باب

1 ۔اجور کا کلام اجور بن یاقہؔ مسّائی کا کلام۔ اُس آدمی نے اتی ایل ہاں اتی ایل اور اُکال سے کہا۔ 2 ۔یقیناََ میں ہر ایک اِنسان سے زیادہ حیوان ہوں اَور اِنسان کا سا فہم مُجھ میں نہیں۔ 3 ۔ اَور میں حِکمَت نہیں سیکھی۔اَور نہ مَیں مُقدّسوں کا عِلم جانتا ہُوں۔ 4 ۔کون آسمان پر چڑھا اَور نیچے اُترا ؟ کَس نے ہَوا کو اپنی مُٹھّی میں بند کیا؟ کِس نے پانی کو پیراہن میں باندھا؟ کِس نے زمین کی تمام حُدود قائم کِیں؟ َ اُس کا نام کیا ہَے اَور اُس کے بیٹے کا نام کیا ہَے ؟ اگر تُو جانتا ہَے تو بتا ۔ 5 ۔ خُدا کا ہر ایک سُخن پاک ہَے ۔جو اُس کی پناہ لیتے ہَیں اُن کے لئے وہ سِپر ہَے۔ 6 ۔ تُو اُس کے کلام میں اضافہ نہ کرتا کہ وہ تُجھے تنبیہہ نہ کرے اَور تُو جھُوٹا ٹھہرے ۔ 7 ۔مَیں نے تُجھ سے دو باتیں مانگی ہَیں۔میرے مَرنے سے پہلے اُن کے دینے سے مُجھے اِنکار نہ کر ۔ 8 ۔جھُوٹ اَور دَرُوغ گوئی مُجھ سے دُور کر ۔ مُجھے مُفِلسی نہ دے اَور نہ دولت بلکہ میری ضرورت کی روٹی مُجھے عطا کر ۔ 9 ۔ایسا نہ ہو کہ مَیں سیر ہوکر اِنکار کرُوں اَور کہُوں کہ خُداوند کون ہَے ؟ یا مُحتاج ہو کر چوری کُروں اَور اپنے خُدا کے نام کی تکفیر کروں۔ 10 ۔ نوکر پر اُس کے آقا کے سامنے تُہمت مت لگا ۔ایسا نہ ہوکہ وہ تُجھ پر لعنت کرے اَور تُو قصُور وار ٹھہرے ۔ 11 ۔ ایک پُشت ایسی ہَے جو اپنے باپ کو لعنت کرتی ہَے ۔اَور اپنی ماں کو مُبارَک نہیں کہتی۔ 12 ۔ ایک پُشت ایسی ہَے جو اپنی نگاہ میں پاک ہَے اَور وہ اپنی گندگی سے صاف نہیں کی گئی ۔ 13 ۔ایک پُشت ایسی ہَے جو بُلند نظر اَور اُونچی پلکوں کی ہَے۔ 14 ۔ایک پشت ایسی ہَے۔ جس کے دانت تلواریں اَور داڑھیں چھُریاں ہیں تاکہ مُحتاج کو زمین سے اَور مِسکین کو آدمیوں کے درمیان سے کھا جائے ۔ 15 ۔عددی اَمثال جونک کی دو بیٹیاں ہَیں یعنی د ے ۔دے ۔تین ہَیں جو سیر نہیں ہوتیں۔بلکہ چار کبھی نہیں کہتیں کہ بس ۔ 16 ۔ پاتال اَور بانجھ کا رحم اَور زمین جو پانی سے سیر نہیں ہوتی اَور آگ جو کبھی نہیں کہتی کہ بس۔ 17 ۔ جو آنکھ باپ سے ٹھٹھّا کرتی ہَے اَور ماں کی فرمانبرداری کو حقیر جانتی ہَے۔وادی کے کوّے اُسے نِکال لیں گے اَور گِدھ کے بچّے اُسے کھا ئیں گے۔ 18 ۔ تین ہَیں جن کے سمجھنے سے مَیں عاجِز ہُوں۔بلکہ چارکو مَیں بالکُل نہیں جانتا ۔ 19 ۔عُقاب کی راہ ہُوا میں۔سانپ کی راہ چٹان پر ۔جہاز کی راہ سمنُدر کے بیچ میں اَور مَرد کی راہ کُنواری کے ساتھ ۔ 20 ۔ پس زانیہ کی راہ یہ ہَے ۔وہ کھاتی ہَے اَور اپنا منُہ پونچھتی ہَے اَور کہتی ہَے کہ مَیں نے کوئی بَدی نہیں کی ۔ 21 ۔تین چیزوں سے زمین بے آرام ہوتی ہَے۔ بلکہ چار کی وہ برداشت نہیں کرسکتی۔ 22 ۔ غُلام سے جب وہ بادشاہی کرنے لگے ۔احمق سے جب وہ کھاکر سیر ہو۔ 23 ۔نفرت انگیز عورت سے جب اُسے شوہر مِل جائے اَور لونڈی سےجب وہ اپنی مالکہ کی وارث ہو جائے ۔ 24 ۔چار ہَیں جو زمین پر چھوٹی سے چھوٹی چیزوں میں سے ہَیں۔مگر دانِشمندوں سے زیادہ دانِشمند ہَیں۔ 25 ۔ چیونٹی جو بے طاقت گروہ ہَے لیکن گرمی میں وہ اپنے لئے خوراک جمع کرتی ہَے۔ 26 ۔ سافان جونا تَواں جھُنڈ ہَے لیکن وہ چٹانوں میں اپنے گھر بناتے ہَیں۔ 27 ۔ ٹِڈی جس کا کوئی بادشاہ نہیں مگر سب کی سب غول بہ غول نِکلتی ہَیں ۔ 28 ۔ اَور چھپکلی جو ہاتھ سے پکڑی جاتی ہَے۔ تو بھی وہ شاہی محلّوں میں رہتی ہَے۔ 29 ۔تین خُوش رفتار ہَیں بلکہ چار کا چلنا خُوشنُما ہَے ۔ 30 ۔شیر ببر جو حیوانوں میں سب سے زیادہ طاقتور ہَے اَور کسی سے خائف نہیں ہوتا ۔ 31 ۔ جنگی گھوڑا۔بکرا اَور بادشاہ جو اپنے لشکر کا پیش رَد ہو ۔ 32 ۔اگر تَو حماقت سے مُتکبّر یا گُستاخ ہُؤا۔تُو اپنا ہاتھ اپنے مُنہ پر رکھّ ۔ 33 ۔ کیونکہ دُودھ کے بِلونے سے مکھّن نِکلتا ہَے ۔اَور ناک کے مروڑنے سے لہُو ۔اَور غصّہ بھڑکانے سے فساد بَرپا ہوتا ہَے ۔