ بادشاہ کے پاس آیا اَور اُس سے کہا۔ کہ اُن لوگوں نے کیا کہا اَور کہاں سے وہ تیرے پاس آئے؟ حزقیاہ نے کہا۔ بابل کے دُور مُلک سے۔ 15 اُس نے کہا۔ اُنہوں نے تیرے گھرمیں کیا دیکھا؟ حزقیاہ نے کہا۔ میرے گھر کی ہر ایک چیز اُنہوں نے دیکھی۔ اَور میرے خزانوں میں کوئی چیز نہیں۔ جو مَیں نے اُنہیں نہ دِکھائی ہو۔ 16 تب یسعیاہ نے حزقیاہ سے کہا۔ خُداوند کا فرمان سُن ۔ 17 دِیکھ وہ دِن آئیں گے جِن میں سب کُچھ جو تیرے گھر میں ہے اَور جو کُچھ تیرے باپ دادا نے آج کے دِن تک جمع کِیا بابل کو لے جائیں گے۔ اَور کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔ خُداوند فرماتا ہے۔ 18 اَور تیرے بیٹوں میں سے بھی جو تُجھ سے نِکلیں گے۔ جو تُجھ سے پیدا ہوں گے پکڑے جائیں گے اَور شاہِ بابل کے محلّ میں خواجہ سرا بنیں گے ۔ 19 تب حزقیاہ نے یسعیاہ سے کہا۔ کہ خُداوند کا کلام جو تُو نے کہا ہے اچھّا ہے۔ پِھر اُس نے کہا میرے لئے سلامتی اَور میرے دِنوں میں اَمن ہو! 20 اَور حزقیاہ کا باقی اِحوال اَور اُس کی ساری قُوّت اَور اُس کا ایک حوض اَور نالی بنانا اَور شہر میں پانی لانا۔ کیا یہ یہُوداہ کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں درج نہیں؟ 21 اَور حزقیاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا۔ اَور اُس کا بیٹا مَنسّی اُس کی جگہ بادشاہ ہُوا ۔