اَعمال باب ۱۵

1 ۱۔ کچھ لوگ یہودیہ سے انطاکیہ میں آئے اور بھائیوں کو یہ کہہ کر سکھایا کہ’’ جب تک تم موسیٰ کی رسم کے مطابق ختنہ نہ کراؤ تم بچ نہیں سکتے۔ 2 ۲۔ جب پولس اور برنباس نے اُن کا سامنا کیا اور اُن سے بحث کی تو بھائیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ پولس اور برنباس اور چند اور لوگ رسولوں اور بزرگوں کے پاس یروشلیم میں اِس سوال کے لئے جائیں۔ 3 ۳۔ پس وہ کلیسیا کی طرف سے بھیجے گئے اور وہ فنیکے اور سامریہ سے گزرے اور غیر قوموں میں رجوع لانے کا پرچار کیا ،اُن کے باعث سب بھائی بہت خوش ہوئے۔ 4 ۴۔ جب وہ یروشلیم آئے ، تو اُن کا استقبال کلیسیا، رسولوں او ربزرگوں نے کیا اوراُنہوں نے وہ سب باتیں بیان کیں جو خدا نے اُن کے ساتھ کیں۔ 5 ۵۔ لیکن کچھ لوگ جو ایمان لائے وہ فریسیوں کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے اُنہوں نے اُٹھ کر کہا’’ یہ ضروری ہے کہ ان کا ختنہ کیا جائے اور انہیں حکم دیا جائے کہ وہ موسیٰ کی شریعت کی پابندی کریں۔ 6 ۶۔ پس رسول اور بزرگ اِسی سلسلہ پر سوچنے کے لئے اکٹھے ہوئے۔ 7 ۷۔ کافی بحث کے بعد پطرس کھڑا ہوا اوراُن سے کہنے لگا’’ بھائیو!تم جانتے ہو کہ بہت پہلے خدا نے تمہارے درمیان ایک فیصلہ کیا کہ میرے منہ سے غیر قومیں انجیل کا پیغام سنیں اور ایمان لائیں۔ 8 ۸۔ خدا جو دل کو جا نتا ہے اُن کو گواہی دیتا ہے اور انہیں روح القدس بخشتا ہے جس طرح اُس نے ہمیں بخشا۔ 9 ۹۔ اور ان کے دلوں کو ایمان سے پاک کرتے ہوئے اُس نے ہمارے اور اُن کے درمیان کوئی فرق نہ رکھا۔ 10 ۱۰۔ اوراب تم کیوں خدا کو آزماتے ہو اور اپنا جوا شاگردوں کی گردنوں پر رکھتے ہو جسے نہ ہم اور نہ ہمارے باپ داد برداشت کر سکتے تھے؟۔ 11 ۱۱ ۔لیکن ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ہم بھی اُن کی طرح مسیح یسوع کے فضل کے وسیلہ سے ہی بچائے جائیں گے۔ 12 ۱۲۔ پورا ہجوم خاموش ہو گیا اور پولس اور برنباس کو سنا جب وہ ِان باتوں کو بیان کرنے لگے کہ خدا نے اُن عجائب اور نشانات کو غیر قوموں میں اُن کےوسیلے سے ظاہر کیا۔ 13 ۱۳۔ جب اُنہوں نے بولنا بند کیا تو بعقوب نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا’’ بھائیو،میری سنو‘‘۔ 14 ۱۴۔اُس نے ہمیں بتایا کہ کیسے خدا نے پہلے اپنے فضل کے وسیلے غیر قوموں کی مدد کی تاکہ اُن میں سے اپنے نام کی خاطر لوگوں کو لے۔ 15 ۱۵۔ انبیا کی باتیں بھی اُسی سے متفق ہیں جیسا لکھا ہے۔ 16 ۱۶۔ اِ ن سب باتوں کے بعد میں لوٹوں گا اور میں داؤد کے خیمہ کو پھر قائم کروں گا جو گر چکا ہے میں اُسے دوبارہ کھڑا کروں گا اور اُس کی تباہی کی مرمت کروں گا۔ 17 ۱۷۔ تاکہ آدمیوں کا بقیہ خداوند کی تلاش کرے بشمول تمام غیر قوموں کے لوگ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں۔ 18 ۱۸۔ خداوند یہ فرماتا ہے جس نے یہ سب کچھ کہا ہے جس کا ذکر قدیم زمانوں سے ہو رہا ہے۔ 19 ۱۹۔ لہذا، میری رائے یہ ہے کہ ہم غیر قوموں میں سے اُن کو جو خدا کی طرف رخ کرتے ہیں،پریشان نہ کریں۔ 20 ۲۰۔لیکن ہم اُن کو سکھائیں گے کہ وہ بتوں کی آؒلودگی ،جنسی بے راہ روی ، گلا گھونٹنے والی چیزوں اور خون سے دور رہیں۔ 21 ۲۱۔ زمانوں سے ہر شہرمیں ایسے لوگ ہیں جو شریعت ِ موسوی کی تلاوت اور منادی ہر سبت عبادت خانوں میں کر رہے ہیں۔ 22 ۲۲۔ پس رسولوں، بزرگوں اور تمام کلیسیا نے یہ مناسب سمجھا کہ کلیسیا کے راہنماؤں یعنی یہوداہ جو بر سا کہلاتا ہے اور سیلاس کو پولس او ربرنباس کے ہمراہ انطاکیہ بھیج دیں۔ 23 ۲۳۔ اُنہوں نےیہ لکھا’’انطاکیہ ،شام ( جس کو مسیحٰ روایت میں سوریہ بھی کہا جاتا ہے) اور کلکیہ کے رسولوں، بزرگوں ، بھائیوں اور غیر قوموں کے بھائیوں کو سلام۔ 24 ۲۴۔ ہم نے سنا ہے کہ کچھ ایسے افراد جن کو تم نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا تھا ہم میں سے نکلے ہیں اور تمہیں ایسی تعلیمات سے پریشان کیاہے جو تمہارے دلوں کوبدل دیتی ہیں۔ 25 ۲۵۔ لہذا، ہم سب کو یہ بہتر لگا کہ مردوں کے چناؤ پر اتفاق کریں اور اُنہیں پیارےبرنبا س اور پولس کے ساتھ تمہارے پاس بھیجیں۔ 26 ۲۶۔ وہ مرد جنہوں نے ہمارے خداوند یسو ع مسیح کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈالی ہے۔ 27 ۲۷۔ پس ہم نے یہوداہ اور سیلاس کو بھیجا جو تمہیں یہی باتیں اپنے الفاظ میں بتائیں گے،۔ 28 ۲۸۔ کیونکہ روح القدس کو اور ہم کو بھی بہتر لگا کہ تم پر اِن ضروری باتوں کے علاوہ کوئی اور بوجھ نہ ڈالیں ۔ 29 ۲۹۔ کہ تم منہ موڑلو اُن چیزوں سے جو بتوں کے لئے قربان کی جاتی ہیں،خون سے، اُن کو جن کا گلا دبایاجاتاہےاورجنسی ناپاکی سے۔اگر تم اِن چیزوں سے باز رہو تو تمہارے لئے بھلا ہو گا ،خدا حافظ 30 ۳۰۔ پس جب وہ رخصت ہوئے تو انطاکیہ کو آئے ،ہجوم کو اکٹھا کرنے کے بعد اُنہوں نے خط پڑھا۔ 31 ۳۱۔ جب وہ پڑھ چکے تو حوصلہ افزائی کے باعث خوشی منائی۔ 32 ۳۲۔ یہوداہ اور سیلاس نے جو نبی بھی تھے، بھائیوں کو بہت سی باتوں سے حوصلہ دیا اور اُنہیں مضبوط کیا۔ 33 ۳۳۔ اب جب اُنہوں نے کچھ وقت وہاں گزارا تو بھائیوں نے اُن کو سلامتی سے واپس اُن کے پاس بھیج دیا جنہوں نے اُنہیں یہاں بھیجا تھا۔(قدیم نسخہ جات میں آیت 34 ۳۴شامل نہیں)۔ 35 ۳۵۔ لیکن پولس اور برنباس بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ انطاکیہ میں رہے، یہاں اُنہوں نے خداوند کا کلام سکھایا اور اُس کی منادی کی۔ 36 ۳۶۔ کچھ دنوں بعد پولس نے برنباس سے کہا’’ ہم ہر اُس شہر میں جہاں ہم نے خداوند کے کلام کی منادی کی تھی لوٹ کر بھائیوں سے ملنے جاتے ہیں اور اُن کا حال احوال معلوم کرتے ہیں۔ 37 ۳۷۔ برنباس یوحنا کو جو مرقس کہلاتا تھا ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔ 38 ۳۸۔لیکن پولس نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ مرقس کو جس نے اُن کو پمفلیہ میں چھوڑ دیا تھا اور مزید کام میں اُن کے ساتھ نہ دیا، اُس کو ساتھ لے جائیں۔ 39 ۳۹۔ تب ایک شدید اختلاف نے جنم لیا ،اتنا کہ وہ دونوں الگ ہو گئے اور برنباس مرقس کو لے کر سمندر کے راستے کپرس چلا گیا۔ 40 ۴۰۔ لیکن خدا کے فضل میں سپرد کیے جانے کے بعد پولس نے سیلاس کو چنا اور روانہ ہو گیا۔ 41 ۴۱۔ اور وہ شام اور کلکیہ سے کلیسیاؤں کو مضبوط کرتے ہوئے گزرا۔