باب

1 ۔اُس روز داؔؤد کے گھرانے اَور یرُو شلیِؔم کے باشِندوں کے لئے خطا اَور ناپاکی دھونے کو ایک چشمہ پھوُٹ نِکلے گا۔ 2 ۔اَور اُس روز( ربُّ الافواج کا فرمان ہَے) مَیں مُلک سے بُتوں کا نام و نِشان مِٹا ڈالوں گا۔ اَور اُن کا پھِر ذِکر نہ ہوگا اَور مَیں نبیوں اَور ناپاک رُوحوں کو بھی مُلک سے خارِج کر دُوں گا۔ 3 ۔اَور جب کوئی نُبوّت کرنے لگے گا تو اُس کے ماں باپ جِن سے وہ پیدا ہُؤا اُس سے کہیں گے کہ تُو زِندہ نہ رہے گا۔ کیونکہ تُو خُداوند کا نام لے کر جُھوٹ بولتا ہَے اَور جب وہ نُبوّت کرے گا تو اُس کے ماں باپ جِن سے وہ پیدا ہُؤا اُسے چھید ڈالیں گے۔ 4 ۔اَور اُس روز انیباء میں سے ہر ایک نُبوّت کرتے وقت اپنی رُؤیا سے شرمِندہ ہو گا۔ اَور پھر پیشن گوئی کے لئے پشمین چوغہ نہ اوڑھے گا۔ 5 ۔لیکن وہ کہے گا کہ مَیں نبی نہیں بلکہ کِسان ہُوں۔ مَیں تو جوانی سے ہی کھیتی باڑی کرتا آیا ہُوں۔ 6 ۔اَور جب اُس سے پُوچھا جائے گا کہ تیری چھاتی پر یہ زخم کیسے ہیں؟ تو وہ کہے گا کہ یہ وہ زخم ہیں جو مُجھے دوستوں کے گھر میں لگے۔ 7 ۔ اَے تلوار ۔ میرے چرواہے پر اُٹھ کھڑی ہو۔ یعنی اُس اِنسان پر جو میرا دوست ہَے (ربُّ الافواج کا فرمان ہَے) مَیں چرواہے کو مارُوں گا۔ تو بھیڑیں پراگندہ ہو جائیں گی۔ اَور مَیں چھوٹوں پر ہاتھ چلاؤں گا۔ 8 ۔اَور تمام مُلک میں یُوں ہوگا۔ (خُداوند فرماتا ہے) کہ دو حِصّے قتل ہو کر مَر جائیں گے اَور تیسرا حِصّہ بچ رہے گا۔ 9 ۔مَیں اُس حِصّے کو آگ میں ڈالُوں گا اَور ُسے چاندی کی مانند صاف کُروں گا اَور سونے کی طرح آزماؤں گا۔ وہ میرے نام کو پُکارے گا۔ اَور مَیں اُس کی سُنوں گا۔ اَور کہُوں گا کہ یہ میری اُمّت ہَے۔ اَور وہ کہے گا کہ خُداوند ہی میرا خُدا ہَے۔