1 ۱۔’’ میرے بھائیو اور بزرگو، میری اِس دلیل کو سنو جو تمہیں دینے کو ہوں۔ ‘‘ 2 ۲۔ جب ہجوم نے سُنا کہ پولس اُن سے عبرانی زبان میں مخاطب ہے تو وہ خاموش ہو گئے اُس نے کہا؛ 3 ۳۔ ’’ میں ایک یہودی ہوں جو کلکیہ کے علاقہ ترسیس میں پیدا ہوا مگر تعلیم اِس شہر میں گملی ایل کے قدموں میں پائی مجھے ہمارے آباؤاجداد کے سخت طریقہ کے مطابق شریعت سکھائی گئی، اور جس طرح سے آج تُم ہو ویسے ہی میں بھی خدا کے لئے جنونی ہوں۔ 4 ۴۔ میں موت کی انتہا تک مسیحی طریق کو ایذا پہنچاتا؛ مردوں اور عورتوں کو باندھ کر قید میں ڈلواتا تھا۔ 5 ۵۔ سردار کاہن اور سارے بزرگ بھی اِس بات کے گواہ ہیں کہ دمشق میں موجود بھائیوں نے مجھے خط لکھ کر اُدھر آنے کا کہا۔ تاکہ میں وہاں پرموجود اِس طریق کے قیدیوں کو یروشلیم لا کر سزائیں دلواؤں۔ 6 ۶۔ جب میں دمشق کی راہ پر تھا تو ایسا ہوا کہ قریب تب ہی دوپہر کے وقت آسمان سے ایک بڑی روشنی میرے گرد چمکنے لگی۔ 7 ۷۔ میں زمین پر گر گیا اورمیں نےایک آواز سُنی، ’’ ساؤل، ساؤل، تُو مجھے کیوں ستاتا ہے؟ 8 ۸۔ میں نے جواب دیا ، اے خداوند تُو کون ہے؟ اُس نے کہا، میں ناصرت کا یسوع ہوں جسے تُو ستاتا ہے۔ 9 ۹۔ جو میرے ہمراہ تھے اُنہوں نے روشنی کو دیکھا مگر اُنہوں نے وہ آواز نہ سُنی جو مجھ سے مخاطب تھی۔ 10 ۱۰۔ میں نے کہا، اے خداوند میں کیا کروں؟ خداوند نے مجھ سے کہا، ’’اُٹھ اور دمشق کو جا، وہاں تجھے بتا دیا جائے گا جو تجھے ضرور ہی کرنا ہے ‘‘۔ 11 ۱۱۔ اُس روشنی کی چمک کے باعث میں دیکھ نہیں سکتا تھا، سو میں اپنے ہمراہ ساتھیوں کی رہنمائی میں دمشق کو گیا۔ 12 ۱۲۔ وہاں میری ملاقات حننیاہ نامی ایک شخص سے ہوئی جو شریعت کے لحاظ سے دیندار اور مقامی یہودیوں میں نیک نام تھا۔ 13 ۱۳۔ وہ میرے پاس آ کھڑا ہوا اور کہا، ’’ بھائی ساؤل اپنی بنیائی لے ‘‘ اور اُسی گھڑی میں نے اُسے دیکھا۔ 14 ۱۴۔ پھر اس نے کہا، ہمارے آباؤ اجداد کے خدا نے تجھے چن لیا ہے تاکہ اس کی مرضی کو جانے، اُس راستبازکو دیکھے اور اُس کے منہ سے نکلنے والی آواز کو سُنے۔ 15 ۱۵۔ اور تُو اُن باتوں کے لئے جنہیں تُو نے سُنا اور دیکھا ہے تمام آدمیوں کے سامنے اُس کا گواہ ہو گا۔ 16 ۱۶۔ اور اب تو کیوں انتظار کر رہا ہے؟ اُٹھ، بپتسمہ لے اور اُس کا نام لے کر اپنے تمام گناہوں کو دھو ڈال۔ 17 ۱۷۔ یروشلیم میں لوٹنے کے بعد جب میں دعا کر رہا تھا تو ایسا ہوا کہ میں نے ایک رویا دیکھی۔ 18 ۱۸۔ میں نے اُسے یہ کہتے ہوئے دیکھا، ’’ جلدی کر اور فوراً یروشلیم کو چھوڑ دے کیونکہ میری بابت وہ تیری گواہی قبول نہیں کریں گے‘‘۔ 19 ۱۹۔ میں نے کہا ’’ خداوند وہ خود واقف ہیں کہ میں نے ہرعبادت خانہ میں اُن لوگوں کو جو تجھ پر ایمان رکھتے تھے مارا اور قید میں ڈالا۔ 20 ۲۰۔ تیرے گواہ ستفنس کا خون بہایا گیا میں وہیں پر آمادہ کھڑا اُن لوگوں کے کپڑوں کی حفاظت کر رہا تھا جنہوں نے اُسے مارا۔ 21 ۲۱۔ مگر اُس نے مجھے کہا، ’’ جا کیونکہ میں تجھے غیر قوموں میں بھیجوں گا‘‘۔ 22 ۲۲۔ لوگوں نے اُسے یہاں تک بولنے کی اجازت ہی دی۔ اور پھر وہ چلانے لگے اور کہا، ’’ ایسے شخص کو زمین سے فنا کر دے اور اِسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ‘‘ 23 ۲۳۔ اور جب وہ چلاتے، اپنے کپڑے پھینکتے اور گرد ہوا میں اُڑاتے تھے۔ 24 ۲۴۔ تو پلٹن کے سردار نے حکم دیا کہ پولس کو قلعہ میں لایا جائے اور کوڑے لگانے کے ساتھ اس کا بیان لیا جائے تاکہ مجھے بھی پتا چلے کہ وہ لوگ کیوں اِس طرح اُس پر چلا رہے تھے۔ 25 ۲۵۔ جب اُنہوں نے اُسے رسیوں کے ساتھ باندھ دیا تو پولس نے پاس کھڑے صوبہ دار سے کہا، ’’ کیا تمہارے لئے روا ہے کہ ایک رومی کا قصور ثابت کئے بغیر اُسے کوڑے لگاؤ ؟‘‘ 26 ۲۶۔ جب صوبہ دار نے یہ سُنا تو پلٹن کے سردار کو جا کر خبر دی اور کہا، ’’ تو کیا کرنے کو ہے؟ کیونکہ یہ ایک رومی آدمی ہے؟ 27 ۲۷۔ پلٹن کا سردار آیا اور اُس نے اُسے کہا، ’’ مجھے بتا کیا تُو رومی شہری ہے؟ پولس نے کہا ’’ ہاں ‘‘ 28 ۲۸۔ پلٹن کے سردار نے جواب دیا، ’’ میں نے بڑی رقم دے کر یہ شہری ہونے کا رتبہ حاصل کیا ہے ‘‘ مگر پولس نے کہا ’’ میں تو پیدائشی رومی شہری ہوں ‘‘۔ 29 ۲۹۔ تبھی اُنہوں نے جو اس کا بیان لینے کو تھے اُسے فوراً چھوڑ دیا۔پلٹن کا سردار بھی یہ جان کر کہ اُس نے ایک رومی آدمی کو باندھا ہے خوفزدہ ہو گیا۔ 30 ۳۰۔ اگلے دن پلٹن کا سردار پولس کے خلاف یہودیوں کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی سچائی جاننا چاہتا تھا۔تو اس نے تمام سردار کاہنوں اور صدر عدالت کے لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دیا اور پولس کو نیچے لا کر اُن کے درمیان کھڑا کر دیا۔