1 ۔زناکار عورت سے خبرداری اَے میرے بیٹے ! میری باتوں کو مان اَورمیرے حُکموں کو اپنے پاس سنبھالے رکھّ ۔ 2 ۔ میرے حُکموں کو مان تو تُو جیتا رہَے گا اَور میری تعلیم کو اپنی آنکھ کی پُتلی جان ۔ 3 ۔ اُسے اپنی اُنگلیوں پر باندھ۔ اپنے دِل کی تختی پر اُسے لِکھ۔ 4 ۔ حِکمَت سے کہہ کر تُو میری بہن ہَے اَور فہم کو اپنی قرابتی سمجھ لے ۔ 5 ۔ تاکہ تُجھے اُس عورت سے بچائے جو تیری نہیں یعنی بیگانہ عورت سے جو اپنی باتوں سے تیری چاپلُوسی کرتی ہَے۔ 6 ۔ کیونکہ مَیں نے اپنے گھر کے دریچے میں سے جھروکے کے پیچھے سے نِگاہ کی ۔ 7 ۔ اَور میں نادانوں کے درمیان ایک نَوجوان دیکھا ۔اَور نَوجوانوں میں سے ایک بے عقل پر نگاہ کی ۔ 8 ۔ جو اُس عورت کے کونے کے نزدیک کی گلی میں گُزرا اَور اُس کے گھر کی راہ میں چلا ۔ 9 ۔ دِن چھُپے شام کے وقت اندھیری رات کی تاریکی میں ۔ 10 ۔ تو دیکھو وہاں اُسے ایک عورت مِلی جس کا لباس فاحشہ کا تھا اَور دِل کی چلاک ۔ 11 ۔ غوغائی اَور خَودسر ۔ اُس کے پاؤں اپنے گھر میں نہیں ٹھہرتے ۔ 12 ۔ وہ کبھی کُوچوں میں کبھی چوکوں میں اَور کبھی کِسی کو نے میں گھات لگاتی ہَے۔ 13 ۔ وہ اُسے پکڑتی ہَے اَور چُومتی ہَے اَور بے حَیا مُنہ سے اُس سے کہتی ہَے کہ ۔ 14 ۔ مُجھے شکُر گُزاری کا ذَبیحہ گُزراننا تھا۔ آج مَیں نے اپنی مَنتیں ادا کی ہَیں ۔ 15 ۔ اس لیے میں تیرے مُنہ کے دیکھنے کی خواہشمند ہو کر تیرے ملنے کو باہر نِکلی اَور مَیں نے تُجھے پالیا ۔ 16 ۔ مَیں نے اپنے پلنگ پر غالَیچے بِچھائے یعنی مِصؔر کے بُنے ہُوئے سوتی کپڑے ۔ 17 ۔مَیں نے اپنے بِستر کو مُرّ اور عُود اَور دارچینی سے خُوشبو دار بنایا ہَے۔ 18 ۔ آ صبُح تک ہم مُحبّت سے مَست ہوں اَور عشق بازی سے دِل بہلائیں ۔ 19 ۔ کیونکہ میرا شوہر گھر میں نہیں ۔وہ دُور کے سفر پر گیا ہَے۔ 20 ۔ وہ چاندی کی تھیلی اپنے ہاتھ میں لے گیا ہَے اَور پُورے چاند کے دِن کو گھر آئے گا۔ 21 ۔ پس اُس نے اپنے بہُت فریبوں سے اُسے پھانسا اَور اپنے لبوں کی چاپلُوسی سے اُسے کھینچ لیِا ۔ 22 ۔ تو فی الفور وہ اُس کے پیچھے چلا جس طرح کہ بیَل ذَبح ہونے کو یا مُجرم قیدی پھِانسی پانے کو جاتا ہے۔ 23 ۔ یہاں تک کے اُس کے جِگر سے تِیر پار گُزرتا ہَے ۔ اُس پرند کی طرح جو جال کی طرف جلد جاتا ہَے اَور نہیں جانتا کہ وہ اُس کی جان کےلئے لگایا گیا ہَے۔ 24 ۔ پس اَے بیٹو ! اَب میری سُن لو اَور میرے مُنہ کی باتوں کی طرف دھیان لگاؤ ۔ 25 ۔ اپنے دِل کو اُس کی راہوں پر مائل نہ ہونے دو اَور اُس کے رستوں سے دھوکا نہ کھاؤ ۔ 26 ۔ کیونکہ اس نے بہتیروں کو زخمی کرکے گرایا ہَے اَور اُس کے مقتول بے شمار ہَیں۔ 27 ۔ اُس کا گھر پاتال کی راہ ہے جو مَوت کی اندرونی کوٹھڑیوں میں پُہنچتا ہَے۔