باب

1 ۔ خداوند کی دھمکی باطل نہیں اَے بنی اِسرؔائیل یہ کلمہ سُنو جو خُداوند نے تُمہارے خلاف یعنی اُس ساری نسل کی بابت فرمایا ہَے جسے مَیں مُلکِ مِصؔر سے نِکال لایا(یُوں کہہ کر کہ)۔ 2 ۔دُنیا کی تمام نسلوں میں سے مَیں نے صِرف تُمہیں چُنا ہَے۔ اِس لئے مَیں تُمہیں تُمہاری ساری بَدکرداری کی سزا دُوں گا۔ 3 ۔ اگر دو شخص ایک دُوسرے سے واقِف نہ ہوں تو کیا وہ اِکٹّھے چلیں گے؟ 4 ۔اگر شیر کو جنگل میں شِکار نہ مِلا ہو تو کیا وہ گرجے گا؟ یا اگر شیر بچّہ نے کُچھ نہ پکڑا ہو تو کیا وہ اپنی ماندمیں سے اپنی آواز بُلند کرے گا؟ 5 ۔اگر اُس کے لئے دام نہ بِچھایا گیاہو تو کیا چِڑیا زمین پر دام میں پھنسے گی؟ جب اُس میں کُچھ نہ کُچھ پھنسا نہ ہو تو کیا پھندا زمین پر سے اُچھلے گا؟ 6 ۔اگر شہر میں نرسِنگا پھُونکا جائے تو کیا لوگ روندے نہ جائیں گے؟ اگر شہر پر کوئی آفت آ جائے تو کیا وہ خُداوند کی بھیجی ہُوئی نہ ہو گی۔ 7 ۔یقیناًمالِک خُداوند کُچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے بندوں نبیوں پر ظاہر نہ کرے۔ 8 ۔شیر گرجا ہَے پس کون نہ ڈرے گا؟ مالِک خُداوند نے فرمایا ہَے پس کون نبُوّت نہ کرے گا؟ 9 ۔ اسوُّؔر کے محلّوں میں اَور مُلکِ مِصؔر کے قَصروں میں اعلان کردو اَور کہہ دو کہ سامرؔیہ کے پہاڑوں پر جمع ہو جاؤ اَور دیکھو کہ اُس کے اندر کیسی ابتری اور دباؤ ہے۔ 10 ۔ کیونکہ وہ صداقت سے کام کرنا نہیں جانتے(خُداوند کا فرمان ہَے) بلکہ وہ اپنے قَصروں میں تشدد اور بربادی کا انبار لگاتے ہَیں۔ 11 ۔اِس واسطے خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہَے کہ دُشمن مُلک کا مُحاصرہ کر لے گا۔ اَور قلعوں کو ڈھا دے گا۔ اَور تیرے قصَر لُوٹ لئے جائیں گے۔ 12 ۔خُداوند یُوں فرماتا ہَے کہ جس طرح چرواہا شیر کے مُنہ سے دو ٹانگیں یا کان کا یک ٹکُڑا چُھڑا لیتا ہَے اُسی طرح بنی اِسرؔائیل جو سامؔریہ میں بستے ہَیں فقط بچ نکلیں گے جیسے پلنگ کا گوشہ یا کھاٹ کے پائے کا ٹکُڑا۔ 13 ۔سُنو اَور یَعقُوبؔ کے گھرانے پر گَواہی دو( مالِک خُداوند ربُّ الافواج کا فرمان یُونہی ہَے)۔ 14 ۔کیونکہ جس دِن مَیں اِسرؔائیل کو گُناہوں کی سزا دُوں گا تو بیت ایل کے مذبحوں کوبھی سزا دونگا۔ اَور مذَبح کے سِینگ کَٹ کر زمین پر گِر پڑیں گے۔ 15 ۔اَور مَیں زِمستانی اَور تابِستانی گھروں کو برباد کر دُوں گا اَور ہاتھی دانت کے گھر تباہ ہو جائیں گے اَور آبنوس کے مکان مِسمار کر دیِئے جائیں گے۔ (خُداوند کا فرمان یُونہی ہَے)۔