1 ۔ اِطمینان کے ساتھ ایک خُشک نوالہ اُس گھر سےبہتر ہَے جو ذَبیحوں اَور جھگڑے سے بھرا ہو ۔ 2 ۔ دانِشمند نوکر اُس بیٹے پر حُکم چلائے گا ۔جو رُسوائی کا باعِث ہَے اَور میِرَاث میں بھائیوں کے درمیان حِصّہ پائے گا۔ 3 ۔ چاندی کے لیے کُٹھالی اَور سونے کے لئے بھَٹی ہَے ۔ مگر دِلوں کا آزمانے والا خُداوند ہَے ۔ 4 ۔ شریر آدمی بَدی کے ہونٹوں کی بات سُنتا ہَے ۔اَور دَرَوغ گوفسادی زُبان پر کان لگاتا ہَے ۔ 5 ۔مِسکین کو ٹھٹھا کرنے والا اس کے خالِق کو ملامت کرتا ہَے اَور دوسرے کی مُصیبت پر خُوشی کرنے والا بے سزا نہ رہے گا۔ 6 ۔ بیٹوں کے بیٹے بوڑھے آدمیوں کا تاج ہَیں اَور بیٹوں کا فخر اُن کے باپ دادا ہَیں ۔ 7 ۔ خُوش گفتگو احمق کو نہیں سجتی اَور امیر کے جھُوٹے ہونٹ اُس سے بھی بَدتر ہَیں۔ 8 ۔ رشوَت اُس کے دینے والے کے ہاتھ میں جادُو کا پتھّر ہَے ۔وہ اُس کے لیے ہر موقع پر باعث کامیابی ہَے ۔ 9 ۔ جو میل مِلاپ کا خواہاں ہَے وہ قصَور کو چھپاتا ہَے۔ جو اُس کا ذِکر کرتا ہَے وہ دوستوں میں جُدائی ڈالتا ہَے ۔ 10 ۔دانِشمند آدمی کا سر زَنش پانا۔ جاہِل کو سَوکوڑے مارنے سے زیادہ مؤثر ہَے ۔ 11 ۔ شریر آدمی سر کشی کا جویاں ہَے پس بے رحم قاصد اُس کے خلاف بھیجا جائے گا۔ 12 ۔ احمق کا اُس کی حماقت میں مُقابلہ کرنے کی نِسبت اُس ریچھنی کا سامنا کرنا بہتر ہَے جس کے بچّے پکڑے گئے ہوں ۔ 13 ۔جو نیکی کے بدلے میں بَدی کرتا ہَے۔اُس کے گھر سے بَدی ہرگز جُدا نہ ہوگی۔ 14 ۔ جھگڑے کا شرُوع پانی کے چھوڑنے کی مانند ہَے اس لئے جھگڑا بَرپا کرنے سے پیشتر باز آ ۔ 15 ۔ شریر کو صادِق ٹھہرانے والا اَور صادِق کو شریر بنانے والا خُداوند کے نزدیک دونوں مکُروہ ہیں ۔ 16 ۔ احمق کے ہاتھ میں دانائی خریدنے کی قیمت سے کیا فائدہ ہَے جب کہ وہ قُوّت ِ اِمتیاز سے محّروم ہَے ۔ 17 ۔ دوست ہمیشہ اپنی دوستی کا اظہار کرتا ہَے اَور بھائی مُصیبت کے وقت کےلئے پیدا ہوتا ہَے۔ 18 ۔ بے عقل اِنسان ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہَے ۔اَور اپنے ہمسائے کے رُو برُو ضامِن بنتا ہَے۔ 19 ۔جھگڑے کا مشُتاق گُناہ کا مُشتاق ہَے۔ جو اپنا دروازہ اُونچا کرتا ہَے وہ تباہی کا خواہاں ہَے ۔ 20 ۔ کَج دِلا اِنسان نیکی نہ پائے گا ۔بَد زُبان بَلا میں مُبتلا ہوگا ۔ 21 ۔ جاہِل کا باپ ہونا دُکھ کا باعِث ہَے احمق کے باپ کے لئے خُوشی نہیں ۔ 22 ۔ شادمان دِل صحِت بخش ہَے اَور شِکسَتہ رُوح ہَڈیوں کو خُشک کرتی ہَے ۔ 23 ۔ شریر آدمی بَغل میں سے رشوَت رکھّ لیتا ہَے ۔تاکہ اِنصاف کی راہوں کو بگاڑے ۔ 24 ۔ حِکمَت صاحبِ فہم کے پیش نظر ہَے پر بے وقُوف کی آنکھیں زمین کے کِناروں پر لگی ہَیں۔ 25 ۔ جاہِل بیٹا اپنے باپ کے لئے دُکھ ہَے اَور اپنی والدہ کے لیے تلخی ہَے۔ 26 ۔ بے گُناہ پر جرمانہ لگانا دَرست نہیں اَور نہ امیروں کو ناحَق مارنا ۔ 27 ۔ صاحبِ عِلم کم باتیں کرتا ہَے۔ اَور صاحبِ فہم ملائم ہَے ۔ 28 ۔ احمق جب چُپ رہے تو دانا گِنا جاتا ہَے اَور جو اپنے ہونٹوں کو بند رکھے وہ صاحبِ فہم شُمار ہوتا ہے۔