1 ۔ مسخرہ اور شراب ہنگامہ کرنے والی ہے جو ان سے فریب کھاتا ہَے وہ دانِش مند نہیں۔ 2 ۔ بادشاہ کی ہیبت شیر کی گرج کی مانند ہَے جو اُسے غُصّہ دِلاتا ہَے وہ اپنی جان سے بَدی کرتا ہَے ۔ 3 ۔اِنسان کی عَزّت اُس میں ہَے کہ وہ جھگڑے سے دوُر رہے مگر ہر احمق جھگڑتا ہَے۔ 4 ۔ کاہل مَرد خزاں میں ہَل چلانا نہیں چاہتا۔ تب فصل کے وقت ڈُھونڈے گا پر کُچھ نہ پائے گا۔ 5 ۔ مشورت اِنسان کے دِل میں گہرا پانی ہَے مگر صاحبِ فہم اُسے نِکال لیتا ہَے۔ 6 ۔ آدمیوں میں سے بہُتیرے اپنی شفقت مشہُور کرتے ہَیں مگر وفادار اِنسان کو کون پائے گا۔ 7 ۔ صادِق آدمی جو اپنی بے گُناہی میں چلتا َہَے ۔اُس کے بعد اُس کے بیٹے مُبارَک ہوں گے ۔ 8 ۔بادشاہ جو عدالت کے تخت پر بیٹھتا ہَےوہ خود دیکھ کرتمام بَدی کو پھٹکتا ہَے ۔ 9 ۔ کون کہہ سکتا ہَے کہ مَیں نےاپنے دِل کو صاف رکھّا مُیں گُناہ سے پاک ہُوں ؟ 10 ۔ دو طرح کےپیمانے اَور دو طرح کے باٹ خُداوند کے نزدِیک نفرت انگیز ہیں ۔ 11 ۔ بچّہ بھی اپنے اَعمال سے جانا جاتا ہَے کہ آیا اُس کا کام پاک اَور راست ہوگا یا نہیں۔ 12 ۔ کان سُنتا ہَے اور آنکھ دیکھتی ہَے ۔خُداوند نے دونوں کو بنایا ۔ 13 ۔ نِیند کو پیار نہ کر تاکہ تُو کنگال نہ ہو جائے ۔اپنی آنکھیں کھول تو تُو روٹی سے سیر ہوگا۔ 14 ۔ خریدار کہتاہَے کہ یہ ردّی ہَے ردّی ۔پر اپنی راہ پر جاتے وقت اُس پر فخر کرتا ہَے۔ 15 ۔ سونا اَور قیمتی پتھّر کثرت سے ہَیں۔ مگر عِلم کے ہونٹ بیش قیمت جوہر ہَیں ۔ 16 ۔ جو بیگانے کا ضامِن ہو اُس کے کپڑے چھین لے اَور جو اجنبی کا ضامِن ہو اُس سے کُچھ گِرو رکھّ لے۔ 17 ۔فریب کی روٹی آدمی کو مزید ار لگتی ہَے ۔مگربعدازاں اُس کا مُنہ کنکروں سے بھر جائے گا ۔ 18 ۔مشورت سے منصوبے قائم رہتے ہَیں۔ پس نیک صلاح لے کر جنگ کر۔ 19 ۔ چغلی کرنے والا بھید ظاہر کرتا ہَے ۔اس لئے تُو بکواسی سے صُحبت نہ رکھ۔ 20 ۔ جو کوئی اپنے باپ یا اپنی ماں پر لعنت کرتا ہَے اُس کا چراغ اندھیرے کے درمیان بجھایا جائے گا۔ 21 ۔ جو مِیرَاث جلدی سے پائی جاتی ہَے۔اُس کا اَنجام مُبارَک نہ ہوگا۔ 22 ۔ تُو مت کہہ کہ مَیں بَدی کا بدلہ لُوں گا بلکہ خُداوند کا اِنتظار کر تو وہ تُجھے رِہائی دے گا۔ 23 ۔ دو طرح کے باٹ خُداوند کے نزدِیک نفرت انگیز ہَیں اَور جھُوٹا ترازُو اچھّا نہیں ۔ 24 ۔ آدمی کے قدموں کی ہدایت خُداوند کی طرف سے ہَے۔ پس اِنسان اپنی راہ کو کِس طرح سمجھ سکتا ہَے ؟ 25 ۔ جلد بازی سے کِسی چیز کو مُخصوص ٹھہرانا اَور مَنّت ماننے کے بعد غور کرنا آدمی کے لئےپھندا ہَے۔ 26 ۔ دانِش مند بادشاہ شریروں کو پھٹکتا ہَے اَور اُن پر گاہنے کے پَہّیے پھر واتا ہے ۔ 27 ۔آدمی کا ضمیر خُداوند کا چراغ ہَے جو باطِن کی سب پوشیدہ چیزوں کا حال معلُوم کرتا ہَے ۔ 28 ۔شفقت اَور سچائی بادشاہ کی حِفاظت کرتی ہَیں اَور شفقت ہی سے اُس کا تخت قائم رہتا ہَے ۔ 29 ۔ نَوجوانوں کا فخر اُن کی قُوّت ہَے ۔بزُرگوں کی زِینت اُن کے سفید بال ہَیں ۔ 30 ۔ کوڑوں کے زخم بَدی سے پاک کرتے ہَیں ۔اَور کوڑے باطِن کو صاف کرتے ہَیں