باب

1 ۔ میوؤں کی ٹوکری کی رویا خُداوند نے مُجھے یہ رُؤیا دِکھائی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ تابِستانی میوؤں کی ایک ٹوکری ہَے۔ 2 ۔اُس نے کہا۔ کہ اَے عامُؔوس تُو کیا دیکھتا ہَے؟ مَیں نے کہا۔ کہ تابِستانی میوؤں کی ٹوکری۔ تب خُداوند نے مُجھ سے کہا کہ میری اُمّت اِسرؔائیل کا وقت آ پُہنچا ہَے۔ اَب مَیں اُس سے درگُزر نہ کرُوں گا۔ 3 ۔ہَیکل کے نغمے اُس دِن ماتم کے ہوں گے(مالِک خُداوند کا فرمان ہَے)۔ بُہت سی لاشیں پڑیں ہوں گی۔ وہ ہر جگہ نِکال پھینکی جائیں گی۔ خاموش! 4 ۔یہ بات سُنو۔ اَے تُم جو مِسکینوں کو پامال اَور مُلک کے مُحتاجوں کو فنا کرتے ہو۔ 5 ۔اَور کہتے ہو کہ نئے چاند کا دن کب گُزرے گا تاکہ ہم غلّہ بیچیں اَور سبت کا دِن کب ختم ہو گا کہ ہم گیہُوں کے کھّتے کھولیں تاکہ ایفہ کو چھوٹا کر کے اَور مِثقال کو بڑا بنا کر اَور فریب کے ترازُو سے دغا بازی کر کے۔ 6 ۔مِسکین کو چاندی سے اَور کنگال کو چپل کے جوڑے سے خِرید لیں اَور گیہُوں کی پھٹکن تک بھی فروخت کریں۔ 7 ۔خُداوند نے یَعقُوؔب کے فخر کی قَسم کھائی ہَے کہ مَیں اُن کے کاموں میں سے کِسی کو بھی نہ بُھولوں گا۔ 8 ۔کیا زمین اِس سبب سے نہ کانپے گی اَور اُس کے تمام باشندے نوَحہ نہ کریں گے۔ ہاں وہ بِالکُل دریائے نیؔل کی طرح اُٹھے گی اَور وہ مصر کی ندی کی مانند پھیل کر پھِر سُکڑ جائے گی۔ 9 ۔اَور اُس روز ایسا ہو گا۔ (مالِک خُداوند کا فرمان ہَے) کہ مَیں سُورج کو دوُپہر ہی کو غرُوب کر دُوں گا۔ اَور روزِ روشن ہی میں زمین کو تارِیک کر دُوں گا۔ 10 ۔مَیں تُمہاری عیدوں کو ماتم سے اَور تُمہارے سب گیِتوں کو نوحوں سے بدل دُوں گا اَور ہر ایک کَمر پر ٹاٹ بندھواؤں گا اَور ہر ایک سر پر گنجا پن لاؤں گا۔ اَور مَیں ایسا ماتم برپا کرُوں گا جیسے اِکلوتے بیٹے پر ہوتا ہَے۔ اَور اُس کا اِختتام روزِ تلخ کی مانند ہو گا۔ 11 ۔دیکھ وہ دِن آتے ہَیں۔ (مالِک خُداوند کا فرمان ہَے) جِن میں مَیں اِس مُلک پر کال لاؤں گا۔ وہ روٹی کا کال نہ ہو گا اَور نہ پانی کی پیاس ہو گی بلکہ خُداوند کا کلمہ سُننے کا قحط ہوگا۔ 12 ۔تب وہ سمُندر سے سمُندر تک اَور شِمال سے مشرق تک بھٹکتے پھِریں گے اَور خُداوند کے کلمہ کی تلاش میں دوڑیں گے لیکن نہ پائیں گے۔ 13 ۔اُس روز حِسین کُنواریاں اَور نوجوان پِیاس کے مارے غش کھا جائیں گے۔ 14 ۔اَور جو سامؔریہ کے باعث خطا کی قَسم کھاتے ہَیں اَور کہتے ہَیں کہ "اَے داؔن تیرے مَعبُود کی قَسم ۔ اَے بیر سبع تیرے مُربّی کی قَسم" وہ گِر جائیں گے اَور پھِر ہر گز نہ اُٹھیں گے۔