باب

1 ۔شریر بھاگتا ہَے اگر چہ کوئی اُس کا پیچھا نہیں کرتا پر ہر صادِق شیر کی طرح بےخوف رہتا ہَے ۔ 2 ۔ مُلک کی خطاکاری کے باعِث حاکم بہُت سے ہیں اَور عقلمند عِلم دار اِنسان سے اِنتظام بحال رہے گا۔ 3 ۔ جو غنی مُحتاجوں پر ظُلم کرتا ہَے وہ اُس شدید بارش کی طرح ہَے جو روٹی نہیں دیتی۔ 4 ۔ جو لوگ شریعت کو ترک کرتے ہَیں وہ شریر کی تعریف کرتے ہَیں لیکن جو شریعت کو مانتے ہیں و ہ اُس سے ناخُوش ہوتے ہَیں۔ 5 ۔ شریر آدمی اِنصاف کو نہیں سمجھتے مگر خُداوند کے طالب سب کُچھ سمجھتے ہَیں۔ 6 ۔ جو مُفلس بےگُناہی سے چلتا ہَے وہ کَج روَ دولتمند کی نِسبت افضل ہَے ۔ 7 ۔ جو بیٹا شریعت کو مانتا ہَے وہ دانِشمند ہَے پر جو اوبا شوں سے صحبت رکھتا ہَے وہ اپنے باپ کی رُسوائی کا باعث ہَے ۔ 8 ۔جو اپنی دولت کو سُود خوری اَور نفع سے بڑھاتا ہَے وہ اُس کے لئے جمع کرتا ہَے جو مُحتاجوں پر رحم کرے گا۔ 9 ۔جو اپنے کان شریعت کے سُننے سے پھیرے ۔اُس کی دُعا بھی نفرت انگیز ہَے۔ 10 ۔ جو کوئی صادِق کو بَدی کی راہ میں بھٹکاتا ہَے وہ اپنے ہی گڑھے میں گرے گا۔راست رَو اچھّی چیزوں کے وارِث ہوں گے۔ 11 ۔ دالتمند آدمی اپنی نِگاہ میں دانِشور ہے پر عقلمند مِسکین اُسے معلُوم کرلیتا ہَے ۔ 12 ۔جب صادِق لوگ فتح یاب ہوں تو بڑا فخر ہَے۔جب شریر حُکومت کو اِختیار کرتے ہَیں تو لوگ خود کو چھُپا لیتے ہَیں۔ 13 ۔جو اپنے گُناہوں کو چھُپاتا ہَے وہ کامیاب نہ ہوگا مگر جو اُن کا اقرار کرکے اُنہیں چھوڑ دیتا ہَےاُس پر رحم کِیا جائےگا ۔ 14 ۔مُبارَک ہَے وہ اِنسان جو ہر وقت ڈرتا ہَے مگر جو اپنے دِل کو سخت کرتا ہَے۔ وہ مُصیبت میں پڑے گا۔ 15 ۔شریر آدمی جو مِسکین لوگوں کا حاکمِ ہو ۔وہ گرجتا ہؤا شیر اَور بھُوکا ریچھ ہَے۔ 16 ۔بے عقل سردار کثرت سے ظُلم کرتاہَے۔ پر جولالچ سے نفرت کرتا ہَے۔ وہ اپنے دِن بڑھائےگا۔ 17 ۔ جو آدمی خُون بہانے کا مُرتکب ہوتا ہَے ۔وہ قبر کی طرف بھاگتا ہَے اَور کوئی نہیں جو اُسے روکے ۔ 18 ۔راست رَو بچ جائےگا پر کَج رَو گڑھے میں گِر پڑے گا۔ 19 ۔ جو اپنی زمین کو کاشت کرتا ہَے وہ روٹی سے سیر ہوگا ۔مگر جو کاہِل آدمیوں کی پیروی کرتا ہَے وہ مفلسی سے بھرا رہے گا۔ 20 ۔ قابِل اِعتبار شخص برکتوں سے معُمور ہوتا ہَے پر جو دولتمند ہونے کے لئے جلد بازی کرتا ہَے وہ بے سزا نہ رہے گا۔ 21 ۔طرفداری کرنا ہرگز اچھّا نہیں ایسا آدمی روٹی کے ٹکُڑے کے لئے گُناہ کرے گا۔ 22 ۔ کنُجوس آدمی دولت کا لالچ کرتا ہَے پروہ نہیں جانتا کہ غریبی اُس پر آجائے گی۔ 23 ۔ جو کِسی اِنسان کی تربیت کرتا ہَے۔ وہ آخر کار زیادہ وقعت حاصِل کرے گا۔بہ نِسبت اُس کے جو اپنی زُبان سے خُوشامد کرتا ہَے۔ 24 ۔جو اپنے باپ اَور اپنی ماں کولُوٹ لیتا ہَے۔ اَور کہتا ہَے۔ کہ اِس میں کُچھ گُناہ نہیں ۔وہ ہلاک کرنے والے اِنسان کا شریک ہے۔ 25 ۔لالچی جھگڑا بَرپا کرتا ہَے۔ پر جوخُداوند پر توکُّل رکھتا ہَے۔ وہ اقبالمند کِیا جائے گا۔ 26 ۔جو اپنے آپ پر بھروسہ رکھتا ہَے وہ احمق ہَے پر جو دانِش سے چلتا ہَے۔ وہ رِہائی پائے گا۔ 27 ۔ جو مِسکین کو دیتا ہَے وہ مُحتاج نہ ہوگا پر جو اُس سے اپنی آنکھیں چھُپاتا ہَے۔اُس پر بہُت لعنتیں ہوں گی۔ 28 ۔ جب شریر آدمی کھڑے ہوتے ہَیں تو لوگ چھُپ جاتے ہَیں۔اَور جب وہ ہلاک ہوں تو صادِق لوگ زیادہ ہو جاتے ہَیں۔