1 ۱۔ جب یروشلیمؔ کے بادشاہ اَدوؔنی صدق نے سُنا کہ یشُوع نے عیؔ کولے لیا۔ اور اُسے نیست ونابُود کیا۔ اورعیؔ اور اُس کے بادشاہ کے ساتھ وہی کیِا۔ جو یریحو اور اُس کے بادشاہ سے کیا تھا اور کہ جِبعوُن کے لوگوں نے اسرائیل کے ساتھ صلح کی اور اُن کے درمیان رہے۔ 2 ۲۔۔تو سخت خوف سے ڈرگئے کیونکہ جِبعوُن ایک بڑا شہر بادشاہی شہروں میں سے ایک کی مانندتھا۔ وہ عیؔ سے بڑا تھا اور اُس کے سب لوگ بڑے بہادرتھے۔ 3 ۳۔۔تب ادونی صدق یروشلیم کے بادشاہ حبرون کے بادشاہ ہوہام اور یرموت کے بادشاہ پیرام اور لکیس کے بادشاہ یافِیعؔ اور عِجلونؔ کے بادشاہ دبِؔیرکے پاس بھیج کر کہا۔ 4 ۴۔۔کہ میرے پاس آؤ۔ اور میری مدد کرو تو ہم جِبّعون کو ماریں گے۔ کیونکہ اُس نے یشُوع اور بنی اِسؔرائیل کے ساتھ صُلح کی ہے۔ 5 ۵۔۔تب اَموریوؔں کے پانچوں بادشاہ یُروشلِیمؔ کا بادشاہ اور حِبروؔن کا بادشاہ اور یرموؔت کا بادشاہ اور لِکیسؔ کا بادشاہ اور عِجلوؔن کا بادشاہ جمع ہُوئے۔ اور اپنی سب فوجوں کے ساتھ چڑھے۔ اَور جِبّعون کے مُقابِل میں ڈیرے لگائے۔ اور اُس کے ساتھ لڑائی کی۔ 6 ۶۔۔تب جِبّعون کے باشِندوں نے یشُوع کے پاس جو جِلجالؔ میں خَیمہ زَن تھا بھیج کر کہا۔ کہ اپنا ہاتھ اپنے غُلاموں سے مت ہٹائے رکھّ۔ اور جلدی سے ہماری طرف آ اور ہمیں بچا اور ہماری کُمک کر۔ کیونکہ سارے اَموری بادشاہ جو کوہستان میں رہتے ہیں۔ ہمارت خِلاف جمع ہو گئے ہیں۔ 7 ۷۔۔تب یُشوع نے سب جنگی مردوں اَور دلیر بَہادرُوں کو ساتھ لے کے چڑھائی کی۔ 8 ۸۔۔اور خُداوند نے یشُوع سے کہا۔ اُن سے مت ڈر۔ کیونکہ مَیں نے اُنہیں تیرے ہاتھ میں حوالے کر دِیا ہے۔اُن میں سے ایک بھی تیرے سامنے نہ ٹھہرے گا۔ 9 ۹۔۔اور یشُوع اُن پر ناگہاں جا پُہچا۔ کیونکہ وہ جِلجالؔ سے ساری رات چلتا رہا تھا۔ 10 ۱۰۔۔اَور خُداوند نے اُنہیں اِسؔرائیل کے سامنے شکسَت دی۔ اور اُس نے اُنہیں بڑی خُونریزی سے جِبّعونؔ میں قتل کیا۔ اور بَیت حورونؔ کی چڑھائی کی راہ میں اُن کا تَعاقُب کیا اور عَزیقاہ اور مُقیدّہ تک اُنہیں مارا۔ 11 ۱۱۔۔اور جب وہ اِسؔرائیلؔ کے سامنے سے بھاگے۔ اور بیت حورونؔ کی اُترائی پر تھے۔ تو خُداوند نے اُن پر بڑے بڑے پتھر آسمان سے عزیقاؔہ تک گِرائے۔ تو وہ ہلاک ہُوئے۔ اور جو اوَلوں سے ہلاک ہُوئے۔ اُن سے بھی زیادہ تھے۔ جو بنی اِسؔرائیل کی تلوار سے قتل ہُوئے تھے۔ 12 ۱۲۔۔اُس وقت یشُوع نے خُداوند سے بات کی یعنی اُس دِن جب خُداوند نے اَموریوؔں کو بنی اِسؔرائیل کے قابُو میں کر دِیا۔ اور اِسرائیلؔ کے رُوبرُو اُس نے کہا۔ اَے سُورج جِبعّون پر اوراَے چاند وادی ایالونؔ پر رُک جا۔ 13 ۱۳۔۔ تب سُورج رُکا۔ اَور چاند ٹھہرا جب تک کہ قوم نے دُشمنوں سے بدلہ نہ لِیا کیا ُیہ آشر کی کتِاب میں نہیں لکھا؟ اَور سُورج آسمان کے درمیان ٹھہرا رہا۔ اور پُورے ایک دِن کے عرصہ تک مغرب کی طرف مائل نہ ہُؤا۔ 14 ۱۴۔۔ اور اُس دن کی مانند کبھی اُس سے پہلے اور اُس کے بعد نہیں ہوا۔ کہ خُداوند نے اُس میں اِنسان کی آواز سُنی۔ جب خُداوند اِسؔرائیل کے واسطے لڑا۔ 15 ۱۵۔۔تب یشُوع اور اُس کے ساتھ تمام اِسؔرائیل جِلجالؔ کے خَیمہ گاہ کو واپس گئے۔ 16 ۱۶۔ اور پانچوں بادشاہ بھاگے۔ اور مَقیّدؔہ کی ایک غار میں چُھپے۔ 17 ۱۷۔۔اور یشُوع کو خبر پُہنچی اور اُس سے کہا گیا۔ کہ وہ پانچوں بادشاہ مَقّیدہؔ کی ایک غار میں چُھپےہُوئے پائے گئے ہیں۔ 18 ۱۸۔۔تو یشُوع نے حُکم دِیا کہ غار کے مُنہ پر بڑے بڑے پتھرلڑھکاؤ۔ اور اُن کی نِگہبانی کے لئے وہاں آدمی بٹھاؤ۔ 19 ۱۹۔۔ اور تُم مت ٹھہرو۔ بلکہ اپنے دُشمنوں کے پیچھے چلو۔اور اُن کے پس لشکر کو ہلاک کرو۔ اَور اُنہیں مُہلت نہ دو۔کہ وہ اپنے شہروں میں سے کسی شہر میں داخِل ہوں۔ کیونکہ خُداوند تُمہارے خُدا نے اُنہیں تُمہارے ہاتھ میں دے دِیا ہے۔ 20 ۲۰۔ ۔اور جب یشُوع اور بنی اِسرائیل ؔنے بڑی خُون ریزی سے اُن کے قتل کرنے کا کام تمام کیِا۔ یہاں تک کہ وہ فنا ہو گئے ۔ اور جو بچ گئ۔ وہ فصِیل دار شہروں میں داخِل ہُوئے۔ 21 ۲۱۔۔تو سب لوگ مَقیدّہؔ میں خَیمہ گاہ کی طرف یشُوع کے پاس سلامتی سے واپس آئے۔ اور بنی اِسرائیلؔ کے خلاف کسی نے زُبان نہ ہلائی۔ 22 ۲۲۔۔تب یشُوع نے حُکم دِیا۔ کہ غار کا مُنہ کھولو۔ اَور پانچوں بادشاہوں کو غار سے میرے پاس لاؤ۔ 23 ۲۳۔۔اور اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ اَور اُن پانچوں بادشاہوں کو یرُوشلیِمؔ کے بادشاہ اور حبرون کے بادشاہ اور یَرموتؔ کے بادشاہ اور لکِیسؔ کے بادشاہ اور عِجلونؔ کے بادشاہ کو غار سے نِکال کر اُس کے پاس لائے۔ 24 ۲۴۔۔اور اَور جب وہ اُن بادشاہوں کو نِکال کر یشُوع کے پاس لائے تو یشُوع نے اِسؔرائیل کے سب آدمیوں کو بُلایا۔ اور جنگی مردوں کے سرداروں سے جو اُس کے ساتھ گئے تھے کہا۔ آگے آؤ۔ اَور اِن بادشاہوں کی گردنوں پر اپنے پاؤں رکھّو۔ تب وہ آگے آئے اور اُن کی گردنوں پر اپنے پاؤں رکھّے۔ 25 ۲۵۔۔پھِر یشُوع نے اُن سے کہا۔ کہ مت ڈرو۔ اور ہراساں نہ ہو۔ مضبُوط ہو ۔اور دِلیری کرو۔ کیونکہ خُداوند تُمہارے دُشمنوں سے جِن کے ساتھ تُم جنگ کرو گے۔ ایسا ہی کرے گا۔ 26 ۲۶۔۔بعد اِس کے یشُوع نے اُنہیں مارا اور قتل کِیا۔ اور پانچ درختوں پر اُنہیں لٹکایا اَور وہ شام تک درختوں پر لٹکے رہے۔ 27 ۲۷۔۔اور غرُوبِ آفتاب کے قریب یشُوع نے حُکم دِیا۔ تو اُنہوں نے اُنہیں درختوں سے اُتارا۔ اَور جس غار میں وہ چُھپےتھے اُس کے اندر اُنہیں پھینک دِیا۔ اور غار کے مُنہ پر بڑے بڑے پتھر رکھّ دئیے۔ جو آج کے دِن تک ہیں۔ 28 ۲۸۔۔اور یشُوع نے اُسی دن مَقیدّہؔ کو لے لِیا، اور تلوار کی دھار سے اُسے مارا۔ اَور اُس کے بادشاہ کو اَور وہاں کے سب رہنے والوں کو قتل کیِا۔ کہ اُن میں سے کوئی باقی نہ رہا۔ اَور مَقیدّہؔ کے بادشاہ سے وہی کِیا۔جو اُس نے یریحوؔ کے بادشاہ سے کیا تھا۔ 29 ۲۹۔۔تب یشُوع اور اُس کے ہمراہ تمام اِسؔرائیل مَقیدّہؔ سے لبناہ کو گئے اور اُس سے جنگ کی۔ 30 ۳۰۔۔تو اُسے اَوراُس کے بادشاہ کو بھی خُداوند نے اِسؔرائیل کے ہاتھ میں حوالے کر دِیا۔ اور اُنہوں نے اُسے تلوار کی دھار سے مارا۔ اَور وہاں کے رہنے والوں کو قتل کیِا۔ کہ اُن میں سے کوئی باقی نہ رہا۔ اور اُس کے بادشاہ سے وہی کیِا جو یریحوؔ کے بادشاہ سے کِیا تھا۔ 31 ۳۱۔۔پِھریشُوع اور اُس کے ہمراہ تمام اِسؔرائیل ، لبناہؔ سے لکِیسؔ کو گئے۔ اور وہاں ڈیرا کیا اور اُس سے لڑائی کی۔ 32 ۳۲۔۔تو خُداوند نے لکِیسؔ کو اِسرؔائیل کے ہاتھوں میں دے دِیا۔ تو دُوسرے دِن اُنہوں نے اُس پر فتح پائی۔ اور اُسے تلوار کی دھار سے مارا۔ اَور وہاں کے سب رہنے والوں کو قتل کیا۔ جیسا کہ اُس نے لبنؔاہ سے کیا تھا۔ 33 ۳۳۔۔اُس وقت جزؔر کا بادشاہ ہورمؔ لکِیسؔ کی مدد کو چڑھ آیا۔ تو اُسے اور اُس کے لوگوں کو بھی یشُوع نے مارا۔ یہاں تک کہ اُن میں سے کوئی باقی نہ رہا۔ 34 ۳۴۔۔پھر یشُوع اور اُس کے ہمراہ تمام اِسؔرائیل لکِیس سے عِجلون کو گئے۔ اَور اُس کا محاصرہ کیا۔ اوراُس سے جنگ کی۔ 35 ۳۵۔۔اَور اُسی دِن اُسے لے لِیا۔ اور تلوار کی دھار سے اُسے مارا۔ اور وہاں کے سب لوگوں کو اُسی دِن قتل کیا، عین جیسا اُس نے لکِیس سے کیا تھا۔ 36 ۳۶۔۔پِھر یشُوع اور اُس کے ہمراہ تمام اِسؔرائیل عِجلونؔ سے حِبرون کو چڑھے۔اور اُس سے لڑائی کی۔ 37 ۳۷۔۔اَور اُسے لے لِیا۔ اَور اُسے اور اُس کے بادشاہ اور اس کے شہروں اَور اُن کے رہنے والوں کو تلوار کی دھار سے مارا۔ اُن میں سے کوئی باقی نہ رہا۔ جیسا کہ اُس نے عِجلونؔ سے کِیا تھا۔ اَور اُس نے اُسے اور سب ذی رُوحوں کو، جو اُس میں تھے، قتل کِیا۔ 38 ۳۸۔۔اور یشُوع اور اُس کےساتھ تمام اِسؔرائیل دؔبیرکی طرف لوٹے۔ اَور اُس سے لڑائی کی۔ 39 ۳۹۔اور اُسے اور اُس کے بادشاہ اَور اُس کے شب شہروں کو لے لِیا۔ اور تلوار کی دھار سے اُنہیں مارا۔ اَور سب ذی رُوحوں کو قتل کیا۔ اور کسی کو باقی نہ چھوڑا۔ جیسا کہ حِبروؔن سے کیا تھا۔ ویسا ہی دبیرؔ اور اُس کے بادشاہ سے کیا۔ اور جیسا کہ لبناہ اور اُس کے بادشاہ سے کیا تھا۔ 40 ۴۰۔ ۔اور یشُوع نے سارے کوہستان اَور جنوب اَور شفیلہؔ اَور ڈھلوانوں کے علاقے کو اَور اُن کے بادشاہوں کو مارا۔ اور کسی کو باقی نہ چھوڑا۔ بلکہ جیسا خُداوند اِسؔرائیل کے خُدا نے حُکم کیا تھا۔ ہر ایک سانس لینے والے کو قتل کیا۔ 41 ۴۱۔۔اَور یشُوع نے اُنہیں قادِس برنیع سے لے کر غزّہ تک مع تمام جشن کی سَرزمین کے جِبّعون تک مارا۔ 42 ۴۲۔۔اور یشُوع نے اُن سارے بادشاہوں اَور اُن کی سَرزمین کو ایک ہی یُورش میں لے لِیا۔ کیونکہ خُداوند اِسؔرائیل کا خُدا اِسؔرائیل کے بدلے لڑتا تھا۔ 43 ۴۳۔۔تب یشُوع اور اُس کے ہمراہ تمام اِسؔرائیل جِلجال کے خَیمہ گاہ کو واپس آئے۔