باب

1 ۔شمعدان اور زیتونوں کی رویا جو فرِشتہ مُجھ سے بات کرتا تھا وہ پھِر آیا اَور اُس نے جیسے مُجھے نیند سے جگایا۔ 2 ۔اَور اُس نے مُجھ سے کہا کہ تُو کیا دیکھتا ہَے؟ اَور مَیں نے کہا کہ مَیں ایک شمع دان دیکھتا ہُوں ۔جو پورے کا پورا سونے کا ہے۔ جس کے سرپر ایک کٹورا ہَے اَور اُس کے اُوپر سات چراغ ہیں اَور اُس کے اُوپر کے چراغوں کے لئے سات نلیاں ہَیں۔ 3 ۔ اور اُس کے پاس زیتون کے دو درخت ہیں ۔ایک تو کٹورے کی دہنی طرف اَور ایک بائیں طرف۔ 4 ۔اَور مَیں نے اُس فرِشتے سے جو مُجھ سے بات کرتا تھا۔ عرض کر کے کہا کہ اَے میرے آقا۔ یہ کیا ہیں؟ 5 ۔اَور اُس فرشتے نے جو مُجھ سے بات کرتا تھا۔ جَواب میں کہا کہ کیا تُو نہیں جانتا کہ یہ کیا ہَیں؟ مَیں نے کہا کہ نہیں۔ اَے میرے آقا۔ 6 ۔اَس پر اُس نے کہا کہ یہ زربابل کے لئے خُداوند کا کلام ہَے۔ کہ نہ تو زور سے اُور نہ قُوّت سے بلکہ میری رُوح سے( ربُّ الافواج فرماتا ہے)۔ 7 ۔اَے بڑے پہاڑ! تُو کیا ہَے؟ تُو زربابل کے سامنے ہموار ہو جائے گا۔ جب وہ چوٹی کا پتّھر نکِال لائے گا تو پُکارا جائےگا۔ کہ اُس پر آفرین! آفرین!۔ 8 ۔اَور مَیں نے خُداوند کا کلام پایا۔ اُس نے کہا کہ ۔ 9 ۔ زربابل کے ہاتھوں نے اِس گھر کی بُنیاد ڈالی ہَے اَور اُسی کے ہاتھ اِسے تمام بھی کریں گے۔ تب تُو جان لے گا کہ ربُّ الافواج نے مُجھے تُمہارے پاس بھیجا ہَے۔ 10 ۔کیونکہ کون ہَے جِس نے پوشیدہ کاموں کے دِن کی بے عزتی کی ہَے؟ 11 ۔یہ سات۔ یعنی خُداوند کی یہ سات آنکھیں جو ساری زمین کی سیر کرتی ہَیں خُوش ہوں گی جب ساہول (دیوار کی سیدھ ماپنے کا آلہ) زربابل کے ہاتھ میں دیکھیں گی۔ اَور مَیں نے پھِر عرض کر کے کہا کہ شمعدان کی دہنی اَور بائیں طرف زیتُون کے یہ دو درخت کیا ہَیں؟ 12 ۔اَور مَیں نے ایک بار پھر عرض کر کے کہا کہ زیتوُن کی دو شاخیں کِیا ہَیں؟ جو سونے کی نلیوں کے بہانے والے دو چونچوں کے قریب ہَیں؟ 13 ۔اُس نے مُجھے جَواب دِیا، کیا تو نہیں جانتا کہ یہ کیا ہَیں؟ اَور مَیں نے کہا کہ نہیں اَے میرے آقا! 14 ۔ اِس پر اُس نے کہا کہ یہ وہ دو ممُسوح ہَیں جو ربُّ الافواج العالمیِن کے حضُور کھڑے رہتے ہَیں۔