1 ۔ جو دوست سے علٰیحدہ ہونا چاہتا ہَے وہ موقع ڈُھونڈتا ہَے ۔وہ ہر معقُول بات سے بَرہم ہوتا ہَے ۔ 2 ۔ احمق کو دانِش میں کُچھ خُوشی نہیں مگر اس میں کہ اپنے دِل کا حال ظاہر کرے۔ 3 ۔ شریر کے ساتھ رسوائی آتی ہَے ۔ذِلّت کے ساتھ ہی ملامت آتی ہَے ۔ 4 ۔ بعض آدمیوں کے مُنہ کی باتیں گہرے پانی کی مانند ہَیں ۔حِکمَت کاچشمہ چلتی ہوئی نہر ہَے ۔ 5 ۔ شریر کی طرفداری کرنا اچھّا نہیں ۔اَور نہ یہ کہ عدالت میں صادِق کا حَق بدل دِیا جائے ۔ 6 ۔ جاہِل کے ہونٹ جھگڑے میں پھنس جاتے ہَیں اَور اُس کا مُنہ تھپڑّ مانگتا ہَے ۔ 7 ۔احمق کا مُنہ اُس کی ہلاکت ہَے اَور اُس کے ہونٹ اُس کی جان کے لئے پھندا ہَیں ۔ 8 ۔ چُغل خور کی باتیں میٹھے نوالوں کی طرح ہَیں اَور وہ پیٹ کے اندر تک اُتر جاتی ہَیں۔ 9 ۔ جو اپنے کام میں ڈِھیلا ہَے وہ فضُول خرچ کا بھائی ہَے ۔ 10 ۔خُداوند کا نام ایک مضبوط بُرج ہَے ۔صادِق اُس میں دوڑ جاتا ہَے اَور محفُوظ رہتا ہَے ۔ 11 ۔ دولتمند کا مال اُس کا مستحکم شہر ہَے اَور اُس کے اپنے خیال میں وہ اُونچی دِیوار کی مانند ہَے ۔ 12 ۔ ہلاکت سے پیشتر آدمی کا دِل اُونچا ہوتا ۔ہَے ۔پر عِزّت سے پہلے فروتنی ہَے۔ 13 ۔ جو سُن لینے سے پیشتر جَواب دیتا ہَے وہ اپنی حماقت اَور ذِلت ظاہر کرتا ہَے ۔ 14 ۔ دِلا ور رُوح کمزوری میں اِنسان کو تھامتی ہَے مگر شِکسَتہ رُوح کی کون برداشت کرسکتا ہَے؟ 15 ۔صاحبِ فہم کا دِل عِلم حاصِل کرتا ہَے اَور دانِشمند کا کان عِلم کا طالِب ہَے۔ 16 ۔ آدمی کا ہدیہ اُس کے لیے جگہ بناتا ہَے اَور اُسے بڑے آدمیوں کے حضُور میں پہنچاتا ہَے۔ 17 ۔ جو پہلے اپنا دعویٰ بیان کرتا ہَے راست معلُوم ہوتا ہَے پر دُوسرا آکر اُس کی حقیقت ظاہر کرتا ہَے ۔ 18 ۔قُرعہ جھگڑوں کو موقُوف کرتا ہَے اَور طاقتوروں کے درمیان فیصلہ کرتا ہَے ۔ 19 ۔ رنجیدہ بھائی کو راضی کرنا محکم شہر لے لینے سے زیادہ مُشکل ہے ۔اَور جھگڑے قِلعے کی سلاخوں کی مانند ہَیں۔ 20 ۔ آدمی کے مُنہ کے پھَل سے اُس کا پیٹ بھرے گا۔ اپنے ہونٹوں کی پیداوار سے وہ سیر ہوگا۔ 21 ۔ مَوت اور زِندگی زُبان کے قابو میں ہَیں اَور جو کوئی اُسے عزیز جانتا ہَے وہ اُس کا پھَل کھائے گا۔ 22 ۔ جو نیک بیوی پاتا ہَے وہ اچھّی چیز پاتا ہَے اَور خُداوند کی خُوشنُودی حاصِل کرتا ہے۔ 23 ۔ مِسکین عاجِزی سے بات کرتا ہَے اَور دولتمند سختی سے جَواب دیتا ہَے۔ 24 ۔ بُہت دوست رکھنا بربادی کا باعث ہَے ۔پر ایسا دوست بھی ہَے۔ جو بھائی سے بھی قریب تر تعلّق رکھتا ہَے۔