باب

1 ۔ اَمثَال ِسُلیمؔان دانِش مند بیٹا اپنے باپ کے لئے خوُشی کا سبب ہَے۔ اَور جاہِل بیٹا اپنی ماں کے لئے دُکھ کا باعِث ہَے ۔ 2 ۔ شرارت کے خزانے کُچھ فائدہ نہیں دیتے مگر صداقت مَوت سے چُھڑاتی ہَے۔ 3 ۔ خُداوند صادِق کی جان کو بھُوکا رہنے نہ دے گا پر شریروں کی خواہش کر رَدّ کرتاہَے۔ 4 ۔ جو ڈِھیلے ہاتھ سے کام کرے وہ کنگال ہوجائے گا۔پر محنُتی کا ہاتھ دولت مند بنا دیتا ہَے۔ 5 ۔ جو موسم گرما میں جمع کرتا ہَے وہ دانا بیٹا ہَے ۔جو فصل کے وقت سوتا ہَےوہ ذلت کا فرزند ہَے 6 ۔ صادق کے سر پر برکتیں ہَیں اَور شریروں کے مُنہ ظُلم کو چُھپاتے ہَیں۔ 7 ۔صادِق کا ذِکر مُبارّک ہَے ۔اَور شریروں کا نام لعنتی ہَے۔ 8 ۔ جس کا دِل دانِش ور ہَے وہ حُکموں کا مانتا ہَے۔ پر بکوُاسی اَحمق گِر پڑے گا۔ 9 ۔جو راستی سے چلتا ہَے وہ سلامتی سے جائے گا پر جس کی راہیں ٹیڑھی ہیں وہ ظاہر کِیا جائے گا۔ 10 ۔چشم پوشی کرنے والا دُکھ کا باعِث ہوتا ہَے۔ اَور صاف نصیحت دینے والا سلامتی پیدا کرتا ہَے۔ 11 ۔صادِق کا مُنہ زِندگی کا چشمہ ہَے ۔اَور شریروں کا مُنہ ظُلم کو چھُپاتا ہَے۔ 12 ۔نفرت جھگڑے بَرپا کرتی ہَے ۔اَور مُحبّت سب گُناہوں کو ڈھانپتی ہَے۔ 13 ۔ دانِش مند کے مُنہ میں حِکمَت پائی جاتی ہَے۔ جو بے عقل کی پُشت کے لئے چھڑی ہَے۔ 14 ۔ عقل مند آدمی کو سنبھال رکھتے ہیں ۔ اَور جاہِل کا مُنہ قریب کی ہلاکت ہَے۔ 15 ۔ مال دار آدمی کی دولت اُس کا مُستحکم شہر ہَے۔ اَور مِسکینوں کا کنگال پن اُن کی بربادی ہَے۔ 16 ۔صادِق کی کمائی زِندگی کے لیے ہَے اَور شریر کی پیداوار گُناہ کے لئے۔ 17 ۔ جو تادِیب کا لحاظ کرتا ہَے وہ زِندگی کی راہ میں ہَے اَور جو تنبیہہ کو ترک کرتا ہَے وہ گُمراہ ہو جاتا ہَے۔ 18 ۔جھُوٹے ہونٹ نفرت کو چھُپاتے ہَیں۔تُہمت پھیلانے والا جاہل ہَے۔ 19 ۔ کلام کی کثرت گُناہ سے خالی نہیں اَور جو اپنے لبوں کو روکے رکھتا ہَے وہ عقلمند ہَے۔ 20 ۔ صادِق کی زُبان صاف شُدہ چاندی ہَے اَور شریروں کے دِل بے قدر ہَیں ۔ 21 ۔ صاِدق کے ہونٹ بُہتیروں کو سِکھاتے ہَیں اَور نادان عقل کے نہ ہونے کے سبب مَرتے ہَیں۔ 22 - خُداوند کی برکت دولتمند کرتی ہَے اَور مُشقت اُس پر کُچھ نہیں بڑھاتی۔ 23 ۔ بَدی کاکام جاہِل کے نزدِیک اَور حِکمَت کاکام دانِشمند کے نزدِیک کھیل ہَے۔ 24 ۔شریر کا خوف اُسی پر آپڑے گا۔اَور صادقوں کی خواہش اُنہیں عطا کی جائے گی۔ 25 ۔جِیسے بگُولا جاتا رہا ہَے ۔ ویسے ہی شریر جاتا رہَے گا۔ مگر صادِق اَبدی بُنیاد کی طرح ہَے۔ 26 ۔ جیسا کہ سرکہ دانتوں کے لیے اَور دُھواں آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے ویسا ہی سست آدمی اپنے بھیجنے والے کے لئے ہے۔ 27 ۔ خُداوند کا خوف ایّام کو بڑھاتا ہَے مگر شریروں کے برس گھٹائے جائیں گے۔ 28 ۔ صادِقوں کا اِنتظار خُوشی ہَے۔ اَور شریروں کی اُمید فنا ہو جائے گی۔ 29 ۔ سِیدھی راہ چلنے والوں کے لئے خُدا وند جائےِ پناہ ہَے۔ پر بَد کرداروں کے لئے ہلاکت کا باعث ہَے۔ 30 ۔ صادِق کبھی جُنبش نہ کھائے گا مگر شریر زمین پر آباد نہ رہیں گے۔ 31 ۔صادق کے ہونٹ حِکمَت کا پھل دیتے ہَیں۔ اَور دغابازوں کی زُبان کاٹ ڈالی جائے گی۔ 32 ۔ صادِق کے ہونٹ پسندیدہ بات کو جانتے ہیں مگر شریروں کے مُنہ فریبوں سے واقِف ہیں ۔