1 ۱۔ پانچ دن بعد سردار کاہن حننیاہ، کچھ بزرگ اور ترطُلس اپنے وکیل کے ہمراہ وہاں گئے۔یہ مرد پولُس کے خلاف اپنے اعتراضات کے ساتھ گورنر کے سامنے حاضر ہوئے۔ 2 ۲۔ جب پولس گورنر کے سامنے پیش ہوا تو ترطُلُس اس پر الزام لگانے لگا اور گورنر سے کہا،’’ تیرے باعث ہم بڑے امن میں ہیں اور تیری دور اندیشی ہماری قوم کے لئے بھلائی کا باعث ہے۔ 3 ۳۔ پس اے معتبر فیلکس ہم ہراس کام کا جو تُو کرتا ہے بڑی شکر گزاری سے خیر مقدم کرتے ہیں۔ 4 ۴۔ تجھے مزید تنگ کئے بغیر میں درخواست کرتا ہوں کہ مہر بانی سے تو میری مختصر درخواست کو سن لے۔ 5 ۵۔ ہم نے اس شخص کو ہمیشہ فسادی پایا ہے اور یہ تمام جگہوں پر رہنے والے یہودیوں میں تفرقے پیدا کرتا ہے۔یہ ناصری گروہ کا سربراہ ہے۔ 6 ۶۔ اس نے ہیکل کی بے حرمتی کرنے کی کوشش بھی کی؛ اسی لئے ہم نے اسے حراست میں لے لیا۔[نوٹ: قدیم اور اچھے نسخہ جات میں ۲۴ باب ۶ آیت کا دوسرا حصہ شامل نہیں] ’’ ہم اُس کی عدالت شریعت کے مطابق کرنا چاہتے تھے۔ 7 ۷۔[نوٹ: اچھے نسخہ جات میں ۷ آیت شامل نہیں] مگر معزز لوسیاس زبردستی اسے ہمارے ہاتھوں سے چھڑوا کر لے گیا۔ 8 ۸۔[ نوٹ: اچھے قدیم نسخہ جات میں ۸ آیت کا پہلا حصہ شامل نہیں] اور ہمیں تیرے پاس بھیج دیا۔ جب تو پولس سے سوال کرے گا تُو بھی جان جائے گا کہ ہم کیوں اِس پر الزام لگاتے ہیں۔ 9 ۹۔ یہودی بھی پولس پر الزام لگانے لگے اور کہا کہ یہ باتیں سچ ہیں۔ 10 ۱۰۔ جب گورنر نے پولس کو بولنےکا اشارہ کیا تو پولس نے جواب دیا، ’’ میں جانتا ہوں کہ تو بہت سالوں سے اس قوم کا منصف ہے اس لئے میں بھی اطمینان سے اپنی دلیل تیرے سامنے پیش کرتا ہوں۔ 11 ۱۱۔ تُو تحقیق سے پتا کروا سکتا ہے مجھے یروشلیم میں عبادت کے لئے گئے بارہ دن سے زائد کا عرصہ نہیں گزرا۔ 12 ۱۲۔ اور جب اُنہوں نے مجھے ہیکل میں دیکھا، تو میں نے کسی سے بحث نہیں کی،میں نے نہ ہی عبادت خانوں میں اور نہ ہی شہر میں ہجوم کو اُکسایا۔ 13 ۱۳۔ اور جو الزامات یہ مجھ پر اب تیرے سامنے لگا رہے ہیں یہ ان کو ثابت نہیں کر سکتے۔ 14 ۱۴۔ مگر میں تیرے سے اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ جس طریق کو وہ بدعت کہتے ہیں میں اس کے مطابق اپنے آباؤ اجداد کے خدا کی عبادت کرتا ہوں۔ میں ہر اس بات کا جو شریعت اور انبیا کے صحائف میں درج ہے وفادار ہوں۔ 15 ۱۵۔ ان کی طرح میرا بھروسا بھی خدا پر ہے اور جس طرح یہ مرد مُردوں کی قیامت اور راستوں اور ناراستوں کی عدالت کے منتظر ہیں ویسے ہی میں بھی ہوں۔ 16 ۱۶۔ اور میں کوشش کرتا ہوں کہ ان تمام چیزوں کے تعلق سے میرا ضمیر خدا اور آدمی کے سامنے بے الزام ٹھہرے۔ 17 ۱۷۔ اب کئی سال کے بعد میں آیا کہ اپنی قوم کے لئے مدد اورعطیات لاؤں۔ 18 ۱۸۔ جب میں نے یہ کیا تو آسیہ کے کچھ یہودیوں نے مجھے ہنگامےیا ہجوم میں نہیں بلکہ ہیکل کے اندر طہارت کی رسم کے دوران پکڑا۔ 19 ۱۹۔ اور چاہیے کہ وہ مرد تیرے حضور پیش ہوں اور وہ کہیں اگر ان کے پاس میرے بر خلاف کچھ کہنے کو ہے۔ 20 ۲۰۔ یہ مرد بتائیں کہ یروشلیم میں عدالت کے دوران انہوں نے مجھ میں کیا قصور پایا۔ 21 ۲۱۔ ماسوائے اُس ایک بات کے جو میں نے بلند آواز سے صدرعدالت میں ان کے درمیان کھڑے ہو کر کہی، ’’ کہ آج تم میری عدالت مُردوں کی قیامت کے باعث کر رہے ہو‘‘۔ 22 ۲۲۔ فیلکس مسیحی شریعت کے بارے میں بخوبی جانتا تھا اس لئے اس نے یہودیوں کو انتظار کروایا۔ اس نے کہا ’’ جب بھی سردار لوسیاس یروشلیم سے آئے گا تو میں تمہارے مقدمہ کا فیصلہ کروں گا ‘‘۔ 23 ۲۳۔ پھر اس نے صوبہ دار کو حکم دیا کہ پولُس کو قید رکھ، مگر اس کے ساتھ رعایت برتنا اور کوئی اس کے دوستوں کو اس سے ملنے یا اس کی خدمت کرنے سے نہ روکے۔ 24 ۲۴۔ کچھ دن بعد فیلکس اپنی بیوی دُروسلہ کے ساتھ واپس آیا جو یہودی تھی اور اس نے پولس کو بلاوا بھیجا اور اس سے مسیح یسوع پر ایمان کی بابت سُنا۔ 25 ۲۵۔ مگر جب پولس نے اس سے راستبازی، ضبط نفس اور آنے والی عدالت کے متعلق آگاہ کیا تو فیلکس خوفزدہ ہو گیا اور جواب دیا، ’’ ابھی تُو چلا جا میں دوباہ اپنی فرصت کے وقت تجھے بلاؤں گا‘‘۔ 26 ۲۶۔اسی دوران وہ اس امید کے ساتھ کہ پولس اسے روپے دے گا، اکثر اس کے لئے بلاوا بھیجتا اور اس سے بات کرتاتھا۔ 27 ۲۷۔ مگر دو سال گزر گئے اور فیلکس کی جگہ پرکیُس فیستس گورنر مقرر ہوا۔ چونکہ فیلکس یہودیوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتا تھا اس لئے وہ پولس کو قید میں ہی چھوڑ گیا۔