باب

1 اَخی اب کے گھرانے کی ہلاکت اَور سامریہ میں اَخی اب کے ستّر بیٹے تھے۔ تویاہُو نے سامریہ میں اِسرائیل کے رئیسوں اَور بُزرگوں اَوراَخی اب کے بیٹوں کے مُربیّوں (پالنے والوں )کی طرف خط لِکھے اَور کہا ۔ 2 جس وقت تُمہارے پاس یہ خط پہُنچے۔ چُونکہ تُمہارے پاس تُمہارے آقا کے بیٹے ہیں۔ اَور گاڑیاں اَور گھوڑے اَور فصِیل دار شہر اَور ہتھیار ہیں۔ 3 تو تُم دیکھو کہ تُمہارے آقا کے بیٹوں میں سے کون افضل اَور لائق ہے۔ سو تُم اُسے اُس کے باپ کے تخت پر بٹھاؤ ۔ اَور اپنے آقا کے گھرانے کے لئے لڑائی کرو۔ 4 مگر وہ بہ شِدّت ڈر گئے۔ اَور کہا۔ دیکھو دو بادشاہ اُس کے سامنے کھڑے نہ رہے۔ تو ہم کیسے کھڑے رہیں گے؟ 5 تو اُنہوں نے گھر کے دِیوان اَور شہر کے حاکِم اَور بزُرگوں اَور مُربیّوں( پالنے والوں) کو یاہُو کے پاس بھیج کر کہا۔ کہ ہم تیرے خادِم ہیں۔ اَور جو کُچھ تُو ہمیں کہے ہم کریں گے۔ ہم کِسی کو بادشاہ نہیں بناتے۔ اَور جو کُچھ تیری نظر میں اچھّا ہو سو تُوکر۔ 6 تو اُس نے اُن کی طرف دوسرا خط لِکھا جس میں کہا۔ کہ اگر تُم میرے ہو اَور میرے حُکم کے فرمانبردار ہو۔ تو اپنے آقا کے بیٹوں کے سِروں کو لے کر کَل کے روز اِسی گھڑی یزر عیل میں میرے پاس آؤ ۔ پس شہر کے رئیسوں کے پاس بادشاہ کے ستّر بیٹے تھے۔ جِن کی وہ پرورِش کرتے تھے۔ 7 جب یہ خط اُن کے پاس پہُنچا۔ تو اُنہوں نے بادشاہ کے بیٹوں کو پکڑا۔ اَور اُن ستّر آدمیوں کو قتل کِیا۔ اَور اُن کے سروں کوٹوکروں میں رکھّا۔ اَور اُس کے پاس یزر عیل میں بھیجا ۔ 8 تب ایک قاصِد آیا اَور اُسے خبردے کر کہا۔ کہ وہ بادشاہ کے بیٹوں کے سروں کو لائے ہیں ۔ اُس نے کہا۔ کہ پھاٹک کے مَدخل کے پاس اُن کے دو ڈھیر لگا کر صُبح تک رہنے دو۔ 9 جب صُبح ہُوئی تو وہ نِکلا اَور کھڑاہُوا۔ اَور سب لوگوں سے کہا۔ تُم راست ہو اگر مَیں نے اپنے آقا کے خلاف سازِش کی اَور اُسے قتل کِیا مگر وہ کون ہے جس نے اِن سب کو قتل کِیا؟ 10 اَب دیکھو۔ کہ خُداوند کے اُس کلام سے جو خُداوند نےاَخی اب کے گھرانے کے خلاف فرمایا تھا۔ کوئی بات زمین پر نہیں گِری۔ اَور خُداوند نے وہ کِیا۔ جو اُس نے اپنے بندےایلیاہ کی زُبان سے فرمایا تھا۔ 11 پِھر یاہُو نے اُن سب کوجواَخی اب کے گھرانے سے یزر عیل میں باقی تھے اَور اُس کے سب اُمراءاَور مُقّرِب دوستوں اَور اُس کے کاہنوں کو قتل کِیا۔ یہاں تک کہ اُن میں سے کوئی باقی نہ رہا۔ 12 پِھر وہ اُٹھا اَور سامریہ کی طرف جانے کو روانہ ہُوا۔ اَور جب وہ راہ میں چرواہوں کے بَیت عاقد کے پاس تھا ۔ 13 تو یاہُو کو شاہ یہُوداہ اَخزیاہ کے بھائی ملِے۔ اُس نے اُن سے کہا۔ تُم کون ہو؟ اُنہوں نے کہا ہم اَخزیاہ کے بھائی ہیں۔ ہم جاتے ہیں۔ تاکہ بادشاہ کے بیٹوں اَور مَلکہ کے بیٹوں کو سلام کریں۔ 14 تب اُس نے کہا۔ کہ اُنہیں زِندہ ہی پکڑلو۔ تو اُنہوں نے اُنہیں زِندہ ہی پکڑا۔ اَور اُنہیں جو بیالیس آدمی تھے بَیت عاقد کے حوض کے پاس قتل کردِیا۔ اُس نے اُن میں سے کِسی کو نہ چھوڑا۔ 15 انبِیاءبَعلَ کی ہلاکت پِھر وہاں سے آگے چلا اَور یہوناداب بِن ریکاب کو جو اُس کے اِستقبال کو آتا تھا، مِلا اَور اُس نے اُسے برکت دی اَور کہا۔ کیا تیرا دِل سِیدھا ہے جیسا میرا دِل تیرے دِل کے ساتھ ہے؟ یہوناداب نے کہا۔ ہاں ۔ ہاں۔ اُس نے کہا۔ اپنا ہاتھ مُجھے دے۔ تو اُس نے اپنا ہاتھ اُسے دِیا۔ تو اُس نے اُسے اپنے ساتھ رتھ پرچڑھا لیا۔ 16 اَور اُس سے کہا۔ میرے ساتھ چل۔ اَور میری غیرت کو جو خُداوند کے لئے ہے۔ دیکھ۔ اَور اُسے اپنی رتھ پر سَوار کِیا ۔ 17 اَور اُسے سامریہ میں لایا۔ اَور سامریہ میں جواَخی اب کے باقی تھے اُن سب کو مارا۔ یہاں تک کہ اُنہیں نابُود کردیا۔ بمُطابِق خُداوند کے کلام کے جو اُس نےایلیاہ کو فرمایا تھا۔ 18 پِھر یاہُو نے سب لوگوں کو جمع کیِا اَور اُن سے کہا۔ کہ ا َخی اب نے تو بَعلَ کی تھوڑی پرستِش کی۔ لیکن یاہُو اُس کی بُہت پرستِش کرے گا ۔ 19 اَور اَب تُم بَعلَ کے سب نبیوں اَور اُس کے خادِموں اَور اُس کے تمام کاہنِوں کو میرے پاس بُلاؤ ۔ اَور اُن میں سے کوئی نہ رہ جائے۔ کیونکہ مَیں بَعلَ کے لئے ایک بڑی قُربانی کرُوں گا۔ اَور جو کوئی حاضِر نہ ہوگا وہ زِندہ نہ رہے گا۔ اَور یہ یاہُو کا بہانہ تھا تاکہ بَعلَ کی پرستِش کرنے والوں کو قتل کرے۔ 20 پِھر یاہُو نے کہا۔ کہ بَعلَ کے لئے ایک مُقدّ س محفِل کرو۔ سو اُنہوں نے اُس کی مُنادی کی۔ 21 اَور یاہُو نے سب اِسرائیل میں آدمی بھیجے۔ اَور سارے بَعلَ کی پرستِش کرنے والے آئے۔ اَور کوئی نہ تھا جو نہ آیا ہو۔ اَور وہ بَعلَ کے مندر میں داخِل ہُوئے۔ تو وہ ایک سرِے سے دُوسرے سرِے تک بھر گیا۔ 22 اَور اُس نے کپڑوں کے ناظِم سے کہا کہ بَعلَ کے سب پرستِش کرنے والوں کے لئے خِلعت نِکال۔ تو اُس نے اُن کے لئے خِلعت نِکالے ۔ 23 پِھر یاہُو اَور یہوناداب بِن ریکاب بَعلَ کے مندر میں داخِل ہوئے۔ اَور بَعلَ کے پَرستاروں سے کہا۔ تلاش کرو اَور دیکھو۔ کہ یہاں تُمہارے درمیان خُداوند کے پرستِش کرنے والوں میں سے کوئی نہیں۔ اَور فَقط بَعلَ کے پرستِش کرنے والے ہی ہوں۔ 24 پِھر وہ اندر آئے تاکہ ذَبیحے اَور سوختنی قُربانیاں گُزرانیں۔ اَور یاہُو نے باہر اپنے لئے اَسّی آدمی کھڑے کئے اَور کہا۔ کہ اگر اُس گروہ میں سے جِسے مَیں تُمہارے ہاتھوں میں لایا ہُوں ایک آدمی بھی بچ جائے تو تُمہاری جانیں اُس کی جان کے بدلے ہوں گی۔ 25 جب وہ سوختنی قُربانی کے کام سے فارِغ ہُوئے۔ تو یاہُو نے پیادوں اَور منصب داروں سے کہا۔ اندر جاؤ ۔ اَور اُنہیں مارو۔ اَور ایک کو بھی نہ چھوڑو۔ تب اُنہوں نے اُنہیں تلوارکی دھار سے مارا۔ اَور پیادوں اَور منصب داروں نے اُنہیں باہر پھینک دیا۔ اَور پِھر بَعلَ کے مندر کے شہر کو گئے۔ 26 اَور اُنہوں نے بَعلَ کے مندر کے کھمبوں کو باہر نِکالا اَور اُنہیں جَلا دیا۔ 27 اَور بَعلَ کے ستُون کو توڑا۔ اَور بَعلَ کا مندر ڈھادیا۔ اَور اُسے جائے ضرور بنایا جو آج کے دِن تک ہے۔ 28 سو یاہُو نے بَعلَ کو اِسرائیل میں سے نابُود کِیا ۔ 29 لیکن اُن گُناہوں سے کہ جِن سے یربعام بِن نباط نے اِسرائیل سے بَدی کروائی تھی یاہُو الگ نہ رہا۔ نہ اُس نے سونے کے بچھڑوں کو جو بَیت ایل اَور دان میں تھے ترک کِیا۔ 30 تو خُداوند نے یاہُو سے کہا۔ چُونکہ جو کام میری نظر میں راست تھا تُو اچھّی طرح بجا لایا۔ اَور جو کُچھ اَخی اب کے گھرانے کی بابت میرے دِل میں تھا تُو نے کیا۔ سو تیرے بیٹے چوتھی پشُت تک اِسرائیل کے تخت پر بیٹھیں گے ۔ 31 لیکن یاہُو نے اپنے سارے دِل سے خُداوند اِسرائیل کے خُدا کی شریعت کے مُطابِق چلنے کی پروانہ کی۔ اَور اُن گُناہوں سے جِن سے یربعام نے اِسرائیل سے بَدی کروائی تھی الگ نہ رہا۔ 32 اَور اُن دِنوں میں خُداوند اِسرائیل کو گھٹانے لگا۔ تو حزائیل نے اِسرائیل کی ساری حدوں میں اُنہیں مارا ۔ 33 یعنی یردن سے لے کر مشرق کی طرف جِلعاد کی تمام سَر زمین میں اَور جادیوں اَور رُوبِینیوں اَورمنسّیوں کو عروعیر سے لے کر جو وادی ارنون میں ہے یعنی جِلعاد اَور بسن کو بھی۔ 34 اَور یاہُو کا باقی اِحوال اَور جو کُچھ اُس نے کِیااَور اُس کی قُوّت۔ کیایہ اِسرائیل کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں درج نہیں؟ 35 اَور یاہُو اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا۔ اَور سامریہ میں اُنہوں نے اُسے دفن کِیا۔ اَور اُس کا بیٹایہوآخزاُس کی جگہ بادشاہ ہُوا ۔ 36 اَور یاہُو کے ایّام جِن میں اُس نے اِسرائیل پر سامریہ میں بادشاہی کی، اَٹھائیس برس تھے۔