باب

1 یوآس یہُوداہ کا بادشاہ یاہُو کے ساتویں برس میں یوآس بادشاہ ہُوا۔ اَور اُس نے یرُوشلیِم میں چالیس برس بادشاہی کی۔ اور اُس کی ماں کا نام ضِبیاہ تھا جو بیر سبع کی تھی۔ 2 اَور یوآس نے اپنے سب دِنوں میں جب تک کہ یہویدع کاہِن اُس کی ہِدایت کرتارہا۔ وہی کام کِیا جو خُداوند کی نِگاہ میں راست تھا۔ 3 لیکن اُونچی جگہیں دُور نہ کی گئیں۔ بلکہ لوگ اُونچی جگہوں پر قُربانیاں کرتے اَور بخُور جلاتے تھے۔ 4 ہَیکل کی مَرمّت اَور یوآس نے کاہِنوں سے کہا کہ مُقدّس چیزوں کی تمام نقدی جو بطور ہدیہ کے لائی جاتی ہے۔ وہ نقدی جو ہر ایک آدمی کے لئے مُقرّر ہے۔ اَور وہ تمام نقدی جوہر ایک اپنی خُوشی سے خُداوند کے گھر میں لاتا ہے۔ 5 سب کاہِن اپنے اپنے جان پہچانوں سے لے کر ہَیکل کی دراڑوں کی۔ جہاں کہیں کوئی دراڑ مِلے۔ مَرمّت کریں ۔ 6 اَور ایسا ہُوا کہ یوآس بادشاہ کے تئیسیویں سال تک کاہِنوں نے ہَیکل کی دراڑوں کی مَرمّت نہ کروائی۔ 7 تب یوآس بادشاہ نے یہویدع سردار کاہِن اَور کاہِنوں کو بُلایا۔ اَور اُن سے کہا۔ کہ تُم ہَیکل کی دراڑوں کی مَرمّت کیوں نہیں کرتے ہو؟ اَب تُم اپنے اپنے جان پہچانوں سے نقدی نہ لینا۔ لیکن ہَیکل کی دراڑوں کی مَرمّت کے لئے اُسے حوالہ کرو۔ 8 اور کاہِنوں نے منظُور کِیا ۔ کہ نہ وہ لوگوں سے نقدی لیں اور نہ گھر کی دراڑوں کی مَرمّت کریں ۔ 9 تب یہویدع سردار کاہِن نے ایک صندُوق لِیا اَور اس کے اُوپر کے تختے میں چھِید کِیا۔ اَور اُسے مذَبح کے قریب خُداوند کے گھر کے اندر دہنی طرف رکھّا۔ اَور کاہِن جو دروازوں کی نِگہبانی کرتے تھے۔ سب نقدی کو جو خُداوند کے گھر میں لائی جاتی تھی اُس میں ڈال دیتے تھے۔ 10 اَور جب وہ دیکھتے کہ صندُوق میں بُہت نقدی ہوگئی۔ توبادشاہ کا مُنشی اورسردار کاہِن اُوپر آتے اورجو نقدی خُداوند کے گھر میں پائی جاتی اُسے تھیلیوں میں باندھتے اورگِن لیتے تھے۔ 11 اَور وہ گنِی ہوئی نقدی کام کرانے والے داروغوں کو جو خُداوند کے گھر پر مامُور تھے سُپرد کرتے۔ چُنانچہ وہ ترکھانوں اَور مِعماروں کو جو خُداوند کے گھر میں کام کرتے تھے۔ 12 اَور راجوں اَور سنگ تراشوں کو اَور لکڑیاں اور تراشے ہُوئے پتھّر خرِیدنے کے لئے کہ خُداوند کے گھر کی مَرمّت ہو۔ اَور ہر ایک چیز کے لئے جو گھر کی مَرمّت کے لئے درکار تھی، دیتے تھے۔ 13 اَور اُس نقدی سے جو خُداوند کے گھر میں لائی جاتی تھی۔ خُداوند کے گھرکے لئے چاندی کے نہ دیگچے نہ گلگیر اَور نہ پیالے اَور نہ نرسِنگے نہ کوئی سونے اَور نہ چاندی کے برتن بنائے جاتے تھے۔ 14 بلکہ وہ اُسے کام کرنے والوں کو دیتے۔ اَور اُس سے خُداوند کے گھر کی مَرمّت کراتے تھے۔ 15 اَور اُن آدمیوں سے جِن کے ہاتھ میں وہ نقدی سپُرد کرتے تاکہ کام کرنے والوں کوادا کریں۔ وہ حِساب نہ لیتے تھے۔ مگر وہ امانت داری سے کام کرتے تھے۔ 16 لیکن گُناہ کی نقدی اَور خطا کی نقدی وہ خُداوند کے گھر میں داخِل نہ کرتے۔ بلکہ وہ کاہِنوں کی تھی۔ 17 تب اَرام کے بادشاہ حزائیل نے چڑھائی کی اَور جا ت سے جنگ کی۔ اَور اُسے لے لِیا۔ پِھر حزائیل نے یُروشلیِم پر چڑھائی کرنے کا رُخ کیا ۔ 18 تو یہُوداہ کے بادشاہ یوآس نے سب مُقدّس چیزوں کو اَور تمام سونے کو جو خُداوند کے گھر کے اَور بادشاہ کے خزانوں میں موجُود تھا لِیا اَور اُسے اَرام کے بادشاہ حزائیل کے پاس بھیجا۔ تب وہ یرُوشلیِم سے چلاگیا۔ 19 یوآس کی وفات اَور یوآس کاباقی اِحوال اَور سب کُچھ جواُس نے کِیا۔ کیا یہ یہُوداہ کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں درج نہیں؟ 20 اَور اُس کے خادِم اُٹھے اَور آپس میں سازِش کی۔ اَور یوآس کو مِلّو کے گھر میں جو سِلاّکی اُترائی پر ہے قتل کِیا۔ 21 اَور اُسے اُس کے دو مُلازِموں یوسکا ربِن سماعت اَور یہوزبد بِن شومیر نے مارا۔ سو وہ مَرگیا۔ اَوراُنہوں نے اُسے داؤ د کے شہر میں اُس کے باپ دادا کے ساتھ دفن کِیا۔ اَور اُس کا بیٹا اَمَصیاہ اُس کی جگہ بادشاہ ہُوا ۔