اَعمال باب ۲۱

1 ۱۔ جب ہم اُن سے جُدا ہو کر جہاز پر روانہ ہوئے، تو ہم سیدھی راہ سے کوس کے شہر میں آئے، اور اگلے دِن رُدُس میں آئے اور پھر یہاں سے پُترہ گئے۔ 2 ۲۔ جب ہمیں ایک جہاز فینیکے کو جاتا ہوا ملا تو ہم اُس میں سوار ہو کر روانہ ہوئے۔ 3 ۳۔ جب ہمیں کُپرس کا جزیرہ نظر آیا، توکُپرس کو بائیں ہاتھ میں چھوڑا اور سُوریہ کی طرف روانہ ہوئے، اور صور میں اُترے کیونکہ وہاں جہاز کا سامان اُتارنا تھا۔ 4 ۴۔ اِس کے بعد وہاں ہمیں شاگرد ملے، اور یہاں ہم سات دِن تک رہے۔ اِن شاگردوں نے روح کے وسیلے سے پولس سے کہا کہ وہ یروشلیم میں جائیں۔ 5 ۵۔ جب ہم یہ دِن وہاں گزار چکے توہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ وہ سب اپنی بیویوں اور بچوں کے ساتھ شہر کے باہر تک ہمیں الوداع کرنے کے لئے آئے۔ پھر ہم نے ساحل پر گھٹنے ٹیکے اور دعا کی، اور ایک دوسرے کو الودع کہا۔ 6 ۶۔ پھر ہم جہاز پر سوار ہوئے اور وہ اپنے اپنے گھروں کولوٹ گئے۔ 7 ۷۔ جب ہم صور کا سفر مکمل کر چکے، تو پَتُلمیس پہنچے۔ یہاں ہم نے بھائیوں کو سلام کیا اور ایک دِن اُن کے ساتھ رہے۔ 8 ۸۔ اگلے دِن ہم نے اُن کو چھوڑا اور قیصریہ گئے۔ ہم اِنجیل کے مبشر فلپس کے گھر میں داخل ہوئے، جو اُن ساتوں میں سے ایک تھا اورہم اُس کے ساتھ رہے۔ 9 ۹۔ اُس کی چار کنواری بیٹیاں تھیں جو نبوت کرتی تھیں۔ 10 ۱۰۔ کچھ دِن وہاں رہنے کے بعد، یہودیہ سے اُگبس نامی ایک نبی آیا۔ 11 ۱۱۔ وہ ہمارے پاس آیا اور پولس کا کمر بند لیا۔ اُس سے اُس نے اپنے ہاتھ اور پاوں باندھے اور کہا، ’’پاک روح فرماتا ہے، ’جس شخص کا یہ کمر بند ہے اُس کو یہودی یروشلیم میں ایسے ہی باندھیں گے، اور وہ اُسے غیر قوموں کے حوالے کریں گے۔ 12 ۱۲۔ جب ہم نے یہ باتیں سُنی، تو ہم نے اور جنتے لوگ وہاں تھے اُنہوں نے پولس سے درخواست کی کہ یروشلیم نہ جائے۔ 13 ۱۳۔ پھر پولس نے جواب دیا، ’’تم کیا کر رہے ہو، رو کر میرا دِل توڑ رہے ہو؟ اِس لئے کہ مَیں صرف باندھے جانے کے لئے ہی نہیں بلکہ یروشلیم میں خداوند یسوع کے نام پر مر جانے کے لئے بھی تیار ہوں۔‘‘ 14 ۱۴۔ پولس یہ ماننے کے لئے تیار نہ تھا اِس لئے ہم نے اُسے روکنے کی کوشش نہ کی اور کہا کہ، ’’خداوند کی مرضی پوری ہو۔‘‘ 15 ۱۵۔ اِن دِنوں کے بعد، ہم نے اپنا سامان اُٹھا یا اور یروشلیم کو روانہ ہوئے۔ 16 ۱۶۔ قیصریہ سے کچھ شاگرد بھی ہمارے ساتھ ہو لئے۔ وہ مناسون نامی ایک ابتدائی شاگرد کو بھی اپنے ساتھ لائے جو کُپرُس سے تھا، تاکہ ہم اُس کے ہاں قیام کریں۔ 17 ۱۷۔ جب ہم یروشلیم میں پہنچے، بھائیوں نے بڑی خوشی سے ہمارا استقبال کیا۔ 18 ۱۸۔ اگلے دِن پولس ہمارے ساتھ یعقوب کے پاس گیا اور تمام بزرگ بھی وہاں موجود تھے۔ 19 ۱۹۔ جب وہ اُن سے مل چکا، تو اُس نے سب باتیں بتائیں جو خدا نے اُس کی خدمت کے دوران غیر اقوام میں کی تھیں۔ 20 ۲۰۔ جب اُنہوں نے یہ سُنا، تو اُنہوں نے خدا کی تعریف کی، اور اُس سے کہا، ’’بھائی، تم نے دیکھا کہ کتنے ہزرا یہودیوں میں سے ایمان لے آئے ہیں۔ وہ سب شریعت کے بارے میں بہت پُر عزم ہیں۔ 21 ۲۱۔ اُن کو تمہارے بارے میں بتایا گیا ہے، کہ تم اُن یہودیوں کو جو غیر اقوام کے درمیان رہتے ہیں، اُن کو موسیٰ کی شریعت سے پھر جانے کی تعلیم دیتے ہواور اُن کو اور اُن کے بچوں کو ختنہ نہ کروانے اور پرانی روایات کی پیروی نہ کرنے کی تعلیم دیتے ہو۔ 22 ۲۲۔ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ کیونکہ وہ سُن لیں گے کہ تُم آ چکے ہو۔ 23 ۲۳۔ پس اب وہ کر جو ہم تجھے کہتے ہیں: یہاں چار آدمی ہیں جنہوں نے وعدہ کیاہے۔ 24 ۲۴۔ اُن آدمیوں کو لے اور اپنے آپ کو اُن کے ساتھ پاک کر اور اُن کے لئے کچھ خرچ کر، تاکہ وہ اپنے بال کٹوائیں۔ تب سب جان لیں گے کہ جو باتیں تمہارے بارے میں کہی گئیں ہیں وہ جھوٹی ہیں۔ اور وہ جان جائیں گے تم شریعت کی پیروی کرتے ہو۔ 25 ۲۵۔ لیکن جو غیر اقوام ایمان لا چکی ہیں اُن کے لئے ہم نے اُن کو ہدایات لکھ کر دیں کہ وہ اپنے آپ کو بتوں کی قربانی، خون سے، اُس جانور سے جسے گلا گھونٹ کر مارا گیا ہو اور حرام کاری سے بچیں۔‘‘ 26 ۲۶۔ پھر پولس نے اُن اشخاص کو لیا اور اگلے دن اُن کے ساتھ اپنے آپ کو پاک کیا، اور ہیکل میں گیا، اور پاک ہونے کے دنوں کا اعلان کیا گیا، جب تک ہم میں سے ہر ایک کی نذر نہ گزرانی جائے۔ 27 ۲۷۔ جب سات دِن تقریباً پورے ہو گئے، تو آسیہ کے کچھ یہودیوں نے پولس کو ہیکل میں دیکھا، اور اُنہوں نے تمام ہجوم کو اُبھارا اور اُس پر ہاتھ ڈالا۔ 28 ۲۸۔ وہ چِلا رہے تھے، ’’اَے اسرائیل کے لوگوں ہماری مدد کرو۔ یہ ہی وہ شخص ہے جس نے ہر جگہ لوگوں کو اِس مقام اور شریعت کے خلاف تعلیم دی ہے۔ اِس کے علاوہ اِس نے یونانیوں کو بھی ہیکل میں لا کر اِس جگہ کو ناپاک کر دیا ہے۔‘‘ 29 ۲۹۔ اِس لئے کہ اُنہوں نے اِفسس کے رہنے والے ترُفِمس کو شہر میں اُس کے ساتھ دیکھ لیا تھا، اور وہ سمجھے کہ پولس اُسے ہیکل میں لے آیا ہے۔ 30 ۳۰۔ تمام شہر بھڑک اُٹھا، اور لوگ اکٹھے ہو کر پولس کو پکڑنے کے لئے دوڑے۔ وہ اُسے ہیکل سے باہر کھینچ لائے، اور اُنہوں نے دروازے بند کر لئے۔ 31 ۳۱۔ جب وہ اُسے مارنے کی (قتل کرنے کی) کوشش کر رہے تھے، تو اِس ہنگامے کی خبر پلٹن کے سردار کے پاس آئی کہ یروشلیم میں ہلچل مچ گئی ہے۔ 32 ۳۲۔ اُسی وقت وہ سپاہیوں اور صوبے داروں کو لے کر ہجوم کی طرف دوڑا۔ جب لوگوں نے پلٹن کے سردار اور سپاہیوں کو دیکھا، تو وہ پولس کو مارنے سے رُک گئے۔ 33 ۳۳۔ پھر پلٹن کا سردار پہنچا تو اُس نے پولس کو پکڑ لیا، اور حکم دیا کہ اُسے دو زنجیروں سے باندھ دیا جائے۔ اُس نے پوچھا کہ یہ کون ہے اور اِس نے کیا کِیا ہے۔ 34 ۳۴۔ ہجوم میں کوئی چِلا کر کچھ کہتا تو دوسرا کچھ اَور۔ جب شور کے سبب سے پلٹن کے سردار کو وہ کچھ نہ بتا سکے، تو اُس نے حکم دیا کہ پولس کو قلعے میں لایا جائے۔ 35 ۳۵۔ جب وہ آیا تو ہجوم کے ہنگامے کی وجہ سے سپاہیوں نے اُسے اُٹھا لیا۔ 36 ۳۶۔ لوگوں کا ہجوم اُن کے پیچھے پیچھے چِلاتے ہوئے جا رہا تھا کہ ’’اِسے ہم سے دُور لے جا!‘‘ 37 ۳۷۔ پولس کو جیسے ہی قلعے میں لایا گیا، اُس نے پلٹن کے سردار سے کہا، ’’کیا مَیں تم سے کچھ کہہ سکتا ہوں؟‘‘پلٹن کے سردار نے کہا، ’’کیا تُو یونانی بولتا ہے؟ 38 ۳۸۔ کیا تُو وہ مصری نہیں جس نے بغاوت کی اور چار ہزار دہشت گردوں کو بیابان میں لے گیا تھا؟‘‘ 39 ۳۹۔ پولس نے کہا، ’’ مَیں کلکیہ کے شہر ترسس کا رہنے والا یہودی ہوں۔ مَیں ایک اہم شہر کا شہری ہوں۔ اور مَیں تم سے کہتا ہوں کہ مجھے لوگوں سے بولنے کی اجازت دے۔‘‘ 40 ۴۰۔ جب پلٹن کے سردار نے اُسے اجازت دی، تو پولس نے سیڑھیوں پرکھڑے ہو کر لوگوں کو ہاتھ سے اشارہ کیا۔ جب وہ مکمل طور پر خاموش ہو گئے تو اُس نے اُن سے عبرانی میں بات کی اور کہا،