اَعمال باب ۱۴

1 ۱۔ اور یہ اکنیم میں ہوا کہ پولس اوربرنباس ایک ساتھ یہودیوں کےعبادت خا نہ میں داخل ہوئے اور اِس انداز سے بات کی کہ یہودیوں اور یونانیوں دونوں کی ایک کثیر تعداد ایمان لے آئی۔ 2 ۲۔لیکن وہ یہودی جو نافرمان تھے، انہوں نے غیر قوموں کے ذہنوں کو بھڑکایا اور ان میں بھائیوں کے خلاف نفرت ڈالی۔ 3 ۳۔ پس وہ وہاں کافی عرصہ رہے اور خداوند کی قوت کے وسیلہ دلیری سے بات کرتے رہے اور اُسے اپنے فضل کے کلام کا ثبوت دیا، یہ اُس نے یوں کیا کہ اُسی نے عطا کیا کہ پولس اور برنباس کے ہاتھوں نشانات اورعجیب کام کروائے۔ 4 ۴۔ لیکن شہر کی اکثریت منقسم تھی، لوگوں نے یہودیوں کی حمایت کی اور کچھ نے رسولوں کی۔ 5 ۵۔ جب غیر قوموں اور یہودیوں دونوں نے اپنے سربراہان کو ابھارنے کی کوشش کی تاکہ پولس اور برنباس کو سنگسار کیا جائے۔ 6 7 ۶۔ ۷۔ تو اُن کو اِس بات کی خبرہوئی اور وہ انطاکیہ ، لسترہ اور دربے کے شہروں اور اُن کے گرد ونواح کوبھاگ گئے اور وہاں انجیل کی منادی کر رہے تھے۔ 8 ۸۔ لسترہ میں ایک شخص بیٹھا تھا جس کے پیروں میں جان نہ تھی، اپنی ماں کے پیٹ سے ہی معذور تھااور کبھی نہیں چلا تھا۔ 9 ۹۔ اس شخص نے پولس کو بولتے ہوئے سنا۔ پولس نے اپنی نظر اس پر ٹکائی اور دیکھا کہ اس میں تندرست ہونے کے لئے ایمان ہے۔ 10 ۱۰۔ اس نے بلند آواز سے اسے کہا، اپنے پیروں پر کھڑا ہوجا اور وہ شخص چھلانگ لگا کر کھڑا ہوا اور ادھر اُدھر چلنے لگا۔ 11 ۱۱۔ جب بھیڑنے دیکھا جو پولس نے کیا تھا،اُنہوں نے اپنی آوازیں بلند کیں اور لکاانیہ کی طرزبیان تقریر میں کہا’’ دیوتا،آدمیوں کی صورت میں ہمارے پاس اتر آیا ہے‘‘۔ 12 ۱۲۔ برنباس کو اُنہوں نے زیوس کانام دیا اور پولس کو ہرمیس کا کیونکہ وہی مرکزی مقرر تھا۔ 13 ۱۳۔ زیوس کا پجاری، جس کا مندر شہر سے تھوڑا ہی باہر تھا وہ بیل اور پھولوں کا ہار پھاٹک پر لایا، وہ اور سب ہجوم قربانی چڑھانا چاہتے تھے۔ 14 ۱۴۔ لیکن جب رسولوں نے یعنی برنباس اور پولس نے یہ سنا تو اُنہوں نے اپنے کپڑے پھاڑ دئیے اور بھیڑ کے اندر گھس گئے اور چلا کر ۔ 15 ۱۵۔ کہنے لگے’’ اے آدمیو! تم یہ سب کیوں کر رہے ہو؟ ہم بھی انسان ہیں اورتمہاری ہی طرح کے جذبات رکھتے ہیں۔ ہم تمہاری طرف خوش خبری لاتے ہیں کہ تم اُن سب بے فائدہ چیزوں سے منہ موڑ کر ایک زندہ خدا کی طرف رجوع کرو۔ جس نے آسمان، زمین، سمندر اور وہ سب جو اُن میں ہے بنایا ہے۔ 16 ۱۶، گزرے وقتوں میں اُس نے ہرقوم کو اپنے اپنےراستہ پر چلنے کی اجازت دی۔ 17 ۱۷۔ لیکن پھر بھی اُس نے اپنے آپ کو بغیر گواہی کے نہ دیکھا کہ اُس نے نیکی کی اور تمہیں آسمان سے بارش، پھل دار موسم دئیے اور ہمارے دلوں کو خوراک اور خوشی سے بھرا۔ 18 ۱۸۔ لیکن اِن باتوں کے باوجود بھی پولس اوربرنباس بمشکل ہی بھیڑ کو قربانی سے روک پائے۔ 19 ۹۱۔ لیکن انطاکیہ اور اکنیم سے یہودیوں نے بھیڑ کو ابھارا ، اُنہوں نے پولس کو سنگسار کیا اور یہ سوچ کر کہ وہ مر چکا ہے اُسے گھسیٹ کر شہر سے باہر لے گئے۔ 20 ۲۰۔ لیکن جب شاگرد اُس کے گرد کھڑے تھے، وہ اٹھا اور شہر میں داخل ہوا۔اگلے ہی روز وہ برنباس کے ساتھ دربے گیا۔ 21 ۲۱۔ جب انہوں نے اُش شہر میں انجیل کی منادی کر لی اور بہت سے شاگرد بنائے تو وہ لسترہ،اکنیم اور انطاکیہ کو لوٹے۔ 22 ۲۲، وہ شاگردوں کے ذہنوں کو تقویت دیتے رہے اور ایمان میں بر قرار رہنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ اُنہوں نے اُن کو بتایا ، ضروری ہے کہ ہم سب دکھ سہہ کرخدا کی بادشاہی میں داخل ہوں۔ 23 ۲۳۔ جب اُنہوں نے ایمان داروں کو ہر جماعت میں بزرگ مقرر کر لئے تو اُنہوں نے روزہ کی حالت میں دعا کی اور ان کو خداوند کے حوالہ کر دیا جس پروہ ایمان لائے تھے۔ 24 ۲۴۔ پھر وہ پسدیہ سے گزرتے ہوئے پمفلیہ آئے۔ 25 ۲۵۔ پرگہ میں کلام سنانے کے بعد وہ اطالیہ گئے۔ 26 ۲۶۔ وہاں سے پانی کے راستہ سے وہ انطاکیہ گئے جہاں اُنہیں خدا کے فضل کے سپرد کیا گیا تھا، اُسی کام کے لئے جو اُنہوں نے اب مکمل کر لیا تھا۔ 27 ۲۷۔ جب وہ انطاکیہ پہنچے ،کلیسیا کو اکٹھا کیا تو اُنہیں سب باتیں بیان کیں جو خدا نے اُن کے ساتھ کی تھیں اور کیسے اُس نے غیر قوموں کے لئے ایمان کا دروازہ کھولا۔ 28 ۲۸۔ وہ شاگردوں کے ساتھ ایک لمبے عرصے تک رہے۔