1 ۔ یومِ خداوند دیکھ۔ خُداوند کا وہ دِن آتا ہَے جب تیرا مال لُوٹ کر تیرے اندر بانٹا جائے گا۔ 2 ۔ (اَور مَیں تمام اَقوام کو اکٹھا کرُوں گا۔کہ یرُوشلیِؔم سے جنگ کریں )شہر لے لیا جائے گا۔ گھر لُوٹے جائیں گے۔ عورتیں بے حُرمت کی جائیں گی اَور نصف آبادی اسیری میں جائے گی لیکن اُمّت کا بَقیہّ شہر سے لاتعلق ہو جائے گا۔ 3 ۔تب خُداوند خُروج کرے گا اَور اُن قوموں سے لڑے گا جیسے جنگ کے دِن لڑا کرتا تھا۔ 4 ۔ اَور اُس روز اُس کے پاؤں کو ہِ زیتُون پر ٹِکیں گے جو مشرق کی طرف یرُوشلیِؔم کے سامنے ہَے اَور کوہِ زیتؔوُن بیچ سے پھٹ جائے گا۔ یُوں کہ مشرق سے مغر ب تک ایک نہایت بڑی وادی ہو جائے گی۔ کیونکہ آدھا پہاڑ تو شِمال کی سَرک جائے گا اَور آدھا جنُوب کو۔ 5 ۔ تب تُم میرے پہاڑوں کی وادی سے ہو کر بھاگو گے کیونکہ پہاڑوں کی وادی آضل تک ہو گی اَور تُم ویسے ہی بھاگو گے جیسے شاہ ِ یہوُدؔاہ عُزیاہ کے دِنوں میں زلزلہ سے بھاگے تھے۔ 6 ۔تب خُداوند میرا خُدا آئے گا اَور سب مقُدّسین اُس کے ساتھ ہوں گے۔ اُس روز نہ تارِیکی ہو گی نہ سردی اَور نہ برف۔ 7 ۔ وہ دِن ایسا ہو گا جسے صرف خُداوند جانتاہَے۔ نہ دِن ہوگا نہ رات۔ شام کے وقت بھی روشنی ہو گی۔ 8 ۔اُس روز یرُوشلیِؔم سے آب ِ حیات جاری ہوگا جس کا آدھا مشرقی سمُندر اَور آدھا مغربی سمُندر کی طرف بہے گا۔ وہ گرمی سردی میں جاری رہے گا۔ 9 ۔ اَور خُداوند ساری دُنیا پر بادشاہ ہوگا۔ اُس روز ایک ہی خُداوند ہو گا اَور اُس کا نام ایک ہی ہوگا۔ 10 ۔تمام مُلک جبؔع سے لے کر جنوب کے رموّؔن تک میدان ہو گا۔ لیکن یرُوشلیِؔم بُلند ہو گا۔ اَور بنیمِیؔن کے پھاٹک سے لے کر پہلے پھاٹک سے ہو کر کونے کے پھاٹک تک اَور حَنَن ایؔل کے بُرج سے لے کر بادشاہ کے انگوری حوضوں تک اپنی ہی جگہ میں آباد ہو گی اَور لوگ اُس میں سکُونت کریں گے۔ 11 ۔ پھِر بربادی نہ ہوگی بلکہ یرُوشلیِؔم آباد اَور پُر اُمن ہوگا۔ 12 ۔جو آفت خُداوند اُن تمام اُمّتوں پر نازِل کرے گا۔ جنِہوں نے یرُوشلیِؔم کے خلاف لشکر کشی کی وہ یہ ہَے کہ کھڑے کھڑے اُن کا گوشت گل سڑ جائے گا۔ اُن کی آنکھیں چشم خانوں میں گَل جائیں گی۔ اُن کی زُبان اُن کے مُنہ میں سڑ جائے گی۔ 13 ۔اَور اُس روز خُداوند کی طرف سے اُن کے درمیان بڑی بے چینی ہو گی اَورلوگ ایک دُوسرے کا ہاتھ پکڑیں گے اَور ایک دُوسرے کے خلاف ہاتھ اُٹھائیں گے۔ 14 ۔اَور یہُودؔاہ بھی یرُوشلیِؔم میں لڑائی کرے گا اَور ارد گرِد کی تمام اَقوام کی دولت یعنی سونا چاندی اَور لباس بڑی کثرت سے فراہم کیا جائے گا۔ 15 ۔اَور جو آفت گھوڑوں خَچّروں اُنٹوں گدھوں بلکہ لشکر گاہ کے تمام حیوانوں پر آئے گی و ہی عذاب ہو گا۔ 16 ۔اَور یرُوشلیِؔم سے لڑنے والی تمام قوموں میں سے جو بچ جائیں گے وہ سب کے سب ہر سال بادشاہ ربُّ الافواج کو سجَدہ کرنے اَور عیدِ خیام منانے آیا کریں گے۔ 17 ۔اَور قبائل زمین میں سے اُن پر اُس سال مینہ نہ برسا کر ے گا جس سال وہ بادشاہ ربُّ الافواج کو سجَدہ کرنے کے لئے یرُوشلیِؔم نہیں آیا کریں گے۔ 18 ۔اَور اگر مِصؔر کی نسل نہ آئے اَور حاضر نہ ہو۔ تو اُس پر وہی آفت پڑے گی جو خُداوند اُن قوموں پر نازل کرے گا جو عید خیام منانے کو نہ آئیں گی۔ 19 ۔مِصؔر کے گُناہ کی سزا بلکہ اُن تمام قوموں کے گُناہ کی سزا جو عیدِ خیام منانے کو نہ آئیں گی۔ یہی ہو گی۔ 20 ۔اُس روز گھوڑوں کی گھنٹیوں پر لکھا ہو گا۔ "خُداوند کے لئے مخصوص" اَور خُداوند کے گھر کی دیگیں مذبح کے سامنے کے پیالوں کی مانند مُقدّس ہوں گی۔ 21 ۔بلکہ یرُوشلیِؔم اَور یہوُدؔاہ میں ہر ایک دیگ ربُّ الافواج کے لئے مخصُوص ہو گی اَور سب قُربانی گُزراننے والے آکر اُنہیں لیں گے اَور اُن میں پکائیں گے اَور اُس روز ربُّ الافواج کے گھر میں کوئی تاجر نہ پایا جائےگا۔