1 مَیں اپنی دیدگاہ پر کھڑا ہُوں گا اور اپنے بُرج پر چڑھ کر مُنتظر رہُوں گا کہ معلُوم کرُوں کہ وہ مُجھ سے کیا کہے گا اَور میری فریاد کا کیا جَواب دے گا۔ 2 تب خُداوند نے جَواب میں مُجھ سے کہا کہ رُؤیا کو پتھر کی تختیوں پر ایسی صفائی سے لِکھ کہ لوگ دوڑتے ہُوئے بھی پڑھ سکیں۔ 3 کیونکہ رُؤیا مُقرّرہ وقت کے لئے ہَے وہ جلد پُوری ہو گی وہ جھوٹی ثابت نہ ہو گی۔اگرچہ دِیر بھی ہو تو بھی مُنتظر رہنا۔کیونکہ وہ یقیناً وقُوع میں آئے گی۔اَور تاخیر نہ کرے گی۔ 4 جِس کا دِل راست نہیں دیکھ وہ کیسے فنا ہوتا ہَے۔پر ایمان سے صادِق زندہ رہے گا۔ 5 پانچ بار افسوس بے شک مغرُور آدمی مے کی مانند دغا باز ہے۔وہ اپنے گھر میں نہیں رہتا۔وہ پاتال کی مانند اپنی ہوس بڑھاتا ہے وہ موت کی مانند ہے ۔کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔اَور اپنے پاس سب قوموں کو جمع کرتا اَور اپنے پاس تمام اُمّتوں کو فراہم کرتا ہَے۔ 6 کِیا وہ سب کے سب اُس پر کہاوت نہ بنائیں گے اَور پہلیوں سے اُس پر طنز نہ کریں گے؟ کہ اُس پر افسوس جو اِوروں کے مال سے مال دار ہوتا ہے۔(کب تک؟) اَور کثرت سے سُود لیتا ہَے ۔ 7 کیا تیرے قرض خواہ اچانک نہ اُٹھیں گے؟ کیا تیرا پیچھا کرنے والے بیدار نہ ہوں گےاَور تُو اُن کے لئے شکار نہ ہو گا؟ 8 چُونکہ تُو نے بُہت سی قوموں کو لُوٹا ہَے۔ اِس لئے باقی سب اُمّتیں تجھے لُوٹیں گی کیونکہ تُو نے آدمیوں کا خُون بہایا اَور مُلک و شہر اَور اُن کے تمام باشندوں پر ظُلم کِیا۔ 9 اُس پر افسوس جو اپنے گھر کے لئے ناجائز نفع کماتا ہَے تاکہ اپنا آشیانہ بُلندی پر بنائے اَور آفت کی گِرفت سے بچا رہے ۔ 10 تو نے اپنے گھر کے لئے شرمِندگی کا منصُوبہ باندھا ہَے اَور تُو نے بُہت سی اُمّتوں کو تباہ کر کے اپنی جان کا گُناہ کِیا ہے۔ 11 پس دِیوار سے تو پتھر چلّاتا ہَے اَور چھت سے شہتیر جَواب دیتا ہَے۔ 12 اُس پر افسوس جو شہر کو خُون ریزی سے تعمیر کرتا ہَے اَور قصبے کی جُرم پر بُنیاد رکھتا ہَے۔ 13 کیا یہ ربُّ الافواج کی طرف سے نہیں کہ اُمّتوں کی محِنت آگ کے لئے ہو اَور اقوام کی مُشقّت بے فائدہ کے لئے؟ 14 کیونکہ زمین خُداوند کے جلال کی معرفت سے اُسی طرح پُرہو گی جِس طرح پانی سمُندر سے بھرا ہے۔ 15 اُس پر افسوس جو اپنے ہمسایوں کو اپنی نفرت کا جام پِلاتا ہَے اَور اُنہیں مَدہوش کرتا ہے تاکہ اُن کی بے پردگی دیکھے۔ 16 تُو عِزّت کی بجائے رُسوائی سے بھر گیا ہَے۔پس تُو بھی پی اَور اپنی بے پردگی ظاہر کر۔خُداوند کے دہنے ہاتھ کا جام گُھوم کر تیرے پاس آئے گا اَور رُسوائی تیری عِزّت کو ڈھانپ لے گی۔ 17 کیونکہ جو ظُلم لُبنان پر کِیا گیا وہ تُجھے گھیر لے گا۔اور جو ہلاکت درِندوں کی ہُوئی وہ تُجھے ڈرائے گی۔ کیونکہ تُو نے آدمیوں کاخُون بہایا اَور مُلک و شہر اَور اُن کے تمام باشِندوں پر ظُلم کِیا۔ 18 تراشی ہُوئی مُورت سے کیا فائدہ کہ اُس کے بنانے والے نے اُسے تراش کر بنایا؟ ڈھالی ہُوئی مُورت اَور جُھوٹے اُستادسے کیا نفع کہ اُس کا بنانے والا اُس پر بھروسا رکھتا اَور گُونگے بُتوں کو بناتا ہے؟ 19 پس اُس پر افسوس جو لکڑی سے کہتا ہے کہ جاگ! اَور بے زُبان پتّھر سے کہ اُٹھ!(کیا وہ تعلیم دے سکتا ہے) بے شک اُن پر سونا اَور چاندی چڑھایا جائے۔ مگر اُن کے اندر بالکل جان نہیں۔ 20 لیکن خُداوند اپنی مُقدّس ہیکل میں سکُونت پذیر ہَے۔ اَے کُل جہان اُس کے حضُور خاموش رہ۔