باب

1 ۔چھٹا حکم اَے میرے بیٹے! میری حِکمَت پر دھیان لگا اَور میر ی فہم کی طرف اپنے کان مائل کر ۔ 2 ۔ تاکہ تُو میرے مُنہ کی مشورت کی حِفاظت کرےاَور تیرے لب عِلم کی نگہبانی کریں۔ 3 ۔ عورت کے بہکانے پر تُوجّہ نہ کر کیونکہ بیگانی عورت کے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہَے اَور اُس کا تالُو تیل سے زیادہ چکنا ہَے۔ 4 ۔مگر اُس کا انجام اَفستِین ( ناگدونا)کی طرح کڑواہَے اَور دودھاری تلوار کی مانند تیز ہَے۔ 5 ۔اُس کے پاؤں مَوت کی طرف نیچے اُترتے ہیں اَور اُس کے قدم پاتال تک پہُنچتے ہیں۔ 6 ۔وہ زندگی کے رستے پر نہیں چلتی بلکہ اُس کی راہیں آوارہ ہیں اَور وہ اس پر نہیں سوچتی۔ 7 ۔پس اے بیٹو! اب میری سُنو۔ اَور میرے مَنہ کی باتوں سے کنارہ نہ کرو۔ 8 ۔اپنا رستہ اُس سے دُور ہٹا اَور اُس کے گھر کے دروازے کے نزدیک نہ جا۔ 9 ۔ایسا نہ ہو ۔کہ توُ اپنی عِزّت دُوسروں کو اَور اپنے برس بے رحم کو دے۔ 10 ۔ایسا نہ ہو کہ اجنبی تیرے مال سے سیر ہوں ۔اَور بیگانہ کے گھر میں تیری کمائی صرف ہو۔ 11 ۔ کہ آخر کو جب تیر ا گوشت اَور تیرا جِسم گھُل جائے تو تُو نوحہ کرے گااَور کہے گا ۔ 12 ۔میں نے تربیت سے کیوں نفرت کی اَور ملامت کو کیوں حقیر جانا ۔ 13 ۔مَیں نے اپنے اُستادوں کی کیوں نہیں سنی اَورتربیت کرنے والےکی طرف کان کیوں نہیں جھکایا؟ 14 ۔ یہاں تک کہ مَیں محِفل اَور جِماعت کےدرمیان قریباََ ہر بُرائی میں مُبتلا ہُوا ۔ 15 ۔اپنے ہی حوض سے پانی پی اور اپنے ہی کُنویں سے بہتا پانی۔ 16 ۔ کیا تیرا چشمہ باہر بہہ جائے اَور پانی کی نہریں کُوچوں میں؟ 17 ۔تُو انہیں صرف اپنے ہی لئے رکھ ۔تیرے ساتھ بیگانے شریک نہ ہوں۔ 18 ۔ تیرا سوتا مُبارَک ہواَور تُو اپنی جوانی کی بیوی کے ساتھ خُوشی کر۔ 19 ۔وہ تیری پیاری غزال اَور دِل پسند ہرنی ہو۔اُس کی چھاتیاں تُجھے ہمیشہ آسودہ کریں۔اَور اُس کی محبّت پر تُو ہمیشہ فریفتہ (عاشق) رہ ۔ 20 ۔ اَے میرے بیٹے! تُو اجنبی عورت پر کیوں فریفتہ(عاشق) اَور بیگانی سے کیوں ہم آغوش ہوتا ہَے؟ 21 ۔ کیونکہ اِنسان کی راہیں خُداوند کی آنکھوں کے سامنے ہَیں اَور وہ اُس کے تمام رستوں کو دیکھتا ہَے۔ 22 ۔ شریر کو اُس کی بَدکاریاں پکڑلیتی ہَیں اَور وہ اپنے ہی گُناہوں کے رسّوں سےجکڑا جاتا ہے۔ 23 ۔ وہ تربیت کے نہ ماننے کے باعث مرجائے گا اَور اپنی حماقت کی کثرت میں ہلاک ہوجائے گا۔