1 ۔ بِرکات توکّل اَے میرے بیٹے ! میری تعلیم کو مت بھُول بلکہ تیرا دل میرے حُکموں کو مانے ۔ 2 ۔ کیونکہ وہ تیرے ایّام کی درازی اَور تیری زِندگی کے برسوں اَور سلامتی کو بڑھائیں گے۔ 3 ۔شفقت اَور سچائی تُجھ سے الگ نہ ہوں ۔ تَو اِن دونوں کو اپنی گردن کا ہار بنا ۔اَور انہیں اپنے دِل کی تختی پر لکھ لے۔ 4 ۔یُوں تو خُدا اَور آدمیوں کے نزدِیک مقُبولیّت اَور نیک نام حاصل کرے گا۔ 5 ۔خُداوند پر اپنے سارے دِل سے بھروسا رکھّ۔ اُور اپنی عقل پر اِعتبار نہ کر ۔ 6 ۔اپنی تمام راہوں میں اسے پہچان۔ تو وہ تیرے رستوں کو ہموار کردے گا۔ 7 اپنی نگاہ میں عقلمند مت بن۔ خُداوند سے ڈر اَور بَدی سےکَنارہ کر۔ 8 ۔کیونکہ وہ تیرے بدن کی صحت اَور تیری ہَڈیوں کی تازگی ہوگی۔ 9 ۔اپنے مال سے اَور اپنی ساری پیداوار کے پہلے پھَلوں سے خُداوند کی تعظیم کر ۔ 10 ۔یُوں تیرے انبار خانے اناج سے بھرے رہیں گے اَور تیرے کولھونئی مَے سے لبریز ہوں گے ۔ 11 ۔ فضیلتِ حِکمَت اَے میرے بیٹے ! خُداوند کی تربیت کو حِقیر نہ جان ۔اُور اُس کی تنبیہہ سے بیزار نہ ہو۔ 12 ۔ کیونکہ خُداوند اُسی کی تربیت کرتا ہَے جِسے و ہ پیار کرتا ہَے۔ جیسے باپ اُس بیٹے کو جس سے وہ خُوش ہَے ۔ 13 ۔مُبارَک ہَے وہ اِنسان جو حِکمَت پاتا ہَے اَوروہ آدمی جو دانش حاصِل کرتا ہَے۔ 14 ۔ کیونکہ اُس کا حصوُل چاندی کے حصُول سے بہتر اَور اُس کا نفع کُندن سے افضل ہَے۔ 15 ۔حِکمَت موتیوں سے زیادہ قیمتی ہَے۔ اَور تیری دولت اُس کے برابر نہیں۔ 16 ۔ایاّم کی درازی اُس کے دہنے ہاتھ میں ہَے ۔اَور اُس کے باہیں ہاتھ میں دولت اِور عزّت ہیں۔ 17 ۔اُس کی راہیں ہمدردی کی راہیں ہَیں۔ اَور اُس کے تمام رستے سلامتی کے ہَیں۔ 18 ۔جو اُسے پکڑلیتے ہیں اُن کے لیے وہ زِندگی کا درخت ہَے اَور مُبارَک ہَے وہ جو اُس سے لپٹا رہتا ہَے۔ 19 ۔خُداوند نے حِکمَت سے زمین کی بنُیاد رکھّی اور عُقلمندی سے آسمان کو قائم کیا ۔ 20 ۔اُس کے عِلم سے گہراؤ کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ اَور بادِل شبنم ٹپکاتے ہیں ۔ 21 ۔ اَمن حِکمَت اَے میرے بیٹے ! اِن باتوں کو اپنی آنکھوں سے دُور نہ ہونے دے۔ عقلمندی اَور تدبیر کو نِگاہ میں رکھّ ۔ 22 ۔ یُوں وہ تیری جان کی حیات اَور تیری گردن کی زینت ہوں گی۔ 23 ۔تب تُو اپنی راہ پر اطمینان سے چلے گا۔ اَورتیرا پاؤں ٹھوکر نہ کھائے گا۔ 24 ۔ جب تُو لیٹے گا تو خوف زدہ نہ ہوگا بلکہ تُو آرام کرے گا ۔اَور تیری نیند میٹھی ہوگی ۔ 25 ۔ناگہانی دہشت سے نہ ڈر اَور نہ شریروں کے طُوفان سےجب وہ تُجھ پر آپڑے ۔ 26 ۔ کیونکہ خُداوند تیری پشت پناہ ہوگا اَور تیرے پاؤں کو پھندے سے بچالے گا۔ 27 ۔ہمسایا نہ محبّت جو نیکی کے مُستحق ہیں اُن سے دریغ نہ کر۔جب تیرے اختیار میں ہو۔ 28 ۔جب تو فوراََ دے سکتا ہَے تو اپنے ہمسائےسے نہ کہہ کہ جا ۔پھِر آنا مَیں کَل دُوں گا ۔ 29 ۔اپنے دوست کے خلاف بَدی کا منصُوبہ نہ باندھ۔جس حال کا وہ تیرے ساتھ بے خوف رہتا ہَے۔ 30 ۔کِسی اِنسان سے بے سبب جھگڑا نہ کر ۔جب کہ اُس نے تیرے ساتھ بَدی نہیں کی ۔ 31 ۔ظالِم آدمی پر رَشک نہ کر ۔اَور اُس کی کِسی رَوش کو اختیار نہ کر ۔ 32 ۔ کیونکہ کَج رَو سے خُداوند کو نفرت ہَے پر راستکاروں کے ساتھ اُس کی رفاقت ہِے۔ 33 ۔ شریر کے گھر پر خُدا کی لعنت ہَے ۔مگر صادِقوں کے مَسکن پر اُس کی برکت ہَے۔ 34 ۔ٹھٹھا کرنے والوں پر و ہ ٹھٹھا کرتا ہَے۔ پر حلیِموں کو وہ فضل بخشتا ہَے۔ 35 ۔دانِشمند عِزّت کے وارث ہوں گے اَور جاہِل ذِلّت اُٹھائیں گے۔