1 ۱۔ اب قریباً اُسی وقت ہیرودیس بادشاہ نے جماعت میں سے کچھ پر ہاتھ ڈالا کہ اُن سے بُرا سلوک کرے۔ 2 ۲۔ اُس نے یوحنا کے بھائی یعقوب کو تلوار سے قتل کروایا۔ 3 ۳۔ اِس کے بعد اُس نے دیکھا کہ یہودی اِس سے خوش ہوئے تو اُس نے پطرس کو بھی گرفتار کروا دیا۔اور یہ عید فطیر ( بے خمیر روٹی کی عید ) کے دنوں میں ہوا۔ 4 ۴۔ اُس کو گرفتار کروانے کے بعد، اُس نے اُسے قید میں ڈالا اور چار چار سپاہیوں کے چار پہروں میں رکھا تاکہ اُس کی نگرانی کریں؛ وہ ارادہ کر رہا تھا کہ فسح کے بعد اُس کو لوگوں کے پاس لائے۔ 5 ۵۔ پس پطرس قید خانہ میں میں تھا، لیکن جماعت سنجیدگی سے اُس کے لئے خدا سے دعا کر رہی تھی۔ 6 ۶۔ اس سے پہلی رات جب ہیرودیس نے اُس کو باہر لانے کو تھا، اُسی رات پطرس دو سپاہیوں کے درمیان، دو زنجیروں سے بندھا ہوا سو رہا تھا؛ اور دروازے کے سامنے کے نگران قید خانہ پر پہرا دے رہے تھے۔ 7 ۷۔ دیکھو، خداوند کا فرشتہ اچانک اُس پر ظاہر ہوا، اور ایک نور اُس کوٹھری میں چمکا۔اُس نے پطرس کو ایک طرف سے ہلایا اور جگایا اور کہا، ’’ جلدی اُٹھ جا‘‘ تب وہ زنجیریں اُس کے ہاتوں سے اُتر گئیں۔ 8 ۸۔ فرشتہ نے اُس سے کہا۔ ’’ تیار ہو جا اور اپنے جوتے پہن لے ‘‘ پطرس نے ایسا ہی کیا، فرشتہ نے اُس سے کہا، ’’ اپنے کپڑے پہن اور میرے پیچھے آ ‘‘۔ 9 ۹۔ پس پطرس اُس کے پیچھے پیچھے باہر گیا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جو کچھ فرشتہ کی بابت ہوا ہے وہ حقیقت ہے، اُس نے سوچا کہ وہ رویا دیکھ رہا ہے۔ 10 ۱۰۔ پہلے اور دوسرے نگران سے گزر جانے کے بعد وہ لوہے کے دروازے پر پہنچے جو شہر کو جاتا ہے؛ وہ اُن کے لئے اپنے آپ کھل گیا۔ وہ باہر نکلے اور نیچے کے راستہ کو چلے گئے، اور فرشتہ اُسی گھڑی اُسے چھوڑ کر چلا گیا۔ 11 ۱۱۔ جب پطرس ہوش میں آیا، اُس نے کہا، ’’ اب میں سچ میں جان گیا ہوں کہ خدا نے اپنا فرشتہ بھیجا اور مجھے ہیرودیس کے ہاتھ اور یہودی لوگوں کی تمام توقع سے بچایا‘‘۔ 12 ۱۲۔ جب اُسے یہ احساس ہوا، تو یوحنا کی ماں مریم کے گھر آیا جس کا خاندانی نام مرقس تھا؛ وہاں بہت سے ایماندار جمع تھے اور دُعا کر رہے تھے۔ 13 ۱۳۔ جب اُس نے پھاٹک کے دروازے پر دستک دی، تو ایک نوکرانی جس کا نام رُدی تھا جواب دینے کو آئی۔ 14 ۱۴۔ جب اُس نے پطرس کی آواز کو پہچانا، تو مارے خوشی کے دروازہ کھولنے کی بجائے بھاگتی ہوئی اندر گئی اور خبر دی کہ پطرس دروازے پر کھڑا ہے۔ 15 ۱۵۔ اُنھوں نے اُس سے کہا، ’’ تُو پگلی ہے ‘‘ لیکن اُس نے اصرار کیا کہ وہ وہی ہے، اُنھوں نے کہا، ’’ یہ اُس کا فرشتہ ہے ‘‘۔ 16 ۱۶۔ لیکن پطرس مسلسل کھٹکھٹاتا رہا، اور جب اُنھوں نے دروازہ کھولا، تو اُنھوں نے اُسے دیکھا اور حیران ہوئے۔ 17 ۱۷۔ پطرس نے خاموش رہنے کے لئے اُنہیں ہاتھ سے اشارہ کیا، اور اُس نے اُن کو بتایا کہ کیسے خدا نے اُسے قید خانہ سے باہر نکالا، ’’ اُس نے کہا، کہ اِن باتوں کی خبر یعقوب اور بھائیوں کو دو‘‘ تب وہ رخصت ہوا اور دوسری جگہ کو چلا گیا۔ 18 ۱۸۔ اب جب دن ہوا، تو سپاہیوں میں گھبراہٹ تھی کہ پطرس کے ساتھ کیا ہوا۔ 19 ۱۹۔ جب ہیرودیس نے اُس کی تلاش کی اور اُسے نہ ڈھونڈ سکا، تو اُس نے نگرانوں سے تحقیق کی اور اُنہیں قتل کرانے کا حکم دیا، تب وہ یہودیہ سے قیصریہ کو چلا گیا اور وہاں رہا۔ 20 ۲۰۔ اب ہیرودیس صُور اور صیدا کے لوگوں سے نہایت ناراض ہوا، اور وہ اکٹھے اُس کے پاس گئے۔ اُنھوں نے بادشاہ کے مددگار بلستُس کو مدد کے لئے مائل کیا، پھر اُنھوں نے صلح کے لئے درخواست کی کیونکہ اُن کا ملک بادشاہ کے ملک سے خواک حاصل کرتا تھا۔ 21 ۲۱۔ مقررہ دن پر ہیرودیس نے شاہی لباس پہنا اور تخت پر بیٹھ گیا، اور اُن سے خطاب کرنے لگا۔ 22 ۲۲۔تو لوگ چلا اُٹھے کہ ’’ یہ دیوتا کی آواز ہے نہ کہ انسان کی !‘‘ 23 ۲۳۔ فوراً خداوند کے فرشتہ نے اُسے مارا، کیونکہ اُس نے خدا کو جلال نہ دیا تھا؛ اور اُسے کیڑے پڑ گئے اور وہ مر گیا۔ 24 ۲۴۔ لیکن خدا کا کلام بڑھتا اورپھیلتا گیا۔ 25 ۲۵۔ جب برنباس اور ساؤل یروشلیم میں اپنا مقصد مکمل کر چکے تو وہاں سے واپس روانہ ہوئے؛ اور اُنھوں نے یوحنا کو بھی، جو مرقس بھی کہلاتا تھا، اپنے ساتھ لے لیا ۔