اَعمال باب ۱۶

1 ۱۔ پولس دربے اور لُسترہ میں بھی پہنچا، اور دیکھو! تیمتھیس نامی شاگرد بھی وہاں موجود تھا، جوایک ایماندار یہودی عورت کا بیٹا تھا؛ اُس کا باپ یونانی تھا۔ 2 ۲۔ وہ لُسترہ اور اکونیم کے بھائیوں میں سے نیک نام تھا۔ 3 ۳۔پولُس چاہتا تھا کہ وہ اُس کے ساتھ سفر کرے، پس اُس نے اُس کو ساتھ لیا اور یہودیوں کی وجہ سے اسکا ختنہ کروایا کیونکہ اُس علاقہ کے لوگ جانتے تھے کہ اُس کا باپ یونانی ہے۔ 4 ۴۔ جب وہ شہروں میں سے گزرتے ہوئے گئے تو اُنہوں نے کلیسیاؤں کو حکم دیا کہ اُن ہدایات پر عمل کریں جو رسولوں اور یروشلیم کے بزرگوں کی معرفت دی گئی ہیں۔ 5 ۵۔ پس کلیسیائیں ایمان میں مضبوط ہوئیں اورروز بروزبڑھتی گئیں۔ 6 ۶۔ پولُس اور اُس کے ساتھی فروگیہ اور گلتیہ کے علاقہ میں سے ہو کر گزرے کیونکہ رُوح القدس نے اُنہیں آسیہ کے صوبے میں کلام سنانے سے منع کیا تھا۔ 7 ۷۔ جب وہ موُسیہ کے نزدیک آئے، تو اُنہوں نے بتونیہ میں جانے کی کوشش کی، لیکن یسوع کے روح نے اُنہیں وہاں جانے سے روکا۔ 8 ۸۔مُوسیہ کے راستے گزرتے ہوئے، وہ تروآس کے شہر میں آئے۔ 9 ۹ رات کے وقت پولس پر رویا ظاہر ہوئی، ایک آدمی جو مُکدونیہ سے تھا وہاں کھڑا اُسے پکار رہا ہے اور کہہ رہا ہے، ’’ مُکدونیہ میں آؤ اور ہماری مدد کرو‘‘ 10 ۱۰۔ جب پولس نے یہ رویا دیکھی، تو فوراً ہم مُکدونیہ جانے کے لئے تیار ہوئے، کیونکہ خدا نے ہمیں وہاں انجیل کی منادی کے لئے بُلایا تھا۔ 11 ۱۱۔ تروآس سے جہاز پر روانہ ہو کر ہم سیدھے سمترا کے کےعلاقہ میں آئے اور اگلے دن ہم نیا پُلس میں آئے۔ 12 ۱۲۔ وہاں سے ہم فلپی میں گئے، جو کہ مُکدونیہ کا ایک شہر ہے۔ جو اس ضلع کا نہایت اہم شہر اور رومی بستی ہے، اور ہم اس شہر میں کئی روز ٹھہرے۔ 13 ۱۳۔ سبت کے روز ہم شہر کے دروازے کے باہر دریا پر آئے، جہاں ہم نے سوچا کہ دعا کرنے کے لئے جگہ پائیں۔ ہم بیٹھ گئے اور اُن عورتوں سے کلام کیا جو وہاں آئیں تھیں۔ 14 ۱۴۔ لُدیہ نامی عورت جو تھواتیرہ شہر سے آئی تھی اور قرمز بیچتی تھی، جس نے خدا کی عبادت کی، اور ہماری سُنی۔ خدا نے اُس کے دل کو کھولا کہ وہ اُن باتوں کو سُنے جو پولس نے کہی تھیں۔ 15 ۱۵۔جب اُس نے اور اُس کے اہل خانہ نے بپتسمہ لیا تو اُس نے ہمیں مجبور کیا کہ اگر مجھے خدا کی ایمانداربندی سمجھتے ہوتو میرے گھر میں آؤ اور وہاں ٹھہرو۔ اُس نے ہمیں مجبور کیا ۔ 16 ۱۶۔پھر ایسا ہوا کہ جب ہم دعا والی جگہ پر جا رہے تھے، ایک جوان عورت جس میں غیب کا علم جاننے کی روح تھی ہم سے ملی۔ وہ غیب گوئی سے اپنے مالکوں کے لئے بہت کماتی تھی۔ 17 ۱۷۔ یہ عورت ہمارے اور پولس کے پیچھے آئی اور یہ کہتے ہوئےچلائی، یہ آدمی خدا تعالیٰ کے خادم ہیں ۔جو تمہیں نجات کی راہ کی تعلیم دیتے ہیں۔ 18 ۱۸۔اُس نے کئی روز ایسا کیا، لیکن پولس نے اُس سے بہت خفا ہوا، پلٹا اوراُس رُوح سے کہا، میں تجھےیسوع مسیح کے نام سے حکم دیتا ہوں اس میں سے باہر نکل آ ‘‘ اور یہ اُسی وقت باہر نکل آئی۔ 19 ۱۹۔ جب اُس کے مالکوں نے دیکھا کہ اُن کے کمانے کی اُمید چلی گئی، تواُنہوں نے پولس اور سیلاس کو پکڑا اور اُنہیں بازارمیں حاکموں کےسامنےگھسیٹ لائے۔ 20 ۲۰۔جب وہ اُن کو حاکم کے سامنے لائے، اُنہوں نے کہا، یہ آدمی یہودی ہیں اور ہمارے شہر میں کافی پریشانی پیدا کر رہے ہیں۔ 21 ۲۱۔ وہ ہمیں ایسی باتیں سکھا رہے ہیں جو رُومی ہوتے ہوئے شریعی نہیں کہ اُنہیں قبول کیا جائے یا اُن پر عمل کیا جائے۔ 22 ۲۲۔ پھر ہجوم پولس اور سیلاس کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا: حاکم نے اُن کے کپڑے پھاڑے اور حکم دیا کہ اُنہیں بینت لگائے جائیں۔ 23 ۲۳۔ جب وہ اُنہیں بُری طرح مار چکے تو اُنہیں قید خانہ میں ڈال دیا گیا اور داروغہ کو حکم دیا گیا کہ اُنہیں حفاظت سے رکھیں۔ 24 ۲۴۔ حکم پاکر داروغہ نے اُنہیں اندر کے قید خانہ میں پھینک دیا اور اُن کے پاؤں کاٹھ میں ٹھونک دیئے۔ 25 ۲۵۔ آدھی رات کے قریب پولس اور سیلاس دعا کر رہے تھے اور خدا کی حمد کے گیت گا رہے تھے تو دوسرے قیدی اُن کو سُن رہے تھے۔ 26 ۲۶۔اچانک ایک بڑا بھونچال آیا جس سے قید خانہ کی بنیادیں ہل گئیں اور فوراً سارے دروازے کھل گئے اور سب کی زنجیریں کھل گئیں۔ 27 ۲۷۔ داروغہ نیند سے جاگ اُٹھا اور قید خانہ کے کھلے دروازے دیکھےتو، قیدیوں کے بھاگ جانے کے ڈر سے اُس نے اپنی تلوار نکالی اور خود کو مارنے لگا۔ 28 ۲۸۔ لیکن پولس بلند آواز سے پکارا، اور کہا خود کو نقصان مت پہنچا، کیونکہ ہم سب یہاں ہیں ‘‘۔ 29 ۲۹۔ داروغہ نے چراغ منگوایا اور اندر کی طرف آیا، اور ڈر سے کانپتا ہوا پولس اور سیلاس کے سامنے گر گیا۔ 30 ۳۰۔ اُنہیں باہر لایا اور کہا،’’ جناب، میں کیا کروں کہ بچ جاؤں؟ 31 ۳۱۔ اُنہوں نے کہا خداوند یسوع پر ایمان لا تو، تُو اور تیرا گھرانہ نجات پائے گا‘‘۔ 32 ۳۲۔ اُنہوں نے اُس کے اور سب گھر والوں کے ساتھ خدا کا کلام بیان کیا۔ 33 ۳۳۔ تب داروغہ رات کے اُسی پہر اُنہیں لے گیا اور ان کے زخموں کو صاف کیا، اور وہ اور اُس کے گھر والے اُسی وقت بپتسمہ پا گئے۔ 34 ۳۴۔ وہ پولس اور سیلاس کو اوپر اپنے گھر لے گیا اور اُن کے آگے کھانا رکھا۔ اُس نے اپنے سارے گھرانے کے ساتھ بڑی خوشی کی۔ کیونکہ وہ سب خدا پر ایمان لے آئے تھے۔ 35 ۳۵۔ اور اب جب دن ہوا، حاکموں نے نگرانوں کے ذریعے حکم بھیجا، ’’ اُن آدمیوں کو جانے دو ‘‘۔ 36 ۳۶۔ داروغہ نے اِس حکم کی پولس کو خبر دی کہ حاکموں نے کہلوا بھیجا ہے کہ اِن آدمیوں کو جانے دو:اب باہر آؤ اور سلامتی سے جاؤ۔ 37 ۳۷۔ لیکن پولُس نے اُن سے کہا، اُنہوں نے ہمیں بغیر مقدمے کے سب کے سامنے ماراحالا نکہ ہم جو رومی ہیں اور ہمیں قید خانہ میں ڈالا اور اب کہتے ہیں یہاں سے چپکے سے چلے جائیں؟بالکل نہیں وہ خود آئیں اور ہمیں باہرلے کر جائیں۔ ؛ 38 ۳۸۔ سپاہیوں نے یہ خبر حاکموں کو دی: حاکم ڈر گئے جب اُنہوں نےیہ سُنا کہ وہ آدمی رومی ہیں۔ 39 ۳۹۔حاکم آئے اور اُن سے معافی مانگی ،انہیں قید خانے سے باہر لائے اوراُن سے کہا کہ شہر چھوڑ کر چلے جائیں ۔ 40 ۴۰۔ پس پولس اور سیلاس قید خانہ سے باہر آئے تو لُدیہ کے گھر گئے۔ جب پولس اور سیلاس نے بھائیوں کو دیکھا، تو اُنہیں حوصلہ دیا اور شہر سے روانہ ہوئے۔