اَعمال باب ۱۰

1 ۱۔ قیصریہ کے شہرمیں کُرنیلیس نام ایک شخص تھا جو کہ اطالوی دستہ کا صوبہ دار تھا۔ 2 ۲۔وہ ایک خدا ترس شخص تھا، اور اپنے سارے خاندان سمیت خدا کی حمد کرتا تھا: وہ یہودی لوگوں کو بہت خیرات دیتا اور بلا ناغہ دُعا کرتا تھا۔ 3 ۳۔ دن کے تیسرے پہر میں ، اُس نے رویا میں صاف صاف خدا کے فرشتہ کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ فرشتہ نے اُس سے کہا۔ ’’ کُرنیلیس !‘‘ 4 ۴۔کرنیلیس نے فرشتہ کو غور سے دیکھا اور ڈر گیا اور کہا، ’’ جناب یہ کیا ہے؟ ‘‘ فرشتہ نے اُس سے کہا، ’’ تیری دعائیں اور غریبوں کے لئے تحائف اوپر، خدا کے حضور یادگار نذر کے طور پر گئے ہیں۔ 5 ۵۔اب یافا شہر کو آدمی بھیج اور شمعون نامی شخص کو جو پطرس کہلاتا ہے بلوا لے۔ 6 ۶۔ وہ ایک دباغ کے ساتھ جس کا نام شمعون ہے رہ رہا ہے، جس کا گھر سمندر کے کنارے ہے۔ 7 ۷۔ جب فرشتہ جو اُس سے بات کر رہا تھا چلا گیا، تو کُرنیلیس نے اپنے گھر کے دو نوکروں کو بلایا، اور ایک سپاہی کو جو خدا کی حمد کرتا تھا، اُن تمام سپاہیوں کے درمیان جو اُس کی خدمت کرتے تھے۔ 8 ۸۔ کُرنیلیس نے وہ سب کچھ جو ہوا تھا اُن کو بتایا اور یافا کو بھیج دیا۔ 9 ۹۔ اب اگلے دن کے چھٹے گھنٹے کے قریب، جب وہ سفر پر تھے اور اکٹھے شہر کے قریب پہنچے، پطرس مکان کی چھت پر دُعا کرنے گیا۔ 10 ۱۰۔ تب اُسے بھوک لگی اور کچھ کھانا چاہتا تھا، لیکن لوگ جب کھانا تیار کر رہے تھے، تو اُس کوایک رویا ملی۔ 11 ۱۱۔ اور اُس نے آسمان کو کھلا دیکھا، ایک بڑی چادر کی مانند چیز چاروں کونوں سے زمین کی طرف اُتر رہی ہے۔ 12 ۱۲۔ اُس میں تمام قسم کے چوپائے اور زمین پر رینگنے والی چیزیں اور ہوا کے پرندے تھے۔ 13 ۱۳۔ تب ایک آواز اُس کو آئی: ’’ پطرس، اُٹھ، ذبح کر اور کھا‘‘۔ 14 ۱۴۔ لیکن پطرس نے کہا، ’’ ہرگز نہیں، خداوند : میں نے کبھی ایسی چیزیں نہیں کھائی جو غلیظ اور ناپاک ہوں۔ 15 ۱۵۔ لیکن دوسری بار اُس کو یہ آواز آئی: ’’ جس کو خدا نے پاک کیا ، اُس کو غلیظ مت کہو‘‘۔ 16 ۱۶۔ یہ تین مرتبہ ہوا، تب وہ ظرف نما چیزیں فوراً آسمان پر اُٹھا لی گئی۔ 17 ۱۷۔ اب پطرس جب حیران ہی تھا کہ جو رویا اُس نے دیکھی اِس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، تو دیکھو، وہ شخص جن کو کُرنیلیس نے بھیجا تھا گھر کا راستہ پوچھتے ہوئے دروازے کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ 18 ۱۸۔ اُنھوں نے پکارا اور کہا کہ کیا شمعون جو پطرس کہلاتا ہے، یہاں ٹھہرا ہو ہے۔ 19 ۱۹۔ ابھی پطرس اِس رویا کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا، کہ روح نے اُس سے کہا، ’’ دیکھ، تین شخص تیری تلاش میں ہیں۔ 20 ۲۰۔ اُٹھ اور نیچے جا اور اُن کے ساتھ چلا جا، اُن کے ساتھ جانے سے مت ڈر ، کیونکہ میں نے اُنہیں بھیجا ہے‘‘۔ 21 ۲۱۔ پس پطرس نیچے اُن لوگوں کے پاس گیا اور کہا ’’ میں وہ ہوں جس کی تم تلاش کر رہے ہو، تُم کیوں آئے ہو؟‘‘ 22 ۲۲۔اُنھوں نے کہا، ’’ کرنیلیس نامی صوبہ دار جو ایک راستباز شخص، خدا کی حمد کرنے والا اور یہودیوں کی قوم میں نیک نام ہے، تیری بابت خدا کے مقدس فرشتہ سے ہدائت پا ئی کہ تجھے اپنے گھر بلائے، تاکہ تجھ سے کلام سُن سکے۔ 23 ۲۳۔ پھر پطرس نے اُنہیں اندر آنے اور اُن کو ساتھ رہنے کی دعوت دی۔ اگلی صبح وہ اُٹھا اور اُن کے ساتھ چلا گیا، اور یافا سے کچھ بھائی بھی اُس کے ساتھ ہو لئے۔ 24 ۲۴۔ اُسی دن وہ قیصریہ میں آئے۔ کُرنیلیس اپنے رشتے داروں اور قریبی دوستوں کے ساتھ اُن کا انتظار کر رہا تھا۔ 25 ۲۵۔ جب پطرس اندر داخل ہوا تو یوں ہوا، کہ کرنیلیس اُس سے ملا اور اُس کے قدموں پر جُھکا اور اُسے سجدہ کیا۔ 26 ۲۶۔ لیکن پطرس نے اُسے اُوپر اُٹھایا اور کہا، ’’ کھڑا ہو ‘‘ میں بھی ایک انسان ہوں ‘‘۔ 27 ۲۷۔ جب پطرس اُس سے باتیں کر ہی رہا تھا، وہ اندر گیا اور بہت سے لوگوں کو اکٹھا پایا۔ 28 ۲۸۔ اُس نے اُن سے کہا، تُم جانتے ہی ہو کہ کسی یہودی کا کسی غیر قوم والے سے محبت رکھنا یا اُس کے ہاں جانا جائز نہیں۔ لیکن خدا نے مجھ پر ظاہر کیا کہ مجھے کسی شخص کو غلیظ یا ناپاک نہیں کہنا چاہیے۔ 29 ۲۹۔ اِس وجہ سے میں بغیر دلیل کے آ گیا، پس پوچھتا ہوں کہ تُو نے مجھے کیوں بلوایا۔ 30 ۳۰۔ کرنیلیس نے کہا، ’’ چار روز پہلے بالکل اِسی گھڑی، میں دن کے تیسرے پہر اپنے گھر میں دُعا کر رہا تھا، اور دیکھا کہ ایک شخص چمکدار لباس پہن کر میرے سامنے آ کھڑا ہو۔ 31 ۳۱۔ اُس نے کہا، کرنیلیس، تیری دُعا خدا نے سُن لی، اور غریبوں کے لئے تیری امداد نے خدا کو تیری یاد دلائی ہے۔ 32 ۳۲۔پس کسی کو یافا بھیج اور شمعون نام ایک شخص جو پطرس کہلاتا ہے بلوا لے، وہ سمندر کے کنارے شمعون دباغ کے گھر ٹھہرا ہوا ہے۔ [کچھ قدیمی اختیارات شامل ہیں:] جب وہ آئے، تو وہ تُم سے بات کرے گا۔ 33 ۳۳۔ اِس لئے ایک دم میں نے تیرے لئے آدمی بھیجے، تیری مہربانی ہے جو تُو آگیا۔ پس اب ہم سب یہاں خدا کی نظر میں حاضر ہیں کہ وہ سب سُنیں جو خداوند نے تجھے کہنے کی ہدایت دی ہے‘‘۔ [نوٹ کچھ قدیمی اختیارات شامل ہیں:] 34 ۳۴۔ تب پطرس نے اپنا منہ کھولا اور کہا، ’’ سچ مچ، مجھے آگاہی ہوئی ہے کہ خدا کسی کی طرف داری نہیں کرتا۔ 35 ۳۵۔ اِس کی بجائے، ہر قوم میں کوئی بھی عبادت کرتا اور راستبازی کے کام کرتا ہے، وہ اُس کو قابل قبول ہے۔ 36 ۳۶۔ تُم اُس پیغام کو جانتے ہو، جو اُس نے اسرائیل کے لوگوں کو بھیجا، جب اُس نے یسوع مسیح میں صلح کی خوشخبری کا اعلان کیا، جو سب کا خداوند ہے۔ 37 38 ۳۷۔۳۸۔ تُم اُن تمام واقعات سے جو ہوئے واقف ہو، جو یوحنا کے بپتسمہ کے بعد، گلیل سے شروع ہوتے ہوئے تمام یہودیہ میں رونما ہوئے۔ وہ واقعات ناصرت کے یسوع سے متعلق تھے، کہ کیسے خدا نے اُس کو روح القدس اور قوت سےمسح کیا۔ وہ گیا اور تمام لوگوں کو شفا دی جو شیطان کے قبضہ میں تھے، کیونکہ خدا اُس کے ساتھ تھا۔ 39 ۳۹۔ ہم اُن تمام کاموں کے گواہ ہیں، جو اُس نے یہودیوں کے ملک اور یروشلیم میں کئے۔ انہوں نے اسے صلیب دے کر مارا۔ 40 ۴۰۔ اُسے خدا نے تیسرے دن جلایا اور ظاہر بھی کیا، 41 ۴۱۔ سب لوگوں پر نہین، لیکن اُن گواہوں پر جو آگے سے خدا کے چنے ہوئے تھے۔ہم، جنہوں نے اُس کے مردوں میں سے زندہ ہونے کے بعد اُس کے ساتھ کھایا اور پیا۔ 42 ۴۲۔ اُس نے ہمیں حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کرو گواہی دو کہ یہ وہی ہے جو خدا کی طرف سے زندوں اور مردوں کا منصف چنا گیا۔ 43 ۴۳۔ اُسکی تمام نبیوں نے گواہی دی، کہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے گا، اُس کے نام کے باعث گناہوں سے معافی حاصل کرے گا۔ 44 ۴۴۔ جب پطرس یہ باتیں کہہ ہی رہا تھا، کہ پاک روح اُن تمام پر نازل ہوا جو کلام سُن رہے تھے۔ 45 ۴۵۔ وہ لوگ جو مختُون گروہ کے ماننے والے تھے۔ وہ تمام جو پطرس کے ساتھ آئے تھے۔ حیران ہوئے، کیونکہ پاک روح کی نعمت غیر قوموں میں بھی ڈالی گئی تھی۔ 46 ۴۶۔ کیونکہ وہ غیر قوموں کو دوسری زبانوں میں خدا کی تعریف کرتے سُنتے تھے ، پطرس نے جواب دیا۔ 47 ۴۷۔ ’’ کیا کوئی اِن لوگوں کو پانی سے روک سکتا ہے کہ اُنہیں بپتسمہ نہیں لینا چاہیے، جنہوں نے ہماری طرح پاک روح پایا؟ 48 ۴۸۔ تب اُس نے اُن کو حکم دیا کہ یسوع مسیح کے نام میں اِن کو بپتسمہ دو۔ تب اُنھوں نے اُس سے کہا کہ کچھ دن اُن کے ساتھ رہے۔