1 ۱۔ اب رسولوں اور بھائیوں نے جو یہودیہ میں تھے یہ سُنا کہ غیر قوموں نے بھی خدا کے کلام کو قبول کیا ہے۔ 2 ۲۔ جب پطرس یروشلیم میں آیا، وہ جو مختُون گروہ سے تعلق رکھتے تھے، اُس سے بحث کرنے لگے 3 ۳۔ اُنھوں نے کہا، ’’ تُو نے نا مختُون لوگوں کے ساتھ شرکت کی اور اُن کے ساتھ کھایا ! 4 ۴۔ لیکن پطرس نے اُن کو تفصیل سے معاملہ بیان کرنا شروع کیا؛ اُس نے کہا، 5 6 ۶۔۵۔ میں یافا شہر میں دُعا کر رہا تھا، اور میں نے ایک رویا دیکھی کہ ایک بڑی چادر نما چیز اپنے چاروں کونوں سے آسمان سے میری طرف آئی۔ میں نے اُسے غور سے دیکھا اور اُس کے متعلق سوچا، میں نے زمین کے چوپائے، رینگنے والے جانور اور آسمان کے پرندے دیکھے۔ 7 ۷۔ تب میں نے ایک آواز سُنی جس نے مجھ سے کہا، ’’ پطرس؛ اُٹھ کھڑا ہو، ذبح کر اور کھا ! 8 ۸۔ میں نے کہا، ’’ ہرگز نہیں، خداوند: کیونکہ ناپاک اور غلیظ چیز کبھی میرے منہ میں داخل نہیں ہوئی۔ 9 ۹۔ لیکن اُس آواز نے جو آسمان پر سے تھی، دوبارہ جواب دیا، ’’ جو خدا نے پاک ٹھہرایا ہے، اُس کو ناپاک نہ کہہ ‘‘ 10 ۱۰۔ یہ تین مرتبہ ہوا، اور تب سب کچھ دوبارہ واپس آسمان پر اُٹھا لیا گیا۔ 11 ۱۱۔ اور دیکھو، اُسی گھڑی تین شخص گھر کے سامنے کھڑے تھے جہاں ہم تھے؛ اُن کو قیصریہ سے میرے پاس بھیجا گیا تھا۔ 12 ۱۲۔ رُوح نے مجھے حکم دیا کہ اُن کے ساتھ بلا اختلاف چلا جا۔ اور وہ چھ بھائی میرے ساتھ گئے، اور ہم اُس شخص کے گھر چلے گئے۔ 13 14 ۱۳۔۱۴۔ اُس نے ہمیں بتایا کہ کیسے اُس نے فرشتہ کو اپنے گھر میں کھڑے اور کہتے سُنا، ’’ یافا کو آدمی بھیج اور شمعون کو واپس بلوالے، جس کا دوسرا نام پطرس ہے۔ وہ تجھ سے کلام کرے گا جس کے باعث تو اور تیرا خاندان بچ جائے گا 15 ۱۵۔ جب میں نے کلام کرنا شروع کیا، تو پاک رُوح اُن پر اُتر آیا جیسے ابتدا میں ہم پر تھا۔ 16 ۱۶۔ اور مجھے خداوند کے الفاظ یاد آئے، جیسے اُس نے کہا ، ’’ یوحنا نے یقنناً پانی سے بپتسمہ دیا لیکن تُم رُوح القدس ے بپتسمہ پاؤ گے۔ 17 ۱۷۔ پھر اگر خدا نے اُن کو وہی نعمت دی جو اُس نے ہمیں دی جب ہم نے خداوند پر یقین کیا، تو میں کون تھا کہ خداوند کی مخالفت کرتا ؟ 18 ۱۸۔ جب اُنھوں نے یہ باتیں سُنیں، تو جواب میں کچھ نہ کہا، لیکن خداوند کی حمدو ثنا کی اورکہا، ’’ پھر تو خداوندنےغیر قوموں کو بھی زندگی کے لئے توبہ کی توفیق دی ہے‘‘۔ 19 ۱۹۔ پس جو ایماندار اُس ایذارسانی سے جو ستفنس کی موت کے باعث اُن پر پڑی تھی پراگندہ ہوئے اور یروشلیم سے دور چلے گئے۔ وہ ایماندار پھرتے پھرتے فنیکے، کپرس اور انطاکیہ کو گئے، اور وہ کلام صرف یہودیوں کو ہی سُناتے تھے، اور کسی کو نہیں۔ 20 ۲۰۔ لیکن اُن میں سے کچھ کپرس اور کُرینی سے تھے، وہ انطاکیہ میں آئے اوریونانیوں میں بھی خداوند یسوع کی منادی کی ۔ 21 ۲۱۔ اور خداوند کا ہاتھ اُن کے ساتھ تھا؛ اور ایک بڑی تعداد ایمان لائی اور خداوند کی طرف پھری۔ 22 ۲۲۔ اُن کے متعلق خبر یروشلیم کی کلیسیا کے کانوں تک پہنچی، اور اُنھوں نے برنباس کو انطاکیہ تک بھیجا۔ 23 ۲۳۔ جب اُس نے آکر خدا کی نعمت کو دیکھا تو وہ خوش ہوا؛ اور اُن کا حوصلہ بڑھایا کہ خداوند میں اپنے پورے دل کے ساتھ قائم رہیں۔ 24 ۲۴۔ کیونکہ وہ نیک شخص تھا، اور پاک روح اور ایمان سے بھرا تھا، اور بہت سے لوگ خداوند میں شامل ہو گئے۔ 25 ۲۵۔ تب برنباس ساؤل کی تلاش کے لئے ترسیس کو چلا گیا۔ 26 ۲۶۔ جب اُس نے اُسے ڈھونڈ لیا، وہ اُسے انطاکیہ لے آیا۔ تب یوں ہوا کہ پورے ایک برس کے لئے وہ کلیسیا کے ساتھ شامل ہوئے اور بہت لوگوں کو سکھایا اور پہلی بار انطاکیہ میں شاگردوں کو مسیحی کہاگیا۔ 27 ۲۷۔ اب اِن دنوں میں کچھ نبی یروشلیم سے انطاکیہ کو آئے۔ 28 ۲۸۔ اُن میں سے ایک جس کا نام اگیُس تھا کھڑا ہوا اور روح سے ہدایت پا کر کہا کہ بڑا قحط پوری دنیا میں آئے گا یہ کلودیس کے دنوں میں ہوا۔ 29 ۲۹۔ پس شاگردوں میں سےہر کوئی جواِس قابل تھا، یہوداہ میں اپنے بھائیوں کو مدد بھجنے کا فیصلہ کیا۔ 30 ۳۰۔ چنانچہ اُنھوں نے ایسا ہی کیا؛ اُنھوں نے برنباس اور ساؤل کے ہاتھ بزرگوں کو پیسے بھیجے۔