باب

1 یسعیاہ نبی کی تسلّی جب حزقیاہ بادشاہ نے سُنا۔ تو اپنے کپڑے پھاڑے اَور ٹاٹ پہنا۔ اَور خُداوند کے گھر میں گیا۔ 2 اَور اِلیاقیِم گھر کے دیوان اَور شِبناہ مُنشی اَور کاہِنوں کے بزُرگوں کو ٹاٹ پہنے ہُوئے یسعیاہ بِن آموص کے پاس بھیجا ۔ 3 تو اُنہوں نے اُس سے کہا۔ حزقیاہ یُوں کہتا ہے۔ کہ آج کا دِن مُصِیبت اَور دھمکی کا دِن اَور کُفر بکنے کا دِن ہے۔ بچوّں کے پیدا ہونے کا وقت آگیا۔ اَور وِلادت کی طاقت نہیں۔ 4 شاید کہ خُداوند تیرا خُدا ربشاقی کی ساری باتیں سُنے گا۔ جِسے اُس کے آقا اسُور کے بادشاہ نے بھیجا۔ کہ زِندہ خُدا کو ملامت کرے اَور اُن باتوں کے سبب جِنہیں خُداوند تیرے خُدا نے سُنا، دھمکی دے۔ اَور تُو باقی ماندوں کے واسطے جو رہ گئے ہیں دُعا کرنے کے لئے کھڑا ہو۔ 5 پس جب حز قیاہ کے مُلازِم یسعیاہ کے پاس پہُنچے۔ 6 تویسعیاہ نے اُن سے کہا تُم اپنے آقا سے یُوں کہو۔ کہ خُداوند اِس طرح فرماتا ہے کہ اُن باتوں کے سبب جو تُونے سُنیں تُو مت ڈر جِن سے کہ شاہِ اسُور کے مُلازِموں نے میرے خلاف کُفر کہا۔ 7 دِیکھ مَیں اُس میں ایک رُوح ڈالُوں گا۔ اَور وہ ایک خبر سُن کر اپنے مُلک واپس جائے گا۔ اَور مَیں اُس کے مُلک میں تلوار سے اُسے گِرادُوں گا۔ 8 اَور ربشاقی واپس گیا۔ تو اُس نے شاہِ اسُور کو لبِناہ کا مُحاصرہ کئے ہُوئے پایا۔ کیونکہ اُس نے سُنا تھا۔ کہ وہ لِکیس سے کُوچ کرگیا ہے ۔ 9 اَور جب اُس سے کہا گیا۔ کہ کُوش کا بادشاہ ترِہاقہ تیرے ساتھ لڑائی کرنے کے لئے نِکلا ہے۔ تو اُس نے پِھر حزقیاہ کے پاس ایلچی بھیج کر کہا۔ 10 کہ تُم حزقیاہ شاہِ یہُوداہ سے بات کرکے کہو۔ کہ تیرا خُدا جس پر تُو بھروسا کئے ہُوئے ہے تُجھے دھوکا نہ دے یہ کہہ کر کہ یرُوشلیِم شاہِ اسُور کے ہاتھ میں حوالے نہیں کیِا جائے گا ۔ 11 تُونے سُنا ہے۔ کہ اسُور کے بادشاہوں نے تمام مُلکوں سے کیا کِیا اَور کیسے اُنہیں برباد کِیا اَور کیا تُو بچ جائے گا؟ 12 کیا اُن قوموں کو جِنہیں میرے باپ دادا نے ہلاک کِیااُن کے مَعبُودوں نے چُھڑایا؟ یعنی جوزان اورحاران اَور رصف اَور بنی عدن جو تلسّار میں تھے۔ 13 حمات کا بادشاہ اَور ارفاد کا بادشاہ اَور شہر سِفَروائم اَور ہنیع اَور عوّا ہ کا بادشاہ کہاں ہیں؟ 14 حزقیاہ کی دُعا تب حزقیاہ نے ایلچیوں کے ہاتھ سے خط لِیا اَور اُسے پڑھا۔ پِھر خُداوند کے گھر میں گیا۔ اَور حزقیاہ نے وہ خط خُداوند کے سامنے کھول دِیا۔ 15 اَور حزقیاہ نے خُداوند کے حضُور دُعا کرکے کہا۔ اَے خُداوند اِسرائیل کے خُدا کرُّوبیوں پر بیٹھنے والے! تُو ہی اکیلا زمین کی سب مَملُکَتوں کا خُدا ہے۔ تُو نے ہی آسمان اَور زمین بنائے۔ 16 اَے خُداوند اپنے کان جُھکا اَور سُن۔ اَے خُداوند اپنی آنکھیں کھول اَور دِیکھ۔ اَور سنحیرب کی باتیں سُن۔ جس نے اِسے بھیجا۔ تاکہ زِندہ خُدا کو ملامت کرے ۔ 17 سچ ہے اَے خُداوند! کہ اسُور کے بادشاہوں نے قوموں اَور اُن کے مُلکوں کو برباد کِیا ۔ 18 اَور اُن کے مَعبُودوں کو آگ میں ڈالا اِس وجہ سے کہ وہ خُدا نہیں لیکن آدمیوں کے ہاتھ کی کارِیگری لکڑی اَور پتھّر تھے سو اُنہوں نے اُنہیں فنا کِیا ۔ 19 اَور اب اَے خُداوند ہمارے خُدا! ہمیں اِس کے ہاتھوں سے چھُڑا۔ تاکہ زمین کی ساری مَملُکتیں جانیں۔ کہ یقینا اکیلا تُو ہی خُداوند خُدا ہے۔ 20 یسعیاہ کی پیشین گوئی تب یسعیاہ بِن آموص نے حزقیاہ کے پاس کہلا بھیجا۔ خُداوند اِسرائیل کا خُدا یُوں فرماتا ہے کہ تُو نے شاہِ اسُور سِنحیرب کی بابت جو دُعا مُجھ سے مانگی مَیں نے وہ سُن لی ہے۔ 21 یہ وہ کلام ہے جو خُداوند نے اُس کے حَق میں فرمایا۔ کہ صُیون کی کنواری بیٹی نے تیری تحقیِر کی اَور ہنسی۔ اَور یرُوشلیِم کی بیٹی نے تیرے پیچھے اپنا سر ہلایا۔ 22 تُونے کِس کو ملامت کی اَور تُو نے کِس کے خلاف کُفر کہا اَور تُونے کِس کے خلاف آواز بُلند کی اَور اپنی آنکھیں اُوپر کو اُٹھائیں؟ اِسرائیل کے قُدُّوس کے خلاف۔ 23 تُونے اپنے ایلچیوں کی زُبان سے خُداوند کو ملامت کی اَور تُو نے کہا۔ کہ مَیں رتھوں کے ساتھ پہاڑوں کی چوٹیوں پر بلکہ لُبنان کے اَنجام تک چڑھ آیا ہُوں مَیں اُس کے اُونچے اُونچے دِیوداروں کو اَور عُمدہ عُمدہ سرووں کو کاٹُوں گا۔ اَور اُس کی سَرحدوں کے گھروں میں اَور اُس کے جنگل میں جو باغ کی مانند ہے، گھُسوں گا۔ 24 مَیں نے کھودا اَور مَیں نے اجنبی پانی پِیا اَور مَیں نے اپنے پاؤ ں کے تلوؤں سے مصِر کی تمام ندیوں کو سُکھادِیا۔ 25 کیا تُونے نہیں سُنا؟ کہ مَیں نے مُدّت سے کیا کِیا۔ قدیم ایّام سے مَیں نے اُسے ٹھہرایا۔ اوراَب مَیں اَنجام تک لایا ہُوں۔ کہ تُو مُستحکم شہروں کو برباد کرے۔ یہاں تک کہ وہ تباہی کے انبار ہوں۔ 26 وہاں کے باشِندے کمزور ہاتھوں والے تھے۔ وہ گھبرا گئے اَور شرمنِدہ ہُوئے۔ وہ چراگاہ کی گھاس کی طرح اَور ہری سبزی کی طرح اَور چھتوں کی گھاس کی مانند ہوگئے۔ جو پکنے سے پہلے ہی ہَوا سے سُوکھ جاتی ہے۔ 27 تیرا بیٹھنا اَور تیرا باہر نِکلنا اَور تیرا اندر آنا اَور تیرا غُصّہ جو مُجھ پر ہے مَیں جانتا ہُوں۔ 28 چُونکہ تیرا غُصّہ میرے خلاف اَور تیری شیخی میرے کانوں تک اُونچی ہوئی سو مَیں تیری ناک میں کانٹاڈالُوں گا اَور تیرے ہونٹوں میں لگام ڈالوں گا۔ اَور جس راہ سے تُو آیا اُسی سے تُجھے واپس کرُوں گا ۔ 29 اَور تیرے لئے اَے حزقیاہ یہ نِشان ہے کہ تُو اِس برس جو کُچھ تُجھے ملے کھا اَور دوسرے برس وہ چیزیں جو خُود بخود اُگیں اَور تیسرے برس تُم بوؤ اَور فصل کاٹو اَور تاکِستان لگاؤ اَور اُن کے پَھل کھاؤ۔ 30 اَور یہُوداہ کے گھر سے جو بچا ہُوا باقی رہے وہ نیچے تک جڑ پکڑے گا۔ اَور اُوپر تک پھلے گا۔ 31 کیونکہ بَقیّہ یرُوشلیِم سے اَور بچ رہے ہوئے کوہِ صیون سے باہر نِکلیں گے۔ ربُّ الافواج کی غیرت یہ کرے گی ۔ 32 اِس لئے خُداوند شاہِ اسُور کی بابت فرماتاہے کہ وہ اُس شہر میں داخِل نہ ہوگا اَور نہ اُس کی طرف تیرِ چلائے گا۔ اَور نہ ڈھال لے کر اُس کے سامنے آئے گا۔ اَور نہ اُس کے مُقابِل دَمدَمہ باندھے گا ۔ 33 لیکن جس راہ سے آیا اُسی سے واپس جائے گا۔ اَور اِس شہر میں داخِل نہ ہوگا۔ خُداوند فرماتا ہے۔ 34 اَور مَیں اِس شہر کی حمایت کرُوں گا۔ اَور اپنی خاطِر اَور اپنے بندے داؤ د کی خاطِر اُسے بچاوُں گا۔ 35 اَور اُس رات کو ایسا ہُوا۔ کہ خُداوند کے فرِشتے نے آکر اسُور کے لشکر میں سے ایک لاکھ پچاسی ہزار کو مارا۔ پس جب وہ صُبح سویرے اُٹھے۔ تو دیکھا وہ سب مُرے پڑے ہیں۔ 36 تب شاہِ اسُور سنحیرب نے کُوچ کِیااَور واپس چلا گیا۔ اَور نِینوہ میں جارہا ۔ 37 اَور جب وہ اپنے مَعبُود نسروک کے مندر میں پُوجا کرتا تھا۔ اَدر ملک اَور شراضر نے اُسے تلوار سے قتل کِیا۔ اَور وہ دونوں اراراط کے مُلک کو بھاگ گئے۔ اَور اُس کا بیٹا اسرحدّون اُس کی جگہ بادشاہ ہُوا۔