باب

1 ۔اُن پر افسوس جو صیون میں چین سے اَور کوہِستان سامرؔیہ میں اِطمینان سے رہتے ہَیں۔ یعنی رئیس اقوام کے شُرفاء پر جِن کے پاس اِسرؔائیل کا گھرانا مدد کے لئے آتا ہَے۔ 2 ۔تُم کلؔنہ کی طرف پار گُزرو اَور دیکھو اَور وہاں سے حماؔت کلاں کو جاؤ۔ پھِر فِلسطؔین کے جؔت کی طرف اُترو۔ کیا اِن مَملکُتوں سے بہتر کوئی ہَے؟ کیا اِن کی حُدوُد تُمہاری حُدوُد سے زیادہ وسیع ہَیں؟ 3 ۔تُم جو بُرے دِن کا خیال مُلتوی کرتے اَور مَسندِ ظُلم کو نزِدیک لاتے ہو۔ 4 ۔جو ہاتھی دانت کے پلنگوں پر لیٹتے اَور اپنے کاٹھوں پر دراز ہوتے ہو۔ جو گلّے میں سے برّوں کو اَور مویشی خانہ میں سے بچھڑوں کو لے کر کھاتے ہو۔ 5 ۔جو سارنگی کی آواز کے ساتھ احمقانہ راگ گاتے ہو اَور داؤد کی طرح اپنے لئے مُوسیقی کے ساز ترتیب دینے کی کوشش کر تے ہو۔ 6 ۔جو بُہت نفیس مَے پیتے ہو اَور بہترین عِطر اپنے بدن پر مَلتے ہو لیکن یُوسؔف کی شِکَستہ حالی سے غمگین نہیں ہوتے۔ 7 ۔اِس لئے تُم پہلوں کی طرح جلاوطن ہو جاؤ گے اَور تُمہاری خوُشحالی اَور اِستقامت موُقوف ہو جائے گی۔ 8 ۔مالِک خُداوند نے اپنی ذات کی قَسم کھائی ہے(خُداوند ربُّ الافواج کا فرمان ہَے) کہ مَیں یَعقُوؔب کے غروُر سے کراہِیت کرتا اَور اُس کے قَصروں سے نفرت رکھتا ہُوں۔ پس مَیں شہر کو اُس کی معُموری سمیت حوالے کر دُوں گا۔ 9 ۔بلکہ یُوں ہو گا کہ اگر کِسی گھر میں دس آدمی باقی ہوں گے تو وہ بھی مَر جائیں گے۔ 10 ۔اَور جب کسی مَرے ہُوئے کا قرابتی جَلانے کے لئے اُسے اُٹھانے اَور ہَڈّیوں کو گھر سے باہر نِکالنے لگے گا تو وہ اُس سے جو گھر کے اندر ہَے پُوچھے گا۔ کہ کیا کوئی اَو ر تیرے ساتھ ہَے؟ اَور جب وہ کہے گا کہ نہیں۔ تو بولے گا چُپ رہ خُداوند کے نام کا ذِکر نہ ہو۔ 11 ۔کیونکہ دیکھ۔ خُداوند حُکم دے چُکا ہَے۔ بڑے بڑے گھر رخنوں سے اَور چھوٹے شِگافوں سے برباد ہوں گے۔ 12 ۔کیا چٹانوں پر گھوڑے دوڑیں گے یا کوئی بیلوں سے سمُندر پر ہَل چلائے گا؟ تو بھی تُم نے عدل کو زہر سے اَور صداقت کے پَھل کو کڑواہٹ سے بدلا ہَے۔ 13 ۔تُم لودؔبار پر فخر کرتے ہو اَور کہتے ہو کہ کیا ہم نے اپنی ہی قُوّت سے قرناؔئم کو نہ لے لیا؟ 14 ۔کیونکہ دیکھ اَے اِسرؔائیل کے گھرانے۔ مَیں تُم پر ایک قوم چڑھا لاؤں گا۔ (خُداوند ربُّ الافواج کا فرمان ہَے( جو حماؔت کے مَدخِل سے لے کر عربہ کی وادی تک تُمہیں تنگ کرے گی۔