1 ۔ حِکمَت کی دعوت حکمت نے اپنا گھر بنایا اَور اپنے سات ستُون تراشے ۔ 2 ۔ اُس نے اپنےذَبیحوں کو ذَبح کِیا۔اُس نے اپنی مَے کو مِلایا اَور اپنا دستر خوان آراستہ کِیا ۔ 3 ۔ اُس نے اپنی سہیلوں کو بھیجا کہ شہر کے اُونچے مقاموں کی چوٹیوں پر سے پُکاریں ۔ 4 ۔ جو کوئی نا تجربہ کار ہو وہ میرے پاس آئے جو کوئی بے عقل ہو مَیں اُسے سے بولُوں گی۔ 5 ۔ آؤ میری روٹی میں سے کھاؤ اَور اُس مَے سے پِیئو جِسے مَیں نے ملایا ۔ 6 ۔ نادانی کو چھوڑو تاکہ زندہ رہو دانائی کی راہ میں چلو۔ 7 ۔ جو کوئی مسخرے کو تربیت کرتا ہَے وہ ذِلّت حاصِل کرتا ہَے اَور جو کوئی شریر کو دھمکی دیتا ہَے ۔وہ آپ ہی دَھبّہ پاتا ہَے۔ ِ 8 ۔ مسخرے کو تنبیہہ نہ کر تاکہ وہ تُجھ سے نفرت نہ کرے۔ دانِشمند کو تنبیہہ کر تو وہ تُجھے پیار کرے گا۔ 9 ۔ دانا کو تلقین دے تو وہ زیادہ دانا ہو جائے گا۔ صادق کو تعلیم دے تو وہ زیادہ عِلم حاصل کرے گا ۔ 10 ۔خُداوند کا خوف حِکمَت کا شروع ہَے۔ اَور اُس قُدّوس کی پہچان فہم ہَے۔ 11 ۔ کیونکہ میرے ذریعہ سے تیرے دِن بڑھ جائیں گے اَورتیری زِندگی کے برس زیادہ ہوجائیں گے۔ 12 ۔ اگر تُو دانِشمند ہَے تو اپنے واسطے ہَے اگر تُو ٹھٹھا کرتا ہَے تو اکیلا تُو ہی بَدی اُٹھائے گا۔ 13 ۔ جہالت کی دعوت احمق عورت شوروغل کرتی ہَے ۔وہ دِلفریب ہَےاَور کُچھ نہیں جانتی ۔ 14 ۔ وہ اپنے گھر کےدروازے نزدیک شہر کے اُونچے مقاموں میں چوکی پر بیٹھتی ہَے ۔ 15 ۔ تاکہ راہ کے چلنے والوں کو بُلائے یعنی اُنہیں جو سِیدھی راہ جانا چاہتے ہَیں۔ 16 ۔ جو کوئی ناتجربہ کار ہو وہ میرے پاس آئے۔جوکوئی بے عقل ہو مَیں اُس سے بولُوں گی ۔ 17 ۔چوری کا پانی میٹھا ہوتا ہَے۔ پوشیدگی کی روٹی میں لذّت ہَے۔ 18 ۔ لیکن وہ نہیں جانتا کہ مَردے وہاں ہَیں اَور کہ اُس کے مہمان پاتال کی گہرائیوں میں ہَیں ۔