باب

1 ۔اسرائیل پر نوحہ َاے اِسرؔائیل کے گھرانے اِس کلمہ کو یعنی اِس نَوحہ کو سُن جو مَیں تُم پر کہتا ہُوں۔ 2 ۔اِسرؔائیل کی کُنواری گِر پڑی ہَے۔ وہ پھِر نہ اُٹھے گی۔ وہ اپنی ز مین پر چھوڑ دی گئی ہَے اَور کوئی نہیں جو اُسے اُٹھائے۔ 3 ۔ کیونکہ مالِک خُداوند اِسرؔائیل کے گھرانے سے یُوں فرماتا ہَے کہ جس شہر سے ایک ہزار نِکلتے تھے۔ اُس میں ایک سَو رہ جائیں گے اَور جس سے ایک سَو نِکلتے تھے۔ اُس میں دس رہ جائیں گے۔ 4 ۔کیونکہ خُداوند اِسرؔائیل کے گھرانے سے یُوں فرماتا ہَے کہ میری تلاش کرو تو تُم زِندہ رہو گے۔ 5 ۔لیکن بیَت ایؔل کے طالِب نہ ہو اَور جِلجؔال میں داخِل نہ ہو اَور بیر سبؔع کو سفر نہ کرو۔ کیونکہ جِلجؔال یقیناً اسیری میں جائے گا اَور بیَت ایؔل معدُوم ہو جائے گا۔ 6 ۔خُداوند کی تلاش کرو تو تُم زِندہ رہو گے ورنہ وہ یُوسؔف کے گھر میں آگ کی مانند بھڑکے گا اَور آگ اِسرؔائیل کے گھر کو بھسم کر دے گی۔ اور بیَت ایؔل میں کوئی بُجھانے والا نہ ہو گا۔ 7 ۔ سہ چند افسوس اُن پر افسوس جو عدل کو کڑواہٹ سے بدلتے اَور صداقت کو خاک میں مِلاتے ہَیں۔ 8 ۔جو ثُرّیا اَور جؔبْار کا خالِق ہَے۔ جو مَوت کے سائے کو صُبح طلوع سے بدلتا ہَے۔ اَور روزِ روشن کو تاریک رات بناتا ہَے۔ جو سُمندر کے پانی کو بُلاتا ہَے اَور رُوئے زمین پر اُنڈیلتا ہَے۔ 9 ۔اُس کا نام خُداوند ہَے۔ وہی زور آوروں پر ہلاکت لاتا اَور قِلعے پر تباہی نازِل کرتا ہَے۔ 10 ۔جو پھاٹک میں سرزَنش کرنے والوں سے کیِنہ رکھتے اَور راست گو سے نفرت رکھتے ہَیں۔ 11 ۔پس چُونکہ تُم مِسکینوں کو پامال کرتے ہو اَور اُن سے گیہُوں نچوڑتے ہو اِس لئے تُم تراشے ہُوئے پتّھروں کے مکان تو لگاؤ گے لیکن اُن میں رہو گے نہیں۔ اَور نفیس تاکِستان لگاؤ گے لیکن اُن کی مَے پیِئو گے نہیں۔ 12 ۔کیونکہ مَیں تُمہاری بے شُمار خطاؤں اَور تُمہارے بڑے بڑے گُناہوں سے آگاہ ہُوں۔ تُم صادِق کو ستاتے ہو اَور رِشوّت لیتے ہو اَور پھاٹک میں مِسکینوں کودھکیلتے ہو۔ 13 ۔اِ س لئے اِن ایّام میں دُور اندیش خاموش ہے کیونکہ وقت بُرا ہَے۔ 14 ۔پس تُم نیکی کی تلاش کرو۔ نہ کہ بَدی کی تاکہ تُم زِندہ رہو اَور تُمہارے کہنے کے مُطابِق خُداوند ربُّ الافواج تُمہارے ساتھ رہے گا۔ 15 ۔بَدی سے نفرت اَور نیکی سے مُحبّت رکھّو۔ پھاٹک میں عدل کو قائم کرو شاید خُداوند ربُّ الافواج یُوسؔف کے بُقّیہ پر مہربان ہو۔ 16 ۔اِ س لئے مالِک خُداوند ربُّ الافواج فرماتا ہَے کہ سب چوکوں میں نوحہ ہو گا اَور سب کُوچوں میں پُکارا جائے گا کہ افسوس! افسوس!اَور کِسان کو بھی بُلایا جائے تاکہ ماتم کرے بلکہ اُنہیں بھی جونَوحہ گَری سے واقف ہَیں تاکہ وہ بھی نَوحہ کریں۔ 17 ۔ہاں تمام تاکِستانوں میں نَوحہ ہو گا کیونکہ مَیں تیرے درمیان سے گُزروں گا خُداوند فرماتا ہَے! 18 ۔اُن پر افسوس جو خُداوند کے دِن کی تمنّا رکھتے ہَیں خُداوند کے دِن سے تُمہیں کیا فائدہ؟ وہ تو تارِیکی کا ہَے۔ روشنی کا نہیں! 19 ۔جیسے کوئی شیر کے سامنے سے بھاگے اَور رِیچھ اُسے مِلے یا گھر میں جا کر اپنا ہاتھ دِیوار پر رکھّے اَور اُسے سانپ ڈسے۔ 20 ۔یقیناً خُداوند کا دِن تارِیکی کا ہو گا اَور روشنی کا نہیں۔ نہایت ہی تارِیک اَور باِلکُل بے نُور ہو گا۔ 21 ۔مَیں تُمہاری عیدوں کو مکرُوہ اَور قابل نفرت جانتا ہُوں اَور مَیں تُمہاری مُقدّس محِفلوں سے خُوش نہیں ہوتا۔ 22 ۔اَور اگرچہ تُم میرے حضُور سوختنی قُربانیاں اَور نَذَریں گُزرانو گے تو بھی وہ مُجھے مقبُول نہ ہوں گی اَور مَیں تُمہارے موٹے جانوروں کی سلامتی کی قرُبانیوں پر نِگاہ نہ کُروں گا۔ 23 ۔اپنے گیِتوں کا شور میرے حضُور سے ہٹا لو کیونکہ مَیں تُمہاری سا رنگیوں کا راگ نہ سُنوں گا۔ 24 ۔برعکس اِس کے عدل کو پانی کی طرح اَور صداقت کو بارہ ماسی ندی کی مانند جاری رکھّ۔ 25 ۔ اَے اِسرؔائیل کے گھرانے ۔ کیا تُم بِیابان میں چالیس برس تک میرے آگے قُربانیاں اَور نَذَریں گُزرانتے رہے؟ 26 ۔بلکہ تُم سُکوّتؔ اپنے بادشاہ کو اَورکیوؔان اپنے کوکَب کی مُورت کو اُٹھائے پِھرے۔ یعنی ان مَعبُودوں کو جِنہیں تُم نے اپنے لئے بنایا ہُؤا تھا۔ 27 ۔پس مَیں تُمہیں اسیری میں دِمشؔق سے بھی آگے بھیُجوں گا۔ خُداوند فرماتا ہَے جس کا نام ربُّ الافواج ہَے۔