1 ۔ دغا کے ترازو سے خُدا کو نُفرت ہَے۔ اَور پُورا تَول اُس کی خُوشی ہَے۔ 2 ۔ جہاں غُرور داخِل ہوتا ہَے وہاں رُسوائی داخِل ہوتی ہَے مگر حلیم کے ساتھ حِکمَت ہَے۔ 3 ۔راستبازوں کی راستی اُن کی ہدایت کرتی ہَے۔ اَور خطاکاروں کی منافقت اُنہیں ہلاک کرتی ہَے۔ 4 ۔قہر کے دِن میں دولت فائدہ نہ دے گی راستی مَوت سے چُھڑاتی ہَے۔ 5 ۔راست کار کی صداقت اُس کی راہ ہموار کرتی ہَے شریر اپنی شرارت ہی سے گِر پڑتا ہَے۔ 6 ۔ راست کاروں کی صداقت اُنہیں رِہائی دیتی ہَے اَور شریر اپنی ہی شرارت میں پھنس جاتے ہَیں ۔ 7 ۔مَرنے پر شریر کی توقع خاک میں مِل جاتی ہَے۔لیکن شریروں کی امیّد فنا ہوجاتی ہَے۔ 8 ۔ صادِق مُصیبتوں سے رہائی پاتا ہَے اَور شریر اُس کی جگہ میں آ جاتا ہَے۔ 9 ۔ بے دین اپنے مُنہ سے اپنے ہمسائے کو ہلاک کرتا ہَے۔ پر و ہ صادِقوں کے عِلم کے باعِث رِہائی پاتے ہَیں۔ 10 ۔صادِقوں کی ترقی سے شہر خُوش ہوتا ہَے اَور شریروں کی ہلاکت سے شادمانی ہوتی ہَے۔ 11 ۔ راست کاروں کی برکت سے شہر سرفراز ہوتا ہَے پر شریروں کی باتوں سے وہ برباد ہوتا ہَے۔ 12 ۔بے عقل آدمی اپنے ہمسائے کو حِقیر جانتا ہَے پر صاحبِ فہم خاموش رہتا ہَے۔ 13 ۔ جو کوئی چُغل خوری کرتا پھرتا ہَے راز فاش کرتا ہَے پر صاحب ِ وفاراز دار ہَے۔ 14 ۔صلاح کے نہ ہونے سے قوم گِر جاتی ہَے پر صلاح کاروں کی کثرت میں فتح ہَے۔ 15 ۔اجنبی کے ضامِن کا یقینا بُرا حال ہوتا ہَے پر ضمانت نہ دینے والا اطمینان سے ہَے۔ 16 ۔نیک سیرت عورت عِزّت پاتی ہَے۔ پر جو عورت صداقت سے نفرت رکھتی ہَے وہ رُسوائی کا باعِث ہَے ۔سُست لوگ دولت سے مُحروم رہتے ہَیں پر مُحنتی لوگ دولت حاصِل کرتے ہَیں۔ 17 ۔رحم دِل اِنسان اپنی جان کے ساتھ نیکی کرتا ہَے پر سخت دِل اپنے جِسم کے ساتھ بَدی کرتا ہَے۔ 18 ۔شریر کی کمائی خِیانت ہَے مگر صداقت کا بونے والا حقیقی اَجر پاتا ہَے۔ 19 ۔ صادق سچائی پر چلتا ہے اور زندہ رہتا ہَے۔ لیکن بدی کی راہ پر چلنے والا ہلاک ہوگا۔ 20 ۔جِن کے دِل ٹیڑھے ہیں وہ خُداوند کے نزدیک قابلِ نفرت ہیں پر جِن کی رَوش سِیدھی ہَے۔ وہ اُن سے خُوش ہَے۔ 21 ۔ سچ ہَے شریر بے سزا نہ رہے گا پر صادِقوں کی نسل رہائی پائے گی۔ 22 ۔ جو خُوبصورت عورت بے تمیز ہَے وہ سُورنی کی ناک میں سونے کی نَتھ ہَے۔ 23 ۔ صادِقوں کی خواہش فقط نیکی ہَے پر شریروں کی اُمید غضب ہَے۔ 24 ۔ کوئی تو فِیاضی سے دیتا ہَے۔ تو بھی ترقی کرتا جاتا ہَے۔ کوئی واجِبی خرچ سے دریغ کرتا ہَے تو بھی کنگال ہوجاتا ہَے ۔ 25 ۔ وہ جان جو برکت دیتی ہَے اُسے برکت دی جائے گی۔اَوروہ جو سیراب کرتا ہَے سیراب کِیا جائے گا۔ 26 ۔ وہ جو غلّہ کو بند رکھتا ہَے لوگ اُس پر لعنت کریں گے مگر جو اُسے بیچتا ہَے اُس کے سر پر برکت آئے گی۔ 27 ۔ جو نیکی تلاش کرتا ہَے وہ مقبُولیّت کا طالِب ہَے پر جو بَدی کے دَرپے ہَے اُس پر بَدی آئے گی۔ 28 ۔ جو دولت پربھروسہ رکھتا ہَے وہ مُرجھا جائے گا۔پر صادِق ہرے پتُوں کی طرح سر سبز رہیں گے۔ 29 ۔ جو اپنے گھر کو دُکھ دیتا ہَے وہ ہوا کا وارِث ہوگا اَور اَحمق دانا کا غُلام بن جائے گا۔ 30 ۔ صداقت کا پھَل زِندگی کا درخت ہَے پر شریروں کی جانیں بےوقت اُٹھائی جائیں گی۔ 31 ۔دیکھ جب زمین ہی پر صادِق کو بدلہ دِیا جاتا ہَے تو کتنا زیادہ شریر اَور خطا کار کو۔