1 ۱۔ پولس نے سیدھا صدر عدالت کے ارکان کی طرف دیکھا اور کہا، ’’ بھائیو میں نے آج کے دن تک خدا کے ساتھ دینداری کے ساتھ سادہ زندگی گزاری ہے‘‘ 2 ۲۔ سردار کاہن حننیاہ نے اپنے پاس کھڑے ہوئے لوگوں سے کہا کہ اس کے منہ پر تھپڑ مارو۔ 3 ۳۔ تب پولس نے اُس سے کہا اے سفیدی پھری دیوار خدا تجھے مارے گا ۔کیا تُو شریعت کے مطابق میرا انصاف کرنے کو بیٹھا ہے، مگر تو بھی مجھے شریعت کے خلاف مارنے کا حکم دیتا ہے؟ 4 ۴۔ جو اُس کے پاس کھڑے تھے انہوں نے کہا، ’’ کیا اِس طرح سے تو خدا کے لئے مقرر سردار کاہن کی توہین کرتا ہے؟ 5 ۵۔ پولس نے کہا، ’’ بھائیو مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ سردار کاہن ہے۔کیونکہ لکھا ہے، کہ تُم اپنے لوگوں پر مقرر اختیار والے کے بارے میں بُرا نہ بولو۔ 6 ۶۔جب پولس نے دیکھا کہ صدر عدالت میں ایک طرف صدوقیوں کا گروہ اور دوسری جانب فریسی ہیں تو بلند آواز سے پکار کر کہنے لگا، ’’ بھائیو میں ایک فریسی ہوں اور فریسیوں کا فرزند ہوں اور مُردوں کے جی اُٹھنے پر یقین رکھنے کے باعث میری عدالت ہو رہی ہے، 7 ۷۔ جب اُس نے ایسا کہا تو صدوقیوں اور فریسیوں کے درمیان بحث چھڑ گئی اور مجمع میں پھُوٹ پڑ گئی۔کیونکہ صدوقی کہتے ہیں ۔ 8 ۸۔ کہ نہ تو کوئی قیامت ہے، نہ فرشتے اور نہ ہی ارواح، جبکہ فریسیوں کا ماننا ہے کہ یہ موجود ہیں۔ 9 ۹۔ سو بہت شور مچا اور فریسیوں میں سے کچھ فقہیوں نے اُٹھ کر بحث کی اور کہنے لگے، ’’ ہم اِس شخص میں کوئی قصور نہیں پاتے۔ تو کیا ہوا اگر کسی فرشتہ یا روح نے اُس سے بات کی ہے؟ 10 ۱۰۔ جب وہاں بہت زیادہ بحث ہونے لگی تو پلٹن کے سردار کو ڈر لگا کہ کہیں وہ پولس کے ٹکڑے ہی نہ کر ڈالیں، تو اُس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ نیچے جاؤ اور زبردستی پولس کو مجمع میں سے نکال کر قلعہ میں لے آؤ۔ 11 ۱۱۔ اُسی رات خداوند اُس کے پاس آ کھڑا ہوا اور کہا، ’’ خوف نہ کر، جس طرح تُو نے میری گواہی یروشلیم میں دی تھی ویسے ہی تُو رومہ میں بھی میرا گواہ ہو گا‘‘۔ 12 ۱۲۔ جب دن ہوا، تو کچھ یہودیوں نے ایکا کیا اور خود پر لعنت مانگ کر قسم کھائی اور کہا کہ جب تک وہ پولس کو مار نہ دیں تب تک نہ تو کچھ کھائیں گے نہ پیئں گے۔ 13 ۱۳۔ جنہوں نے یہ سازش بنائی وہ چالیس سے زائد مرد تھے۔ 14 ۱۴۔ وہ سردار کاہنوں اور بزرگوں کے پاس گئے اور کہا، ’’ ہم نے بڑی لعنت کی قسم کھائی ہے کہ جب تک پولس کو مار نہ دیں کچھ نہ کھائیں گے۔ 15 ۱۵۔ اس لئے اب صدر عدالت سے کہو کہ وہ پلٹن کے سردار کو اُسے نیچے تُمہارے پاس لانے کو کہے، اِس بہانے سے کہ تُم مزید باریک بینی سے اس کے معاملہ کا فیصلہ کرنا چاہتے ہو۔ اور جہاں تک ہماری بات ہے ہم اسے یہاں پہنچنے سے پہلے ہی مارنے کے لئے تیار ہیں۔ 16 ۱۶۔ پولس کے بھانجے نے سُنا کہ وہ اس کی تاک میں ہیں تو گیا اور قلعہ میں داخل ہو کر پولس کو بتایا۔ 17 ۱۷۔ پولس نے صوبہ داروں میں سے ایک کو بلایا اور کہا، ’’ اس نوجوان کو پلٹن کے سردار کے پاس لے جاؤ، اس کے پاس اسے بتانے کے لئے کچھ ہے۔‘‘ 18 ۱۸۔ سو وہ صوبہ دار اُس لڑکے کو لے گیا اور اسے پلٹن کے سردار کے پاس لے جا کر کہا، ’’ قیدی پولس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا کہ میں اِس لڑکے کو آپ کے پاس لے جاؤں اس کے پاس آپ کو بتانے کے لئے کچھ ہے‘‘۔ 19 ۱۹۔ پلٹن کے سردار نے اس لڑکے کو لیا اور اسےعلیحدگی میں لے گیا اور اس سے پوچھا، ’’ وہ کیا ہے جو تو مجھے بتانا چاہتا ہے؟ ‘‘ 20 ۲۰۔ اس نوجوان نے کہا، ’’ یہودیوں نے صلاح کی ہے کہ وہ تجھے پولس کو کل صدر عدالت میں لانے کا کہیں گے یہ ظاہر کر کے کہ وہ اس کے مقدمہ کو مزید باریکی سے جانچنا چاہتے ہیں۔ 21 ۲۱، مگر تو اُن کی نہ سننا کیونکہ چالیس سے زیادہ مرد ایسے ہیں جو اس کی تاک میں ہیں، اُنہوں نے لعنت کی قسم کھائی ہے کہ جب تک وہ اُس کو قتل نہ کر لیں نہ تو کچھ کھائیں گے نہ پیئں گے۔وہ اب بھی تیار ہیں اور تیری طرف سے اجازت کے منتظر ہیں۔ 22 ۲۲۔ پلٹن کے سردار نے اس لڑکے کو ہدایت کرنے کے بعد جانے دیا کہ ’’ کسی کو مت بتانا کہ تو نے یہ باتیں مجھ سے کہیں ہیں ‘‘۔ 23 ۲۳۔ پھر اس نے صوبہ داروں میں سے دو کو اپنے پاس بلایا اور کہا، ’’ دو سو سپاہیوں کو قیصریہ تک جانے کے لئے تیار کرو اور اُن کے ہمراہ ستر گھڑ سوار اور دو سو نیزہ بردار بھی ہوں۔ اور تم رات کے تیسرے پہر روانہ ہونا۔ 24 ۲۴۔ اس نے انہیں یہ بھی حکم دیا کہ پولس کی سواری کے لئے بھی جانور مہیا کئے جائیں اور اسے با حفاظت گورنر فیلکس کےپاس لے جاؤ۔ 25 ۲۵۔ پھر اُس نے ایک خط یوں لکھا: 26 ۲۶۔ کلودیس لوُسیاس کا بہادر حاکم فیلکس کو سلام۔ 27 ۲۷۔ اِس شخص کو یہودیوں نے پکڑا اور وہ اسے قتل کرنا چاہتے تھے مگر جب مجھے پتہ چلا کہ وہ رُومی شہری ہے تو میں نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ اِس کو وہاں سے نکالا۔ 28 ۲۸۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ اس پر کیوں الزام لگاتے ہیں اس لئے اُسے اُن کی صدر عدالت کے سامنے لے گیا۔ 29 ۲۹۔مجھے پتا چلا کہ اس پر اپنے شرعی مسائل کے تعلق سے الزام ہے، مگر اس کے خلاف کوئی بھی الزام ایسا نہیں تھا کہ اسے مارا یا قید کیا جاتا۔ 30 ۳۰۔ پھر مجھے پتا چلا کہ اس شخص کے خلاف سازش کی جا رہی ہے، تو میں نے اِسے فوراً تیرے پاس بھیج دیا اور اس کے خلاف مدعیوں کو بھی اپنے اعتراضات کے ساتھ تیرے پاس حاضر ہوں، تیری خریت ہو! 31 ۳۱۔ پس سپاہیوں نے اُن کے احکامات مانے، انہوں نے رات کو پولس کو انتیپترس پہنچا دیا۔ 32 ۳۲۔ اگلے دن وہ گھڑ سواروں کو اُس کے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ کر خود واپس قلعہ کو لوٹ گئے۔ 33 ۳۳۔جب گھڑ سوار قیصریہ پہنچے تو انہوں نے گورنر کو خط دیا اور اس کے بعد پولس کو بھی پیش کیا۔ 34 ۳۴۔ جب گورنر نے وہ خط پڑھا، تو اس نے پوچھا کہ پولس کس صوبہ سے ہے۔ جب اسے پتا چلا کہ وہ کلکیہ کا رہنے والا ہے۔ 35 ۳۵۔ اس نے کہا، میں تجھے پورے طور سے تب سُنوں گا جب تیرے مدعی یہاں آئیں گے۔اور اُسے ہیرودیس کے قعلہ میں قید رکھنے کاحکم دیا۔