1 اَخزیاہ کی مَوت کی پیشین گوئی اَور اَخی اب کی مَوت کے بعد موآب نے اِسرائیل سے بغاوت کی ۔ 2 اَور اَخزیاہ اپنے بالا خانے کے ایک جھرَو کے سے جو سامریہ میں تھا گِر پڑا اَور بیمار ہُوا۔ تو اُس نے قاصِد بھیجے اَور اُن سے کہا۔ جاؤ اَور عِقُرون کے مَعبُود بَعلَ زبُوب سے دریافت کرو۔ کہ آیا مَیں اِس بیماری سے شِفا پاوُںگا؟ 3 تب خُداوند کے فرِشتے نےایلیاہ تشبی سے مُخاطِب ہو کر کہا۔ جا اَور شاہِ سامریہ کے قاصِدوں سے مِل۔ اَور اُن سے کہہ۔ کیا اِسرائیل میں کوئی خُدا نہیں جو تُم عِقُرون کے مَعبُود بَعلَ زبُوب سے دریافت کرنے جاتے ہو؟ 4 اِس لئے خُداوند یُوں فرماتا ہے۔ کہ جس پلنگ پر تُو چڑھا ہے۔ اِس سے نہ اُترے گا۔ بلکہ تُو ضرُور مَرجائے گا۔ تب ایلیاہ چلا گیا ۔ 5 اَور وہ قاصِد اَخزیاہ کے پاس واپس آئے۔ تو اُس نے اُن سے کہا۔ تُم کیوں واپس آئے؟ 6 اُنہوں نے اُس سے کہا۔ کہ ایک شخص ہم سے مِلنے کو آیا اَور ہمیں کہا۔ کہ واپس ہو کر بادشاہ کے پاس جس نے تُمہیں بھیجا جاؤ ۔ اَور اُس سے کہو۔ خُداوند یُوں فرماتا ہے۔ کیا اِسرائیل میں کوئی خُدا نہیں؟ کہ تُو نے عِقرُون کے مَعبُود بَعلَ زبُوب کے پاس بھیجا ہے اَور دریافت کِیا ہے۔ اِس لئے جس پلنگ پر تُو چڑھا ہے۔ اُس سے نہ اُترے گا۔ بلکہ ضرُور مَر جائے گا۔ 7 تو اُس نے اُن سے کہا۔ اُس آدمی کی شکل کیسی تھی جو تُم سے مِلنے کو آیا۔ اَور تُم سے مُخاطِب ہو کر یہ بات کہی ۔ 8 اُنہوں نے اُس سے کہا۔ وہ بالوں والا آدمی تھا۔ اَور چمڑے کا کَمر بند اپنی کمر پر باندھے تھا۔ تو اُس نے کہا۔ وہ ایلیاہ تشبی ہے۔ 9 تو اُس نے ایک پچاس سپاہیوں کے سردار کو ہمراہ اُس کے پچاس آدمیوں کے اُس کے پاس بھیجا۔ تو وہ اُس کے پاس گئے۔ اَور دیکھو۔ وہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا ہُوا تھا۔ تو اُس سے کہا۔ اے مردِ خُدا! بادشاہ کہتا ہے نیچے آ ۔ 10 ایلیاہ نے جَواب دِیا۔ اَور پچاس کے سردار سے کہا۔ اگر مَیں مَردِ خُدا ہُوں۔ تو آگ آسمان سے نازِل ہو اَور تُجھے اَور تیرے پچاسوں کو کھا جائے۔ تب آگ آسمان سے نازِل ہُوئی اَور اُسے اَور اُس کے پچاسوں کو بھسم کرگئی۔ 11 پِھر اُس نے ایک دُوسرے پچاس کے سردار کو اُس کے پچاسوں آدمیوں سمیت بھیجا۔ تواُس نے اُس سے کلام کرکے کہا۔ اَے مَردِ خُدا! بادشاہ نے یُوں کہا۔ کہ جلد نیچے آ۔ 12 ایلیاہ نے جَواب دے کر اُن سے کہا۔ اگر مَیں مَردِ خُدا ہُوں۔ تو آگ آسمان سے نازِل ہو۔ اَور تُجھے اَور تیرے پچاسوں کو کھا جائے۔ تب آگ آسمان سے نازِل ہُوئی اَور اُسے اَور اُس کے پچاسوں کو بھسم کرگئی۔ 13 پِھر اُس نے ایک تیسرے پچاس کے سردار کوہمراہ اُس کے پچاس آدمیوں کے بھیجا۔ سو یہ تیسرا پچاس کا سردار اُوپر چڑھا۔ اَور آکرایلیا ہ کے سامنے اپنے گُھٹنوں پر جُھکا۔ اَور اُس کی مِنّت کرکے کہا۔ اے مَردِ خُدا! میری جان اَور تیرے خادِموں، اِن پچاسوں کی جانیں تیری نظر میں قیمتی ہوں۔ 14 دیکھ آگ آسمان سے نازِل ہُوئی۔ اَور اگلے دو پچاس کے سرداروں کو ہمراہ اُن کے پچاسوں پچاسوں کے بھسم کرگئی۔ اَور اب میری جان تیری نظر میں عزیز ہو۔ 15 تب خُداوند کے فرِشتے نےایلیاہ سے کہا۔ اُس کے ساتھ نیچے اُتر جا۔ اَور اُس کے چہرے سے نہ ڈر۔ تو وہ اُٹھا اَور اُس کے ساتھ بادشاہ کے پاس نیچے گیا۔ 16 اَور اُس سے کہا۔ خُداوند یُوں فرماتا ہے چُونکہ تُو نے قاصِدوں کو بھیجا کہ عقُرون کے مَعبُود بَعلَ زبُوب سے سوال کریں۔ گویا کہ اِسرائیل میں کوئی خُدا نہ تھا۔ جس سے تُو اُس کا کلام دریافت کرے۔ سو اِس لئے جس پلنگ پر تُو چڑھا ہے۔ اُس سے نہ اُترے گا۔ بلکہ ضرُور مَر جائے گا۔ 17 چُنانچہ وہ خُداوند کے کلام کے مُطابِق جوایلیاہ نے کہا تھا مَر گیا۔ اَور چُونکہ اُس کا کوئی بیٹا نہ تھا۔ اُس کا بھائی یہورام، شاہِ یہُوداہ یہورام بِن یہوسفط کے دُوسرے برس میں اُس کی جگہ بادشاہ ہُوا۔ 18 اَور اَخزیاہ کا باقی احوال اَور جو کُچھ اُس نے کِیا۔ کیا یہ اِسرائیل کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں مندرج نہیں؟