1 ۔ لمُوئیل کا کلام لموئیل شاہِ مسّاؔ کا کلام ۔جو اُس کی ماں نے اُسے سِکھایا ۔ 2 ۔ اَے میرے بیٹے کیا ۔اَے میرے رحمِ کے فرزند کیا۔ اَے میری مَنّتوں کے بیٹے کیا کہُوں ؟ 3 ۔ اپنی شہ زوری عورتوں کو نہ دے ۔اَور نہ اپنی رَوش بادشاہوں کے تباہ کرنے والوں کو ۔ 4 ۔ اَے لُموئیل۔ یہ بادشاہوں کے لئے مُناسب نہیں۔مَے خوری بادشاہوں کےلئے مُناسب نہیں اَور نہ نشہ بازی حُکمرانوں کے لیے۔ 5 ۔ ایسا نہ ہوکہ پی ۔پی کر شریعت کو بھُولیں اَور کسی مظلوم کا حَق بگاڑیں ۔ 6 ۔نشہ آور چیز اُنہیں دو جو مُشقت کھینچتے ہَیں اَور مَے اُنہیں جو تلخ جان ہیں ۔ 7 ۔تاکہ وہ پیئِیں اَور اپنی مُحتاج کو بھُول جائیں اَور اپنی تباہی کو پھر یاد نہ کریں۔ 8 ۔اپنا مُنہ گُونگے کے لیے کھول ۔اُن سب کے دعویٰ میں جو تباہ حالی کے فرزند ہَیں۔ 9 ۔ اپنا مُنہ کھول اَور عدل سے حُکم کر اَورغریب اَور مِسکین کا اِنصاف کر ۔ 10 ۔ نیکوکار بیوی کی تعریف نیکوکاربیوی کِسے ملے گی ! اُس کی قدر موتیوں سے بھی بہُت زیادہ ہَے۔ 11 ۔(ب) اُس کے خاوند کے دِل کو اُس پر اعتبار ہَے۔ اَور اُسے نفع کی کمی نہ ہوگی۔ 12 ۔ (ج)۔ وہ اپنی عُمر کے تمام ایّام میں۔ اُس سے نیکی کرے گی پر بَدی نہیں۔ 13 ۔ (د) وہ اُون اَور کُتان کی تلاش میں ہَے۔ اَور اپنے ہاتھ کی چُستی سے کام کرتی ہَے۔ 14 ۔(ہ) وہ تاجر کے جہازوں کی مانند ہَے۔ وہ اپنی خُوراک دُور سے لے آتی ہَے۔ 15 ۔(و) وہ رات رہتے ہوئے اُٹھتی ہَے۔ اَور اپنے گھر انے کو کھانا اَور لونڈیوں کو کام دیتی ہَے 16 ۔(ز) وہ سوچ سوچ کر کھیت کو خریدتی ہَے۔ اَور اپنی کمائی سے تاکِستان لگاتی ہَے۔ 17 ۔(ح)۔وہ اپنی کَمر کو قُوّت سے کَستی ہَے۔ اَور اپنے بازوؤں کو مضبوط کرتی ہَے۔ 18 ۔(ط)۔ وہ اپنی تجارت کو سُود مند پاتی ہَے۔ رات کو اُس کا چراغ نہیں بجُھتا۔ 19 ۔(ی) وہ اپنے ہاتھ تکلے پر چلاتی ہَے۔ اَور اُس کی ہتھیلی اٹیرن کو پکڑتی ہَے۔ 20 ۔( ک) وہ غریب کے لیے اپنی ہتھیلی کھولتی ہَے۔ اَور مِسکین کے لئے اپنا ہاتھ بڑھاتی ہَے۔ 21 ۔( ل)۔ وہ اپنے گھرانے کے لئے برف سے نہیں ڈرتی کیونکہ اُس کے تمام خاندان میں سُرخ پوش ہَیں۔ 22 ۔(م)۔وہ اپنے لئے مُنقّش غالیچے بناتی ہَے۔ اَور اس کا لباس عُمدہ کَتان اَور ارغوان کا ہَے 23 ۔( ن) ۔اُس کے خاوند کی پھاٹک میں عِزّت ہَے۔ جب وہ ملک کے بزُرگوں کے درمیان بیٹھتا ہَے ۔ 24 ۔(س)۔ وہ بارِیک کَتان بنا کر بیچتی ہَے ۔ اَور کَمر بند تاجروں کے آگے رکھتی ہَے۔ 25 ۔ (ع)۔ وہ قُوّت اَور عِزّت سے مُلبّس ہَے۔ اَور آنے والے دِن کی فِکر نہیں کرتی۔ 26 ۔(ف)۔ وہ اپنا مُنہ حِکمَت سے کھولتی ہَے۔ اور اس کی کی زبان پر شیریں ہدایت ہے۔ 27 ۔(ص)۔ وہ اپنے گھرانے کی راہوں پر غور کرتی ہَے۔ اَور کاہلی کی روٹی نہیں کھاتی۔ 28 ۔ (ق) اُس کے بیٹے اُٹھتے اَور اُسے مُبارک کہتے ہَیں۔ اَور اُس کا خاوند بھی اُس کی تعریف کرتا ہَے۔ 29 ۔(ر) " بہتیری عورتوں نے اپنے لئے فضیلت پیدا کی ۔ پر تُو اُن سب پر فوقیّت لے گئی " 30 ۔ (ش)۔ حُسن دغاباز ہَے اَور جمال ناپائیدار ۔ پر خُداوند سے ڈرنے والی عورت کی تعریف کی جائے گی۔ 31 ۔(ت) اُس کی محِنت کا اَجر اُسے دو۔ اَور اُس کے کام پھاٹک میں اُس کی تعریف کریں گے۔