1 ایلیاہ کا عُرُوج اَور ایسا ہُوا۔ جب خُداوند نے چاہا کہ ایلیاہ کو ایک بگولے میں آسمان کی طرف لے جائے۔ تب ایلیاہ الیشع کے ساتھ جِلجال سے چلا۔ 2 اَورایلیاہ نے الیشع سے کہا۔ تُو یہاں ٹھہر۔ کیونکہ خُداوند نے مُجھے بَیت ایل کو بھیجا ہے۔ الیشع نے کہا۔ زِندہ خُداوند کی قَسم اَور تیری جان کی قَسم مَیں تُجھے نہ چھوڑُوںگا۔ اَور وہ بَیت ایل کو گئے۔ 3 اَور انبِیازادے جو بَیت ایل میں تھے نِکل کر الیشع کے پاس آئے اَور کہا۔ کیا تُو جانتا ہے؟ کہ خُداوند آج تیرے آقا کو تیرے پاس سے اُٹھا لے جائے گا۔ وہ بولا ہاں مَیں جانتا ہُوں۔ پس تُم چُپ رہو۔ 4 پِھرایلیاہ نے الیشع سے کہا۔ تُو یہاں ٹھہر۔ کیونکہ خُداوند نے مُجھے یریحو کو بھیجا ہے۔ اُس نے کہا زِندہ خُداوند کی قَسم اَور تیری جان کی قَسم مَیں تُجھے نہ چھوڑُوںگا۔ اَور وہ دونوں یریحو میں آئے۔ 5 تب انبِیازادے جو یریحو میں تھے الیشع کے پاس آئے۔ اَور اُس سے کہا۔ کیا تُو جانتا ہے؟ کہ خُداوند آج تیرے آقا کو تیرے پاس سے اُٹھالے جائے گا۔ وہ بولا۔ ہاں مَیں جانتا ہُوں۔ تُم چُپ رہو۔ 6 پِھرایلیاہ نے اُس سے کہا۔ تُو یہاں ٹھہر۔ کیونکہ خُداوند نے مُجھےیُردن کو بھیجا ہے وہ بولا زِندہ خُداوند کی قَسم اَور تیری جان کی قَسم مَیں تُجھے نہ چھوڑُوں گا۔ اَور وہ دونوں ایک ساتھ گئے۔ 7 اَور انبِیازادوں میں سے پچاس آدمی گئے۔ اَور اُن کے مُقابِل دُور کھڑے ہوگئے۔ اَور وہ دونوں یردن کے کنِارے پر کھڑے تھے۔ 8 تب ایلیاہ نے اپنی چادر پکڑی اَور لپیٹی اَور پانی پر ماری۔ تو وہ اِدھر اُدھر تقسیم گیا۔ اَور وہ دونوں خُشک زمین پر پار ہوگئے۔ 9 جب وہ پار چلے گئے۔ توایلیاہ نے الیشع سے کہا پیشتر اِس کے کہ مَیں تُجھ سے لِیا جاؤں ۔ تُو مانگ کہ مَیں تیرے لئے کیا کرُوں؟ الیِشع نے کہا۔ کہ تیری رُوح میں سے میرے لئے دُگنا حِصّہ ہو۔ 10 اُس نے کہا۔ تُونے مُشکل بات مانگی۔ پس جس وقت کہ مَیں تُجھ سے لِیا جاؤں اگر تُو مُجھے دیکھے تو یہ تیرے لئے ہو جائے گا۔ ورنہ نہیں۔ 11 اَور جب وہ دونوں چلے جاتے اَور باتیں کرتے جاتے تھے۔ تو دیکھو ایک آتشی رتھ اَور آتشی گھوڑوں نے اُن دونوں کے درمیان جُدائی کر دی۔ اَورایلیاہ بگولے میں آسمان کی طرف چڑھ گیا۔ 12 اَور الیِشع نے اُسے دیکھا۔ اَور چِلّایا۔ اَے میرے باپ! اَے میرے باپ! اَے اِسرائیل کے رتھ اَور اُس کے سوار! اَور اُس نے اُسے پِھر نہ دیکھا۔ اَور اُس نے اپنے کپڑے پکڑے۔ اَور اُن کو دو حِصّوں میں پھاڑا ۔ 13 الیشع کے پہلے مُعجزے اَورایلیاہ کی چادر جو اُس سے گِر گئی تھی اُس نے اُٹھالی اَور واپس چلا۔ اَور یُردن کے کِنارے پر کھڑا ہُوا 14 اَور اُس نےایلیاہ کی چادر جو اُس سے گِر گئی تھی پکڑی اَور پانی پر ماری پر وہ تقسیم نہ ہُوا اَور اُس نے کہا کہ خُداوندایلیاہ کا خُدا اِس وقت کہاں ہے؟ اَور اُس نے اُسے پانی پر مارا۔ تو وہ دو حِصّے ہوگیا۔ اَور الیِشع پار ہوگیا۔ 15 اَور یریحو کے انبِیازادوں نے جو اُس کے سامنے ہے اُسے دیکھا تو کہا۔ کہ ایلیاہ کی رُوح الیشع پر اُتری اَور وہ اُس کے مِلنے کو آئے۔ اَور زمین تک اُس کے آگے جُھکے۔ 16 اَور اُنہوں نے اُس سے کہا۔ دیکھ تیرے خادِموں کے ساتھ پچاس طاقتور آدمی ہیں۔ وہ جائیں اَور تیرے آقا کی تلاش کریں۔ ہوسکتا ہے کہ خُداوند کی رُوح نے اُسے اُٹھایا ہو۔اَور کِسی پہاڑ پر یا کِسی وادی میں پھینک دِیا ہو۔ وہ بولا۔ اِنہیں مت بھیجو۔ 17 اَور اُنہوں نے اِصرار کرکے اُسے تنگ کِیا۔ تو اُس نے کہا، بھیج دو۔ تو اُنہوں نے پچاس آدمی بھیجے۔ جِنہوں نے تین دِن تک تلاش کی۔ پر اُسے نہ پایا۔ 18 تب وہ اُس کے پاس لَوٹ کر آئے جس وقت کہ وہ یریحو میں تھا۔ تو اُس نے اُن سے کہا۔ کیا مَیں نے تُم سے نہ کہا؟ کہ مت جاؤ۔ 19 اَور شہر کے لوگوں نے الیشع سے کہا کہ اِس شہر کی حالت تو اچھی ہے ۔ جیسا کہ ہمارا آقا دیکھتا ہے۔ لیکن۔ یہاں کا پانی خراب ہے۔ اَور زمین بنجر ہے۔ 20 تو اُس نے کہا۔ میرے پاس ایک نیا پیالہ لاؤ۔ اَور اُس میں نمک ڈالو۔ سو وہ اُس کے پاس لائے۔ 21 اَور وہ پانی کے چشمے پر گیا۔ اَور اُس میں نمک ڈالا اَور کہا۔ خُداوند یُوں فرماتا ہے۔ کہ مَیں نے اِس پانی کو اچھّا کِیا۔ تو اُس سے مَوت اَور بنجر پن نہ ہوگا۔ 22 اَور الیشع کے کلام کے مُطابِق جو اُس نے کہا۔ وہ پانی اچھّا ہوگیا اَور آج تک ہے۔ 23 اَور وہاں سے وہ بَیت ایل کی طرف گیا۔ اَور جس وقت وہ راہ میں جارہا تھا۔ تو دیکھو شہر سے چھوٹے لڑکے نِکلے اَور اُس پر ٹھٹھّا کِیا اَور کہا۔ چڑھا چلا جا اَے گنجے! چڑھا چلا جا اَے گنجے! 24 تو اُس نے اپنے پیچھے کی طرف نِگاہ کی اَور اُنہیں دیکھا۔ اَور خُداوند کے نام سے اُن پر لعنت کی۔ تب جنگل میں سے دو رِیچھنیاں نِکلیں۔ اَور اُن میں سے بیالیس لڑکوں کو پھاڑ ڈالا۔ 25 پِھر وہ وہاں سے کوہ ِکرمِل کو گیا۔ اَور وہاں سے سامریہ کی طرف کو لَوٹا۔