1 ۔ کل کے دِن کی بابت شیخی نہ مار کیونکہ تُو نہیں جانتا کہ اُس دِن میں کیا واقع ہوگا۔ 2 ۔ بیگانہ تیری تعریف کرے نہ کہ تیرا ہی مُنہ ۔اجنبی کرے نہ کہ تیرے ہی ہونٹ۔ 3 ۔پتھّر بھاری ہَے اَورریت وزنی مگر احمق کا غُصّہ اِن دونوں سے بڑھ کر ہَے۔ 4 ۔ غُصْہ بے رحم ہَے اَور غضب ایک سیلاب ہَے مگر حسد کے سامنے کون کھڑا رہ سکتا ہَے؟ 5 ۔ کھلی ملامت پوشیدہ مُحبّت سے بہتر ہَے۔ 6 ۔ جو زخم دوست کے ہاتھ سے لگے ہَیں وہ پُر وفا ہیں ۔اَور دُشمن کے بو سے دھوکے کے ہَیں۔ 7 ۔آسُودہ شخص شہد کو پامال کرتا ہَےپر بھُوکے کے لئے ہر تلخی شیریں ہَے ۔ِ 8 ۔ جیسی وہ چڑیا جو اپنے گھونسلے سے بھٹک جائے ایسا ہی وہ اِنسان ہَے جو اپنے مکان سے آوارہ ہو ۔ 9 ۔تیل اَور خُوشبو دِل کو فرحت دیتے ہَیں اَور دوست کی مشورت سے جان کو آرام مِلتا ہَے۔ 10 ۔ اپنے دوست اَور اپنے باپ کے دوست کو ترک نہ کر پر اپنی مُصیبت کے دن اپنے بھائی کے گھر نہ جا۔ نزدِیک کا دوست دُور کے بھائی سے بہتر ہَے۔ 11 ۔اَے میرے بیٹے ! دانِشمند ہو اَور میرے دِل کو خُوش کر تاکہ مَیں اُسے جواب دے سکوُں جو مُجھے ملامت کرتا ہَے۔ 12 ۔صاحبِ عقل بَدی کو دیکھ کر چھُپ جاتا ہَے۔ پر نادان آگے چل کر سزا پاتے ہَیں ۔ 13 ۔جو بیگانے کا ضامن ہو اُس کے کپڑے چھِین لے اَور جو اجنبی کا ضامن ہو اُس سے کُچھ گِرو رکھّ لے۔ 14 ۔جو صُبح سویرے اُٹھ کر بُلند آواز سے ہمسائے کے لئے دُعائے خیر کرتاہَے تو یہ اُس کے لئے لعنت شُمار ہوگا ۔ 15 ۔جھڑی کے دِن میں مُتواتر ٹپکا اَور جھگڑالُو عورت دونوں برابر ہَیں۔ 16 ۔جو اس کو روکتا ہَے ہواکو روکتاہَے اور اس کا دہنا ہاتھ تیل کو پکڑتا ہَے ۔ 17 ۔ لوہا لوہے کو تیز کرتا ہَے اَور اِنسان اپنے ہمسائے کا چہرہ تیز کرتا ہَے۔ 18 ۔ جو کوئی انجیر کے درخت کی نِگہبانی کرتا ہَے وہ اُس کے پھَل میں سے کھائے گا اَور جو اپنے آقا کی خدمت کرتا ہَے وہ عِزّت پائے گا۔ 19 ۔ جس طرح کہ پانی میں چہرہ چہرے کے مُشابہ ہَے ویسے ہی اِنسان کا دِل اِنسان کی مانند ہَے۔ 20 ۔جس طرح پاتال اور ہلاکت کبھی نہیں بھرتے اُسی طرح آدمی کی آنکھیں سیر نہیں ہوتیں۔ 21 ۔ جیسے چاندی کے لئے کُٹھائی اَور سونے کے لئے بھَٹی ہَے۔ ویسے ہی اِنسان کے لئے اُس کی تعریف ہَے۔ 22 ۔اگرچہ تُو احمق کو اُکھلی میں ڈالے ہُوئے غلّے کے ساتھ مُوسل سے کُوٹے۔تو بھی اُس کی حماقت اُس سے دُور نہ ہوگی۔ 23 ۔اپنے غلّوں کا حال دریافت کرنے میں دِل لگا اَور اپنے ریوڑ کی طرف اپنا دِل لگا۔ 24 ۔ کیونکہ دولت ہمیشہ نہیں رہتی ۔اَور نہ مال پُشت در پُشت قائم رہتا ہَے۔ 25 ۔سُوکھی گھاس جمع کرلی جاتی ہَے تو ہری گھاس نِکل آتی ہَے اَور پہاڑوں کاچار افراہم کیا جاتا ہَے ۔ 26 ۔ مینڈھے تیری پوشاک کے لئے اَور بکرے کھیت کی قیمت کے لئے ہَیں۔ 27 ۔ اَور بکریوں کا دُودھ تیری اَور تیرے گھر کی خُوراک کےلئے اَور تیری لونڈیوں کی گُزران کے لئے کافی ہَے۔