1 حِزقیاہ یہُوداہ کا بادشاہ شاہِ اِسرائیل ایلہ کے بیٹے ہوسیع کے تیسرے برس میں یہُوداہ کے بادشاہ آخزکا بیٹا حزقیاہ بادشاہ ہُوا۔ 2 جس وقت وہ بادشاہ ہُوا۔ وہ پچیس برس کا تھا۔ اَور اُس نے یرُوشلیِم میں اُنتیس برس بادشاہی کی۔ اَور اُس کی ماں کا نام اَبی بنت زکریاہ تھا۔ 3 اَور اُس نے خُداوند کی نِگاہ میں راست کاری کی۔ اُس سب کی مانند جو اُس کے باپ داؤد نے کِیا۔ 4 اَور اُس نے اُونچی جگہوں کو ڈھادیا۔ اَور ستُونوں کو توڑا۔ اَور کھمبوں کو کاٹا اَور پِیتل کے سانپ کو جو مُوسیٰ نے بنایا تھا چکنا چُورکِیا۔ کیونکہ بنی اِسرائیل اُن دِنوں اُس کے آگے بخور جَلاتے تھے۔ اَور اُس کا نام نحشتان رکھّا گیا ۔ 5 اَور اُس نے خُداوند اِسرائیل کے خُدا پر بھروسا کِیا۔ اَور یہُوداہ کے سارے بادشاہوں میں اُس کے بعد ویسا کوئی نہ ہُوا۔ اَور نہ اُن میں جو اُس سے پہلے تھے۔ 6 اَور وہ خُداوند سے لپٹا رہا۔ اَور وہ اُس کی پیروی کرنے سے نہ ہٹا۔ اَور اُن اِحکام کو جو خُداوند نے مُوسیٰ کو فرمائے تھے اُس نے مانا۔ 7 اَور خُداوند اُس کے ساتھ تھا۔ اَور وہ اپنے سب کاموں میں کامیاب ہوتا تھا اَور وہ شاہِ اسُور سے باغی ہُوا اَور اُس کی خدمت نہ کی۔ 8 اُس نے فِلستیوںکو غزہ تک اَور سَرحدوں تک پَہرہ داروں کے بُرج سے لے کر مُستحکم شہر تک مارا۔ 9 اَور حزقیاہ بادشاہ کے چوتھے برس میں جو شاہ ِاِسرائیل ہوسیع بن ایلہ کا ساتواں برس تھا۔ اسُور کے بادشاہ سلمنسرنے سامریہ پر چڑھائی کی اَور اُس کا مُحاصرہ کِیا ۔ 10 اَور تین سال کے بعد اُسے لے لِیا۔ حزقیاہ کے چھٹے برس میں جو شاہِ اِسرائیل ہوسیع کانواں برس تھا۔ سامریہ لے لِیا گیا ۔ 11 اَور شاہِ اسُور اِسرائیل کو اسیر کرکے اسُور میں لے گیا۔ اَور اُنہیں خلح میں اَورخابور ندی کے پاس جوزان میں اَور مادیوں کے شہروں میں بسایا۔ 12 کیونکہ اُنہوں نے خُداوند اپنے خُدا کا قول نہ سُنا اَور اُس کے عہد کو توڑا۔ اَور خُداوند کے بندے مُوسیٰ نے جو اُنہیں حُکم دِیا تھا اُسے نہ سُنا۔ اَور نہ اُس پر عمل کِیا۔ 13 اسُور کے حملے َ اورحزقیاہ بادشاہ کے چودھویں برس میں اسُور کے بادشاہ سِنحیرب نے یہُوداہ کے سب فصیل دار شہروں پر چڑھائی کی اَور اُنہیں لے لِیا۔ 14 تب شاہ یہُوداہ حزقیاہ نے شاہِ اسُور کے پاس لِکیس میں قاصِد بھیج کر کہا۔ مُجھ سے خطا ہُوئی تُو میرے پاس سے چلا جا اَور جوتاوان تُو مُجھ پر لگائے مَیں تیرے پاس بھیجوں گا۔ تو شاہِ اسُور نے شاہ ِیہُوداہ حزقیاہ پر تین سَو قنطار چاندی اور تیس قنطار سونا تاوان لگایا۔ 15 تب حزِقیاہ نے سب چاندی جو خُداوند کے گھر میں اَور بادشاہ کے گھر کے خزانوں میں پائی گئی۔ اُسے دی۔ 16 اُس وقت حزقیاہ نے خُداوند کی ہَیکل کے دروازوں اَور ستُونوں سے سونا چھِیلا جو اُس نے مڑھا تھا۔ اَور اسُور کے بادشاہ کو دیا ۔ 17 اَور شاہِ اسُور نے تَرتان اَور رَب سارس اَور رَبشاقی کو لِکیس سے حزقیاہ بادشاہ کے خلاف بڑے لشکر کے ساتھ یرُوشلیِم پر بھیجا۔ تو وہ چلے اَور یرُوشلیِم کو آئے۔ جب وہ آئے تو جاکر اُوپر کے حوض کی نالی پر جو دھوبیوں کے میدان کی راہ میں ہے کھڑے ہوگئے۔ 18 اَور اُنہوں نے بادشاہ کو پُکارا۔ تو اِلِیاقیم بِن خلِقیاہ گھر کا دِیوان اَور شِبناہ مُنشی اَور آسف محرر اُن کے پاس باہر گئے۔ 19 تو ربشاقی نے اُن سے کہا۔ تُم حزقیاہ سے کہو۔ کہ شاہِ عظیم اسُور کا بادشاہ یُوں کہتاہے۔ کہ کون سا بھروسا ہے جس پر تُجھے اِعتماد ہے؟ 20 تُونے کہا۔ لیکن یہ ہونٹوں کی بات کے سِوا کُچھ نہیں۔ کہ مُجھ میں مصلحت اَور لڑائی کی طاقت ہے۔ اَور اَب کِس پر تیرا بھروسا ہے؟ کہ تُو نے میرے خلاف بغاوت کی۔ 21 تُو نے لاٹھی پر یعنی اُس مَسلے ہُوئے سَرکنڈے مصِر پر بھروسا کِیا۔ کہ جو کوئی اُس کا سہارا لے وہ اُس کے ہاتھ میں گڑے گا اَور اُسے چھیدے گا۔ ایسا ہی شاہِ مصِر فرِعُون اُن سب کے لئے ہے۔ جو اُس پر بھروسا کرتے ہیں۔ 22 اَور اگر تُو مُجھے کہے۔ کہ ہم خُداوند اپنے خُدا پر بھروسا کرتے ہیں۔ تو کیا یہ وُہی نہیں؟ کہ جس کی اُونچی جگہوں اَور مذَبحوں کو حزقیاہ نے گِرا دیا۔ اَور یہُوداہ اَور یرُوشلیِم سے کہا۔ کہ تُم اِس مذَبح کے سامنے یرُوشلیِم میں سجدَہ کرو گے۔ 23 اَور اَب تُو میرے آقا شاہِ اسُور کے ساتھ شرط باندھ اَور مَیں تُجھے دو ہزار گھوڑے دُوں گا۔ بشرطیکہ تیرے پاس اُن کے لئے سوار ہوں۔ 24 اَور تُو میرے آقا کے چھوٹے خادِموں میں سے ایک سردار کا کیسے مُقابلہ کرسکتا ہے جب کہ تُو رتھوں اَور سَواروں کے واسطے مصِر کا بھروسا رکھتا ہے ۔ 25 اَور اَب تُو کیا سمجھتا ہے؟ کیا مَیں نے خُداوند کی مرضی کے بغیرہی اُس مقام کو برباد کرنے کے لئے اُس پر چڑھائی کی ہے؟ خُداوند ہی نے مُجھے کہا۔ کہ اِس مُلک پر چڑھ جا اَور اِسے برباد کر۔ 26 تب اِلیاقیم بِن خلقیاہ اَور شِبناَہ اور یوآخ نے ربشاقی سے کہا۔ کہ اپنے بندوں کے ساتھ اَرامی زُبان میں بات کر۔ کیونکہ ہم اُسے سمجھتے ہیں۔ اوراُن لوگوں کے سُنتے ہُوئے جو دِیوار پر کھڑے ہیں ہمارے ساتھ یہُودی زُبان میں نہ بول۔ 27 تب ربشاقی نے اُن سے کہا۔ کیا میرے آقا نے مُجھے تیرے آقا کے پاس اَور تیرے ہی پاس یہ بات کہنے کو بھیجا ہے اَور اُن آدمیوں کے پاس نہیں جو دِیوار پر کھڑے ہیں۔ تاکہ وہ تُمہارے ساتھ اپنا فضلہ کھائیں۔ اَور اپنی نجاست پِیئیں۔ 28 پِھر ربشاقی کھڑا ہُوا۔ اَور یہُودی زُبان میں بُلند آواز سے پُکارا اَور بات کرکے کہا۔ کہ شاہِ عظیم اسُور کے بادشاہ کا کلام سُنو۔ 29 بادشاہ نے اِس طرح کہا ہے کہ حزقیاہ تُمہیں دھوکا نہ دے۔ کیونکہ اُسے طاقت نہیں کہ تُمہیں میرے ہاتھوں سے چُھڑائے ۔ 30 اَور نہ حزقیاہ تُمہیں خُداوند پر بھروسا کرنے دے یہ بات کہہ کر کہ خُداوند ہمیں چُھڑائے گا۔ اَور اُس شہر کو اسُور کے بادشاہ کے ہاتھ میں حوالے نہ کرے گا۔ 31 تُم حزقیاہ کی نہ سُنو۔ کیونکہ اسُور کے بادشاہ نے اِس طرح کہا ہے۔ میرے ساتھ صُلح کرلو۔ اَور میرے پاس باہر آؤ۔ اَور تُم میں سے ہر ایک اپنے انگُور سے اَور اپنے انجیر سے کھاتا رہے۔ اَور تُم میں سے ہر ایک اپنے کنُوئیں کا پانی پِیتا رہے۔ 32 جب تک کہ مَیں نہ آوُں۔ اَور تُمہیں ایسے مُلک میں لے نہ جاؤں جو تُمہارے مُلک کی مانندہے۔ گندم اَور مَے کا مُلک روٹی اَور انگُوروں کا مُلک زیتُونی تیل اورشہد کا مُلک۔ اَور تُم جِیتے رہو گے اَور نہ مرَو گے۔ اَور تُم حزقیاہ کی بات نہ سُنو۔ جب وہ تُمہیں یہ بات کہہ کر دھوکا دے کہ خُداوند ہمیں چُھڑائے گا۔ 33 کیا قوموں کے مَعبُودوں میں سے کِسی نے اپنے مُلک کو شاہِ اسُور کے ہاتھ سے چُھڑایا ہے؟ 34 حمات اَور اَرفاد کے مَعبُود کہاں ہیں؟ سِفَروائم اَور ہنیع اَور عَوّاہ کے مَعبُود کہاں ہیں ؟ کیا اُنہوں نے سامریہ کو میرے ہاتھ سے بچایا ہے؟ 35 اَور مُلکوں کے سارے مَعبُودوں میں کون ہے۔ جس نے اپنے مُلک کو میرے ہاتھ سے چُھڑایا ہے؟ کہ خُداوند یرُوشلیِم کومیرے ہاتھ سے چُھڑائے گا۔ 36 تب لوگ چُپ رہے اَور ایک لفظ سے بھی اُسے جَواب نہ دِیا۔ اِس لئے کہ بادشاہ نے حُکم دے کر کہا تھا۔ کہ اُسے جَواب مت دو۔ 37 اَور اِلیاقیِم بِن خلقیاہ گھر کا دِیوان اَور شِبنَاہ مُنشی اَور یوآخ بِن آسف محرراپنے کپڑے چاک کِئے ہُوئے حزقیاہ ے پاس آئے اَور اُسے ربشاقی کے کلام کی خبر دی۔