1 ۔ اَور اَب اَے کاہنو۔ تُمہارے لئے یہ حُکم ہے۔ 2 ۔ اگر تُم شَنَوا نہ ہو گے اَور میرے نام کی تمجِید کو مدّنظر نہ رکھّو گے۔( ربُّ الافواج فرماتا ہَے) تو مَیں تُم پر لعنت بھیجُوں گا اَور تُمہاری نعمتوں کو لعنتی کرُوں گا بلکہ لعنتی کر چُکا ہُوں اِس لئے کہ تُم نے اُسے مدِّ نظر نہ رکھّا۔ 3 ۔ دیکھ۔ مَیں تیرے بازُو کو کاٹ ڈالُوں گا اَور تُمہارے مُنہ پر نجاست یعنی تُمہاری قُربانیوں کی نجاست پھینک دُوں گا اَور تُم اِسی کے ساتھ پھینک دِئیے جاؤ گے۔ 4 ۔ اَور تُم جان لو گے کہ مَیں نے یہ حُکم تُمہیں اِس لئے دِیا ہَے کہ میرا عہد لاوؔی کے ساتھ قائم رہے ( ربُّ الافواج فرماتا ہَے)۔ 5 ۔ میرا عہد اُس کے ساتھ زِندگی اَور سلامتی کا تھا۔ تو مَیں نے اُسے یہ عطا کیں۔ اَور خوف کا بھی تھا۔تو وہ مُجھ سے خوفزدہ اَور میرے نام سے ترساں رہا۔ 6 ۔سچّائی کی تعلیم اُس کے مُنہ میں تھی اَور اُس کے لبوں پر ناراستی نہ پائی گئی۔وہ میرے حضُور سلامتی اَور راستی سے چلتا۔اَور بُہتوں کو بَدی کی راہ سے واپس لاتا رہا۔ 7 ۔یقیناً لازِم ہَے کہ کاہِن کے مُنہ سے شرعی مسائل پُوچھیں ۔کیونکہ وہ ربُّ الافواج کا رُسول ہے۔ 8 ۔لیکن تُم راہ سے پِھر گئے ہو اَور اپنی تعلیم سے بُہتوں کو ٹھوکر کھِلائی ہے تُم نے لاوی کے عہد کو خراب کر دِیا ہے( ربُّ الافواج فرماتا ہَے)۔ 9 ۔ پس مَیں بھی تُمہیں سب لوگوں کے نزدیک ذلِیل اَور حِقیر کرتا ہُوں اِس لئے کہ تُم میری راہوں پر قائم نہیں رہے اَور تعلیم دیتے وقت میرے چہرے کا لحاظ نہیں کِیا۔ 10 ۔ عہد میں بے وفائی کیا ہم سب کا ایک ہی باپ نہیں؟ کیا ایک ہی خُدا نے ہمیں پیدا نہیں کِیا؟ پِھر کیوں ہم ایک دُوسرے سے بےوفائی کر کے اپنے باپ دادا کے عہد کو بے حُرمت کرتے ہیں؟ 11 ۔یہُوؔداہ بے وفائی کرتا ہَے یرُوشلیِؔم میں ایک مکرُوہ کام کِیا جا رہا ہے۔ہاں جو خُداوند کے لئے مخصُوص اَور اُسے عزیز تھا اُسے یہُودؔاہ نے بے حُرمت کِیا ہَے کیونکہ اُس نے غیر مَعبُود کی بیٹی کو بیاہ لِیاہَے۔ 12 ۔خُداوند اُس شخص کو جو ایسا کرے چاہے وہ جو کوئی بھی ہو اُسے یَعقُوب کے خیمے سے نِکال دے گا۔پِھر بھلے وہ خُداوند کے سامنے قُربانی گُزارنے والا ہو۔اَور اِس گروہ سے بھی جو ربُّ الافواج کے حضُور ہدیہ لاتا ہے۔ 13 ۔ اَور تُم یہ بھی کرتے ہو۔ یعنی تُم خُداوند کے مذَبح کو آنسُوؤں اَور آہ ونالے سے ڈھانپ دیتے ہو اَور اِس لئے وہ پِھر نہ تُمہارے ہدیہ پر نِگاہ کرتا ہَے اَور نہ اُسے تُمہارے ہاتھ سے قبُول ہی کرتا ہَے۔ 14 ۔اَور تُم کہتے ہو کہ سبب کیا ہَے؟ سبب یہ ہَے کہ خُداوند تیرے اَور تیری جوانی کی بیوی کے درمیان گَواہ ہے۔تُو نے اُس سے بے وفائی کی ہَے حالانکہ وہ تیری ساتھی اَور منکُوحہ بیوی تھی۔ 15 ۔کیا اُس نے ایک ہی نہیں بنایا۔ حالانکہ اُس کے پاس اَور بھی رُوحیں موجُود تھیں؟ تو پِھر ایک کیوں؟ اِس مقصد سے کہ خُدا ترس نسل پیدا ہو۔پس تُم اپنے نفس سے خبردار رہو اَور کوئی اپنی جوانی کی بیوی سے بے وفائی نہ کرے۔ 16 ۔کیونکہ مُجھے طلاق سے نفرت ہَے۔(خُداوند اِسرؔائیل کا خُدا فرماتا ہَے) اَور اُس سے بھی جو اپنی بیوی پر ظُلم کرتا ہَے(ربُّ الافواج فرماتا ہَے) پس اپنے نفس سے خبردار رہو اَور بے وفائی نہ کرو۔ 17 ۔ یوم ِ خداوند تُم اپنی باتوں سے خُداوند کو بیزار کرتے ہو۔تو بھی تُم کہتے ہو۔ کہ ہم اُسے کِس بات میں بیزار کرتے ہَیں؟ اِسی میں جو کہتے ہو کہ ہر ایک جو بَدی کرتا ہَے وہ خُداوندکی نظر میں نیک ہَے اَور وہ اُس سے خُوش ہَے اَور یہ کہ عدل کا خُدا کہاں ہے؟