1 ۔ نرم جَواب غُصّے کو دُور کرتا ہَے پر کرخت بات غضب انگیز ہوتی ہَے۔ 2 ۔ دانِشمندوں کی زُبان سے حِکمَت ٹپکتی ہَے پر جاہلوں کا مُنہ حماقت اُگلتا ہَے۔ 3 ۔ خُداوند کی آنکھیں ہر جگہ ہَیں ۔اَور نیکوں اَور بَدوں کی نِگران ہَیں ۔ 4 ۔زُبان کی نرمی زِندگی کا درخت ہَےمگر زُبان کا بگڑنا رُوح کی شِکستگی ہَے۔ 5 ۔اَحمق اپنے باپ کی تادِیب کی حقارت کرتا ہَے پر جو تنبیہہ کو مانتا ہَے وہ عقلمندی سے کام کرتا ہَے۔ 6 ۔ صادِق کے گھر میں بڑی دولت ہَے پر شریروں کی آمدنی میں پریشانی ہَے۔ 7 ۔ دانِشمندوں کے لب عِلم بوتے ہَیں مگر جاہلوں کے دِل ایسے نہیں۔ 8 ۔ شریروں کی قربانی خُداوند کے سامنے مکُروہ ہَے مگر راست کاروں کی دُعا اُس کی خُوشنوُدی ہَے۔ 9 ۔ شریروں کی راہ خُداوند کے نزدیک مکرُوہ ہَے مگر صداقت کے مُقلّد کو وہ پیار کرتا ہَے۔ 10 ۔ راہ سے بھٹکنے والے کے لیے سخت تعلیم ہَے۔ اَور جو تنبیہہ سے نفرت کرتا ہَے وہ مَر جائے گا ۔ 11 ۔ جب پاتال اور جہنم خُداوند کےآگے کھُلے رہتے ہَیں تو کِتنے زیادہ بنی آدم کے دِل ۔ 12 ۔ ٹھٹھّے باز تنبیہہ کو پیار نہیں کرتا اَور دانِشمندوں کے ساتھ نہیں چلتا ۔ 13 ۔شادمان دِل چہرے کو خُوش بناتا ہَے پر دِل کی غمگینی سے رُوح کی شِکستگی ہوتی ہَے۔ 14 ۔ عقلمند کا دِل عِلم کی تلاش کرتا ہَے پر جاہِلوں کا مُنہ حماقت چَرتا ہَے۔ 15 ۔ مُصیبت زَدہ کے سب دِن غمناک ہَیں مگر خُوش دِلی ہمیشہ کا جشن ہَے۔ 16 ۔ پریشانی کے ساتھ بہت دولت رکھنے کی نَسبت خُداوند کے خوف کے ساتھ کم رکھنا بہتر ہَے ۔ 17 ۔ عداوت رکھ کر پالا ہُؤا بیل کھانے کی نِسبت مُحبّت کے ساتھ سبزی کا کھانا بہتر ہَے۔ 18 ۔ غُصّہ ور اِنسان جھگڑے بَرپا کرتا ہَے مگر صابر شخص جھگڑا مِٹاتا ہَے۔ 19 ۔کاہِل مَرد کی راہ کانٹوں کی باڑ ہَے پر محِنتیوں کا رستہ شاہراہ ہَے ۔ 20 ۔دانِشمند بیٹا اپنے باپ کو خوُش کرتا ہَے مگر جاہِل آدمی اپنی ماں کی حقارت کرتا ہَے۔ 21 ۔ حماقت بے عقل کے لئے خُوشی ہَے پر صاحبِ فہم کی راہ سِیدھی ہَے۔ 22 ۔ مشورت کے بغیر سب منصُوبے ٹُوٹ جاتے ہَیں اَور مشورت کی کثرت قائم رہتےَ ہیں ۔ 23 ۔ اپنے مُنہ کے جَواب سے اِنسان خُوش ہوتا ہَے اَور بات جو اپنے وقت میں کہی جائے کیسی عُمدہ ہَے۔ 24 ۔ عقلمند کے لئے زِندگی کا رستہ اُوپر کی طرف ہَےتاکہ پاتال سے بچ جائے۔ 25 ۔ خُداوند مغرُوروں کے گھر کو ڈھادے گا اَور بیوہ کی حد کو قائم کرے گا۔ 26 ۔ شریروں کے خیالات خُداوند کے نزدِیک مکُروہ ہَیں پر پاک لوگوں کی باتیں پسندیدہ ہَیں۔ 27 ۔ ہر ایک جو نا جائز نفع کا لالچی ہَے وہ اپنے گھر کو برباد کرتا ہَے۔ اَور جو رشوَت سے نفرت کرتا ہَے وہ زندہ رہے گا۔ 28 ۔ صادِق کا دِل جَواب دینے میں غور کرتا ہَے پر شریروں کے مُنہ بُری باتوں سے بھرے رہتے ہَیں ۔ 29 ۔خُداوند شریروں سے دُور ہَے پر وہ صادِقوں کی دُعا کا سُننے والا ہَے۔ 30 ۔ خُوش نظر جان کو خُوش کرتی ہَے۔ اَور خُوش خبر ہَڈیوں کو تازہ کرتی ہَے ۔ 31 ۔جو کان زِندگی کی تنبیہہ سُنتا ہَے وہ دانِشمندوں کے درمیان سکون پائے گا۔ 32 ۔ جوتا دِیب سے اِنکار کرتا ہَے وہ اپنی جان کی تحقیر کرتاہَے۔ جو تنبیہہ کو سُنتا ہَے وہ اپنے دِل کا مالک ہَے۔ 33 ۔ خُداوند کا خوف حِکمَت کی تادیب ہَے اَور سرفرازی سے پہلے فروتنی ہَے۔