1 ۔ بادشاہ کا دِل خُداوند کے ہاتھ میں پانی کے نالوں کی طرح ہَے ۔جدھر وہ چاہتا ہَے اُدھر اُسے پھیرتا ہَے۔ 2 ۔ اِنسان کی سب راہیں اُس کی اپنی نگاہ میں راست ہَیں پر خُداوند دِلوں کا تولنے والا ہَے ۔ 3 ۔ راستی اَور اِنصاف کرنا خُداوند کے نزدیک قُربانیوں سے افضل ہَے۔ 4 ۔ آنکھوں کی بَلند نظری اَور دِل کی مغروری یعنی شریروں کا چراغ گُناہ ہَے ۔ 5 ۔ محنِتی کے منصُوبے فراوانی پیدا کرتے ہیں مگر ہر ایک جلد باز اِحتیاج کو پہُنچتا ہَے۔ 6 ۔ جو جُھوٹی زُبان سے خزانے حاصِل کرنا چاہتا ہَے وہ بخُارات اَور مَوت کے پھندوں کا پیچھا کرتا ہَے ۔ 7 ۔ شریروں کا ظُلم اُنہیں تباہ کرے گا کیونکہ وہ انصاف کرنے سے اِنکار کرتے ہَیں ۔ 8 ۔ شریر مَرد کی راہ ٹیڑھی ہَے۔ پر راستباز شخص کا عمل دُرست ہَے ۔ 9 ۔ چھت کے کونے پر رہنا جھگڑا لُو عورت کے ساتھ اکٹھے گھر میں رہنے سےبہتر ہَے۔ 10 ۔ شریر کا دِل بَدی کرنے کی طرف راغِب ہَے ۔اُس کی آنکھوں میں اُس کا ہمسایہ بھی قبُولیّت نہیں پاتا ۔ 11 ۔جب ٹھٹھے باز کو سزا دی جاتی ہےَ تو سادہ دِل حِکمَت حاصِل کرتا ہَے اَور جب دانا تربیت پاتا ہے تو عِلم حاصِل کرتا ہَے ۔ 12 ۔صادِق شریر کے گھر پر غور کرتا ہَے۔ وہ شریروں کو ہلاک ہوتے دیکھتا ہَے۔ 13 ۔ جو کوئی مسکین کے نالے سے کان بند کرتا ہَے وہ خُود نالہ کرے گا۔اَور اُس کی سُنی نہ جائے گی۔ 14 ۔ پوشیدگی میں ہدیہ دینا غضب کو ٹھنڈا کرنا ہَے ۔اَور بغل میں رِشؤت دینا سخت غُصّے کو تھما دینا ہَے۔ 15 ۔ اِنصاف کرنا صادِق کے لیے خُوشی اَور بَدکرداروں کے لئے خوف ہَے۔ 16 ۔ جو اِنسان حِکمَت کی راہ سے بھٹکتا ہَے وہ مُردوں کے مجمع میں بسے گا۔ 17 ۔ لَذّت کو پیار کرنے والا کنگال ہوجائے گا اَور مَے اَور گھی کو پیار کرنے والا دولتمند نہ ہوگا۔ِ 18 ۔شریر صادِق کا فدیہ ہو گا اور دغاباز راستکار کے بدلے میں دِیا جائے گا۔ 19 ۔ بِیابان میں رہنا جھگڑا لو اَور غصّہ ور عورت کے ساتھ رہنے سے بہتر ہَے۔ 20 ۔دانِشمند کے گھر میں مرغَوب خزانہ اَور تیل ہے مگر احمق آدمی اُسے نگل جاتا ہَے۔ 21 ۔ جو کوئی راستی اُور شفقت کی پیروی کرتا ہَے وہ زِندگی اَور عَزّت پائے گا۔ 22 ۔ دانِش مند آدمی طاقتوروں کے شہر پر چڑھتا ہَے اَور جس قوت پر اُن کا بھروسا ہَے اُسے گِرا دیتا ہَے ۔ 23 ۔ جو اپنے مُنہ اَور اپنی زُبان کی نِگہبانی کرتا ہَے۔ وہ اپنے آپ کو دُکھوں سے بچاتا ہَے ۔ 24 ۔ مغرور اَور گھمنڈی آدمی کا نام ٹھٹھّے باز ہَے کیونکہ وہ بہُت مغروری سے کام کرتا ہَے ۔ 25 ۔ سُست آدمی کی خواہش اُسے مار دیتی ہَے کیونکہ اُس کے ہاتھ کام کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ 26 ۔ وہ دن بھر حِرص میں رہتا اَور لالچ کرتا ہَے مگر صادِق آدمی دیتا ہَے اَور کنُجوسی نہیں کرتا ۔ 27 ۔ شریروں کی قربانی مکروہ ہَے تو کتنی زیادہ تب ہو گی جب و ہ انُہیں بَد نیتی سے گزرانے گا۔ 28 ۔جھُوٹا گواہ ہلاک ہوگا ۔لیکن جو سُنتا ہَے ۔وہ خاموش نہ رہے گا۔ 29 ۔ شریر اِنسان بے شرمی سےاپنے مَنہ کو سخت کرتا ہَے ۔مگر راستکار اپنی راہ کو دُرست کرتا ہَے ۔ 30 ۔ نہ حِکمَت نہ نصیحت اَور نہ کوئی مشورت خُداوند کے مُقابل ٹھہرسکتی ہَے ۔ 31 ۔ جنگ کے دِن کےلیے گھوڑا تو تیار کیا جاتا ہَے لیکن فتح یابی خُداوند ہی کی طرف سے ہَے۔