1 ۔بارِ نبُوّت۔مَلاکی کی معرفت اِسرؔائیل کے لئے خُداوند کا کلام۔ 2 ۔ اسرائیل سے خداوند کی محبت خُداوند فرماتا ہےَ کہ مَیں نے تُم سے مُحبّت رکھّی لیکن تُم کہتے ہو کہ تُو نے کِس بات میں ہم سے مُحبّت ظاہر کی ہَے؟ کیا عَیؔسَو یَعقُوبؔ کا بھائی نہ تھا(خُداوند کافرمان ہَے)تو بھی مَیں نے یَعقُوبؔ سے مُحبّت رکھّی۔ 3 ۔لیکن عَیؔسَو سے نفرت کی۔ مَیں نے اُس کے پہاڑوں کو وِیران کر دِیا اَور اُس کی مِیَراث بیابان کے گیڈروں کو دی۔ 4 ۔اگر اِدوؔم کہے کہ ہم برباد تو ہُوئے لیکن وِیران جگہوں کو پھر تعمیر کریں گے تو ربُّ الا فواج یُوں فرماتا ہَے۔ وہ تعمیر کریں پر مَیں ڈھا دُوں گا اَور وہ شرارت کا مُلک اور وہ قوم کہلائیں گے جس پر ہمیشہ خُداوند کا قہر ہَے۔ 5 ۔تُم اپنی آنکھوں سے دیکھو گے اَور کہو گے کہ اِسرؔائیل کی حُدُود سے باہر بھی خُداوند عظیم ہے۔ 6 ۔ کاہنوں کی غفلت بیٹا اپنے باپ کی عَزّت کرتا ہَے۔ غُلام اپنے آقا سے ڈرتا ہے۔ پس اگر مَیں باپ ہُوں تو میری عِزّت کہاں ہَے؟ اَور اگر آقا ہُوں تو مِیرا خوف کہاں ہَے؟ تُم سے ربُّ الافواج فرماتا ہَے۔ اَے کاہنو! اَے تُم جو میرے نام کی بے حُرمتی کرتے ہو تاہم تُم کہتے ہو کہ ہم نے کِس بات میں تیرے نام کی بے حُرمتی کی ہے؟ 7 ۔تُم میرے مذَبح پر ناپاک روٹی گُزرانتے ہو تا ہم تُم کہتے ہو کہ ہم نے کِس بات میں تیری توہین کی ہَے؟ اِس میں جو کہتے ہو کہ خُداوند کی میز حقیر ہَے۔ 8 ۔ اَور جب اندھے جانور کو قُربانی کے لئے لاتے ہو تو کُچھ بُرا نہیں! اَور جب لنگڑا اَور بیمار لاتے ہو تو کُچھ نُقصان نہیں ! اَب یہی اپنے حاکِم کی نَذَر کر۔کیا وہ تُجھ سے خُوش ہو گا یا تُجھ پر مہر بانی کرے گا؟( ربُّ الافواج فرماتا ہَے)۔ 9 ۔پس تُم اُسی طرح خُدا سے مہربانی طلب کرتے جاؤ کہ تُم پر رحم کرے۔تُمہارے ہاتھوں نے اِتنا کُچھ کِیا ہَے۔پس وہ تُم پر مہربان ہو گا۔( ربُّ الافواج فرماتا ہَے)۔ 10 ۔کاش کہ تُم میں کوئی ایسا جو دروازے بند کرتا اَور تُم میری قُربان گاہ پر بے فائدہ آگ نہ جَلاتے۔مَیں تُم سے خُوش نہیں ہُوں( ربُّ الافواج فرماتا ہَے) اُور تُمہارے ہاتھ کا ہدیہ ہرگز قبُول نہ کرُوں گا۔ 11 ۔ کیونکہ سُورج کی جائے طُلُوع سے لے کر اُس کی جائے غرُوب تک اقوام میں میرے نام کی تمجِید ہوتی ہَے اَور ہر ایک جگہ میں میرے نام کے لئے بخُور اَور پاک ہدیہ گُزرانا جاتا ہَے۔ فی الحقیقت اَقوام میں میرے نام کی تمجِید ہوتی ہے۔( ربُّ الافواج فرماتا ہَے)۔ 12 ۔لیکن تُم یہ کہہ کر اُس کی توہین کرتے ہو کہ خُداوند کی میز پاک ہَے اَور جو کھانا اُس پر آتا ہَے وہ بے حقیقت ہے۔ 13 ۔ تُم یہ بھی کہتے ہو کہ دیکھ۔ یہ کیسی زحمت ہَے ! اَور اُس پر ناک چڑھاتے ہو۔( ربُّ الافواج فرماتا ہَے) اَور تُم زبردستی لئے ہُوے لنگڑے اَور بیمار کو لا کر گُزرانتے ہو۔ تو کیا مَیں اُسے تُمہارے ہاتھ سے قبُول کر لُوں؟( ربُّ الافواج فرماتا ہَے)۔ 14 ۔ لعنتی ہَے وہ دغا باز جِس کے گلّے میں نر ہَے لیکن وہ مَنّت مان کر خُداوند کے لئے عیب دار مادہ گُزرانتا ہَے کیونکہ مَیں عظیم باشاہ ہُوں( ربُّ الافواج فرماتا ہَے) اَور قوموں میں میرا نام مُہیب ہَے۔