1 ۔اَے لُبؔنان تُو اپنے پھاٹکوں کو کھول دے تاکہ آگ تیرے دیوداروں کو کھا جائے۔ 2 ۔اَے سرو کے درخت ماتم کر کیونکہ شاندار دیودارگِر کر برباد ہو گیا۔ اَے بسن کے بلُوط!ماتم کرو۔ کیونکہ گھنا جنگل صاف ہو گیا ہَے۔ 3 ۔چرواہوں کا ماتم سُنائی دیتا ہَے کیونکہ اُن کی شوکت تباہ ہو گئی ہَے جوان شیروں کے گرجنے کی آواز آتی ہَے کیونکہ یردؔن کا فخر برباد ہو گیا ہَے۔ 4 ۔ نیک و بد پاسبان خُداوند میرا خُدا یوُں فرماتا ہَے کہ جو بھیڑیں ذَبح ہونے والی ہیں اُن کو چَرا۔ 5 ۔جِن کے مالِک اُنہیں ذَبح کرتے ہَیں اَور اپنے آپ کو بے قصُور سمجھتے ہَیں اَور جِن کے بیچنے والے کہتے ہَیں کہ خُداوند مُبارَک ہو۔ کہ مَیں مال دار ہو گیا ہُوں اَور اُن کے چَرانے والے اُن پر ترس نہیں کھاتے۔ 6 ۔کیونکہ مَیں اِس مُلک کے باشِندوں پر رحم نہ کرُوں گا۔ (خُداوند کا فرمان ہَے) بلکہ دیکھ۔ مَیں ہر شخص کو اُس کے ہمسائے اَور اُس کے بادشاہ کے حوالے کر دُوں گا۔ وہ مُلک کو تباہ کر دیں گے اَور مَیں اُنہیں اُن کے ہاتھ سے نہیں چھُڑاؤں گا۔ 7 ۔پس میں ذَبح ہونے والی بھیڑوں کو بھیڑ فروشوں کے لئے چَرانے لگا۔ اَور مَیں نے دو مددگار لیے۔ ایک کا نام فضل رکھّا اَور دُوسری کا اَتّحاؔد۔ پس مَیں گلّے کو چَرانے لگا۔ 8 ۔اَور مَیں نے ایک مہینے کے اندر اندر تین چرواہوں کو ہلاک کر دِیا۔ تب میری جان اُن سے بیزار ہو گئی اَور اُن کے دِل میں بھی مُجھ سے نفرت آگئی۔ 9 ۔اَور مَیں نے کہا کہ اَب مَیں تُمہیں نہ چَراؤں گا۔ مَرنے والا مَرجائے اَور ہلاک ہونے والا ہلا ک ہو جائے اَور باقی ایک دُوسرے کا گوشت کھا جائیں۔ 10 ۔اَور مَیں نے اپنا مددگار فضلؔ نامی لیا اَور اُسے توڑ ڈالا تاکہ اپنے اُس عہد کو توڑ دوں جو مَیں نے اِن تمام قبیلوں سے باندھا تھا۔ 11 ۔اَور وہ اُسی دِن ٹوٹ گیا۔ تب اُن بھیڑ فروشوں نے جو میری طرف مُتوجّہ تھے جان لِیا کہ یہ خُداوند کا کلام ہَے۔ 12 ۔ اَور مَیں نے اُن سے کہا کہ اگر تُمہاری نظر میں دُرست ہو تو مُجھے میری مزدوری دے دو ورنہ مت دو اَور اُنہوں نے میری مزدوری کے لئے تیس مِثقال تول کر دے دیئے۔ 13 ۔ لیکن خُداوند نے مُجھ سے کہا کہ اُسے کُمہار کے سامنے پھینک دے یعنی اُس بڑی قیمت کو جو اُنہوں نے میرے لئے ٹھہرائی اَور مَیں نے یہ تیس مثقال لے کر خُداوند کے گھر میں کُمہار کے سامنے پھینک دیئے۔ 14 ۔پھِر میں نے اپنے دُوسرے مددگار اِتحؔاد نامی کو بھی توڑ ڈالا تاکہ یہوُدؔاہ اَور اِسرؔائیل کاآپس کا بھائی چارہ ٹوُٹ جائے۔ 15 ۔اَور خُداوند نے مُجھ سے کہا کہ تُو اَب نادان چرواہے کا سامان لے۔ 16 ۔ کیونکہ دیکھ مَیں مُلک میں ایسا چوپان مُقرّر کرُوں گا جو نہ ہلاک ہونے والے کی خبر گیری ۔ نہ پراگندہ شُدہ کی تلاش۔ نہ لنگڑی کا عِلاج اَور نہ تندُرست کی پرورش کرے گا اَور نہ صحت مند کو کھلائے گا بلکہ موٹی بھیڑوں کا گوشت کھائے گا اَور اُن کے کھُروں کو توڑ ڈالے گا۔ اُس نالائق پاسبان پر افسوس۔ 17 ۔جو گلّے کو چھوڑ جاتا ہَے۔ تلوار اُس کے بازُو پر اَور اُس کی دہنی آنکھ پر آپڑے گی۔ تو اُس کا بازُو بِالکُل سُوکھ جائے گا اَور اُس کی دہنی آنکھ مکمل طور پر اندھی ہو جائے گی۔